المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1380
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُلَازِمٌ ، ثَنَا زُفَرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّحَيْمِيِّ ، وَكَانَ مِنْ جُلَسَاءِ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : وَسَأَلْتُهُ - يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ شِرَاءِ الشَّاةِ بِالشَّاتَيْنِ إِلَى أَجَلٍ ، فَقَالَ : لَا ، إِلَّا يَدًا بِيَدٍ .ترجمہ
مسدد نے اپنی سند سے روایت کیا کہ یزید بن عبد الرحمن السحیمی نے، جو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہمنشینوں میں سے تھے، بیان کیا کہ میں نے ان سے یعنی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک بکری کے بدلے دو بکریاں ادھار (کسی معینہ مدت) پر خریدنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں، (یہ جائز نہیں) مگر یہ کہ سودا ہاتھوں ہاتھ (یعنی نقد) ہو“۔