المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الربا باب: سود کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرِ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ : جَاءَ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالُوا : نَحْنُ أَقْدَمُ سِنًّا مِنْكَ ، وَأَعْلَمُ بِرَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكَ ، أَرَأَيْتَ حِينَ تُحِلُّ الصَّرْفَ ؟ وَقَدْ سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنْهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنْ أُسَامَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَمْ يُخْرِجُوا هَذَا السِّيَاقَ عَنْ هَذِهِ الْعِدَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - وَإِسْمَاعِيلُ فِيهِ كَلَامٌ .محمد بن بکر نے اسماعیل بن عبد الملک اور عطاء کے واسطے سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے دس سے زائد صحابہ کرام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”ہم عمر میں آپ سے بڑے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا آپ سے زیادہ علم رکھتے ہیں، کیا آپ نے غور کیا کہ آپ بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) کو جائز قرار دیتے ہیں؟ حالانکہ ہم نے خود رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے“، پھر انہوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ذکر کی۔ یہ روایت صحیح میں موجود ہے، تاہم ائمہ حدیث نے صحابہ کی اتنی بڑی تعداد کے ذکر کے ساتھ اس سیاق کو نقل نہیں کیا، نیز اس کی سند میں شامل راوی اسماعیل کے بارے میں محدثین کا کلام موجود ہے۔