المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1366
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَنِ الْحِنْطَةِ بِالتَّمْرِ بِفَضْلٍ ، يَدًا بِيَدٍ ؟ فَقَالَ : قَدْ كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَشْتَرِي الصَّاعَ الْحِنْطَةَ بِسِتَّةِ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ ، يَدًا بِيَدٍ ، فَإِنْ كَانَ نَوْعًا وَاحِدًا فَلَا خَيْرَ فِيهِ ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ .ترجمہ
ابو زبیر المکی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے گندم کو کھجوروں کے عوض کمی بیشی کے ساتھ نقد سودے کی صورت میں خریدنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک صاع گندم چھ صاع کھجوروں کے بدلے ہاتھوں ہاتھ خریدا کرتے تھے، البتہ اگر جنس ایک ہی ہو تو پھر برابری کے بغیر اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ باہم برابر برابر ہوں۔“