❮
❯
حدیث نمبر: 1363
أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ : جَلَسَ إِلَيَّ وَأَنَا فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ ، وَفِي يَدِهِ عَصًا وَصَحِيفَةٌ يَحْمِلُهَا فِي يَدِهِ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ : دَخَلْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ ، فِي إِبِلٍ جَلَبْنَاهَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِنَبِيعَهَا ، قَالَ : وَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - صَدِيقًا لِأَبِي ، فَنَزَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبِي : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، اخْرُجْ مَعَنَا ، فَبِعْ لَنَا ظَهْرَنَا ، فَإِنَّهُ لَا عِلْمَ لَنَا بِهَذِهِ السُّوقِ قَالَ : أَمَّا أَنْ أَبِيعَ لَكَ فَلَا ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَكِنْ أَخْرُجُ مَعَكُمَا إِلَى السُّوقِ ، فَإِنْ رَضِيتُ لَكُمَا رَجُلًا مِمَّنْ يُبَايِعُكُمَا أَمَرْتُكُمَا بِبَيْعِهِ . قَالَ : فَخَرَجَ مَعَنَا ، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ السُّوقِ ، وَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ بِظَهْرِنَا ، حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا يُرْضِينَا أَتَيْنَاهُ ، فَاسْتَأْمَرْنَاهُ فِي بَيْعِهِ ، قَالَ : فَبَايِعُوهُ ، فَقَدْ رَضِيتُ لَكُمَا وَفَاءَهُ وَصَلَاتَهُ ، قَالَ : فَبَايَعْنَاهُ ، وَأَخَذْنَا الَّذِي لَنَا .
ترجمہ

امام ابو یعلیٰ نے بسندِ محمد بن اسحاق، بنو تمیم کے ایک بزرگ سے روایت کی ہے کہ وہ بزرگ حجاج بن یوسف کے دور میں بصرہ کی مسجد میں میرے پاس آ کر بیٹھے جبکہ ان کے ہاتھ میں ایک عصا اور ایک تحریر تھی جسے انہوں نے تھام رکھا تھا، پھر انہوں نے ایک واقعہ ذکر کیا جس میں یہ تھا کہ میں لڑکپن کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا، ہم کچھ اونٹ بیچنے کی غرض سے لائے تھے، وہ بتاتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ میرے والد کے دوست تھے، چنانچہ ہم نے ان کے ہاں قیام کیا تو میرے والد نے ان سے عرض کیا: ”اے ابو محمد! ہمارے ساتھ تشریف لے چلیں اور ہمارے یہ جانور بکوا دیں، کیونکہ ہمیں اس بازار کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے“، انہوں نے جواب دیا: ”جہاں تک تمہاری طرف سے فروخت کرنے کا تعلق ہے تو میں ایسا نہیں کروں گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان فروخت کرے“، البتہ میں تمہارے ساتھ بازار چلتا ہوں، پھر اگر میں خریداروں میں سے کسی ایسے شخص کو تمہارے لیے پسند کر لوں جو تم سے سودا کرے تو میں تمہیں اسے فروخت کرنے کا کہہ دوں گا“، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ ہمارے ساتھ نکلے اور بازار کے ایک گوشے میں بیٹھ گئے اور لوگ ہمارے جانوروں کا بھاؤ تاؤ کرنے لگے یہاں تک کہ جب ایک شخص نے ہمیں ایسی قیمت دی جس پر ہم راضی ہو گئے تو ہم سیدنا طلحہ کے پاس آئے اور اس کے ہاتھ فروخت کرنے کے بارے میں ان سے مشورہ کیا، انہوں نے فرمایا: ”تم اسے فروخت کر دو، کیونکہ میں تمہارے لیے اس کے عہد کی پاسداری اور اس کی نماز سے مطمئن ہوں“، راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اس کے ہاتھ سودا کر دیا اور اپنی رقم وصول کر لی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1363
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 3441، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 11022، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 643، وأخرجه مسند البزار برقم: 956»