المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1392
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - التَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا مِنَ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ .ترجمہ
ابونضرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ا، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”کھجور کا کھجور کے عوض تبادلہ، چاندی کے چاندی کے عوض تبادلے کے مقابلے میں اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے سود قرار دیا جائے۔“