المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ أَيْضًا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ دُونٌ ، فَابْتَعْتُ بِهِ مِنَ السُّوقِ تَمْرًا أَجْوَدَ مِنْهُ بِنِصْفِ كَيْلِهِ . فَقَدِمْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ ، فَقَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : انْطَلِقْ فَخُذْ تَمْرَكَ وَارْدُدْ هَذَا ! فَفَعَلْتُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ، فَمَا كَانَ مِنْ فَضْلٍ فَهُوَ رِبًا ! .
وَلَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَهَذَا الْإِسْنَادُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
1375 \ 2 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، بِهِ .اسحاق نے جریر، منصور، ابو وجزہ السعدی اور سعید بن مسیب کے واسطے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے بیان کیا: میرے پاس گھٹیا درجے کی کھجوریں تھیں، تو میں نے ان کے بدلے بازار سے ان کے آدھے پیمانے کے برابر ان سے عمدہ کھجوریں خرید لیں، پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے کیا تھا وہ آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جاؤ اور اپنی کھجوریں واپس لے لو اور یہ (عمدہ کھجوریں) لوٹا دو!“ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کھجور کے بدلے کھجور برابر سرابر، گندم کے بدلے گندم برابر سرابر، جو کے بدلے جو برابر سرابر، نمک کے بدلے نمک برابر سرابر، سونے کے بدلے سونا وزن میں برابر، اور چاندی کے بدلے چاندی وزن میں برابر ہونی چاہیے، پس جو کچھ بھی اس برابری سے زائد ہو وہ سود ہے!“ اور اس روایت کا ایک شاہد صحیح میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سے موجود ہے، نیز یہ سند حسن ہے، سوائے اس کے کہ سعید بن مسیب کا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے؛ اور اسے ابو یعلیٰ نے بھی ابو خیثمہ اور جریر کے واسطے سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔