المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1367
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ - هُوَ ابْنُ غِيَاثٍ - عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - يَبِيعُ مِنْ غِلْمَانِهِ النَّخْلَ ، السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ ، فَقَالَ لَهُ جَابِرٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : مَا عَلِمْتَ أَنْ لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ سَيِّدِهِ رِبًا .ترجمہ
مسدد، حفص بن غیاث اور ابوالعوام بصری نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے غلاموں کے ہاتھ کھجور کے درخت ایک سال، دو سال اور تین سال کی مدت کے لیے فروخت کیا کرتے تھے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں ان سے گفتگو کی، جس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ علم نہیں کہ غلام اور اس کے آقا کے مابین کوئی سود نہیں ہوتا۔““