المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1364
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ فِي رَمَضَانَ ، وَلَمْ يَصُمْ رَمَضَانَ بَعْدَهُ ، يَقُولُ : الشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، قَفِيزًا بِقَفِيزٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، وَمَا زَادَ فَهُوَ رِبًا . الْحَدِيثَ .
أَصْلُهُ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَبِدُونِ هَذِهِ الزِّيَادَةِ .ترجمہ
احمد بن منیع رحمہ اللہ نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان المبارک میں جمعرات کی ایک رات انصار کی ایک مجلس میں یہ فرماتے ہوئے سنا، اور اس رمضان کے بعد آپ ﷺ نے زندگی میں پھر کوئی رمضان نہیں پایا (یعنی وہ آپ ﷺ کا آخری رمضان تھا)، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو کا تبادلہ جو کے ساتھ، برابر پیمانے (قفیز) کے عوض اور دست بدست ہونا چاہیے، اور جو اس پر اضافہ ہو وہ سود ہے““، مکمل حدیث؛ اس روایت کی اصل صحیح مسلم میں اس سیاق کے علاوہ اور ان زائد الفاظ کے بغیر موجود ہے۔