❮
❯
حدیث نمبر: 1370
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - كَتَبَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ بِالشَّامِ : إِنَّكُمْ هَبَطْتُمْ أَرْضَ الرِّبَا ، فَلَا تَبْتَاعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ، وَلَا الطَّعَامَ بِالطَّعَامِ إِلَّا مِكْيَالًا بِمِكْيَالٍ .
قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ هُوَ ابْنُ الْكَلْبِيِّ ، مَتْرُوكٌ بِمَرَّةٍ . وَكَانَ إِسْحَاقُ أَخْرَجَ حَدِيثَهُ ; لِأَنَّ لَهُ أَصْلًا ، وَاسْتَشْهَدَ لَهُ بِالْمَوْقُوفِ الَّذِي بَعْدَهُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَأَبُو الْقَيْسِ أَظُنُّهُ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ عُلَيُّ بْنُ رَبَاحٍ ، وَمَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ ؟ .
ترجمہ

اسحاق نے ابوعامر العقدی کی سند سے ابوقیس سے روایت نقل کی کہ ”سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام میں موجود لشکروں کے سربراہوں کو تحریر فرمایا کہ: تم ایک ایسی زمین میں اترے ہو جہاں سود کا چلن ہے، لہٰذا تم سونے کے بدلے سونا فروخت نہ کرنا مگر وزن میں بالکل برابر، اور نہ ہی چاندی کے بدلے چاندی بیچنا مگر وزن میں بالکل برابر، اور نہ ہی غلے کے بدلے غلہ فروخت کرنا مگر پیمانے میں بالکل برابر۔“ میں (مصنف) کہتا ہوں کہ محمد بن السائب ہی دراصل ابن الکلبی ہے، جو کلی طور پر متروک ہے، اور امام اسحاق نے اس کی حدیث اس لیے روایت کی ہے کیونکہ اس کی ایک اصل موجود ہے، اور انہوں نے اس پر اس موقوف روایت سے استشہاد کیا ہے جو اس کے بعد مذکور ہے، نیز انہوں نے کہا کہ اس کی سند میں کوئی مضائقہ نہیں، اور میرا گمان ہے کہ ابو قیس، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں جن سے علی بن رباح نے سماع کیا ہے، اور میں یہ نہیں جانتا کہ آیا انہوں نے خود سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ بات براہِ راست سنی ہے یا اسے آپ کے مکتوب میں پڑھا ہے؟

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1370
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: لِأَنَّ لَهُ أَصْلًا ، وَاسْتَشْهَدَ لَهُ بِالْمَوْقُوفِ الَّذِي بَعْدَهُ ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَأَبُو الْقَيْسِ أَظُنُّهُ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ عُلَيُّ بْنُ رَبَاحٍ ، وَمَا أَدْرِي هَلْ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ ، أَمْ قَرَأَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ ؟ »
«أخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 5785»