کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَمْ أَنْهَكِ عَنْ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ ؟ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ . " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالٍ : أَبِي الْمُعَلَّى ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین پرندے تحفے کے طور پر پیش کئے گئے ، آپ نے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لئے دے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کا گوشت لے آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ کل کے لئے کوئی چیز بچا کے نہیں رکھنی ہے ؟ اللہ تعالی روزانہ کا رزق عطا کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے جال ہیں ، صرف ہلال ابومعلیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے جال ہیں ، صرف ہلال ابومعلیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : إِنْ كَانَ السَّبْعَةُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيَمُصُّونَ التَّمْرَةَ الْوَاحِدَةَ ، وَأَكَلُوا الْخَبَطَ ، حَتَّى وَرِمَتْ أَشْدَاقُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سات اصحاب ایک کھجور چوستے تھے ، وہ لوگ پتے کھا لیتے تھے ، یہاں تک کہ ان کی باچھیں ورم آلود ہو گئی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ وَنَحْنُ سِتُّمِائَةِ رَجُلٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ ; نَتَلَقَّى عِيرَ قُرَيْشٍ ، فَمَا وَجَدَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ زَادٍ إِلَّا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، كُلَّ يَوْمٍ نَمُصُّهَا ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ ، فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا عَلَى الْخَبَطِ نَخْبِطُهُ بِعِصِيِّنَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ : فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " . - يَعْنِي لَحْمَ الْحُوتِ - فَقُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَطْعِمُونَا مِنْهُ " . فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ وَشِيقَةً فَأَكَلَهَا . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : وَنَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ ، وَهُنَا قَالَ : سِتُّمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جنگی مہم پر بھیجا ، ہم چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ، ہم نے قریش کے قافلے کا سامنا کرنا تھا ، ہمیں زاد سفر کے طور پر دینے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا دستیاب ہوا ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روز ایک ایک کھجور دیتے تھے جسے ہم چوس لیتے تھے اور اس کے بعد پانی پی لیتے تھے جب وہ ختم ہو گئیں ، تو ہمیں ان کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہوئی ، پھر ہم اپنی چھڑیوں کے ذریعے پتے اتار لیتے تھے اور ان کے بعد پانی پی لیتے تھے ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس اس میں سے ( یعنی بڑی مچھلی کے گوشت میں سے ) کوئی چیز ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ ! ( راوی کہتے ہیں : ) تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اُس کا گوشت بھیجا تو وہ آپ نے کھا لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے پوری طویل حدیث نقل کی ہے اور
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم تین سو افراد تھے ۔ “ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم تین سو افراد تھے ۔ “ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ بِالْمَدِينَةِ يَنْزِلُ عَلَيْهِ نَزَلَ بِأَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، وَكَانَ لِي بِهَا قُرَنَاءُ ، فَكَانَ يَجْرِي عَلَيْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ يَوْمَيْنِ اثْنَيْنِ مُدَّانِ مِنْ تَمْرٍ ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ إِذْ نَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ . فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ ، قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الشِّدَّةِ ، قَالَ : " مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَوَاسَوْنَا فِي طَعَامِهِمْ ، وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ وَاللَّبَنُ . وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ ، وَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ تُدْرِكُوا زَمَانًا - أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ - يَلْبَسُونَ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، يُغْدَى عَلَيْكُمْ وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : كَانَ أَحَدُنَا إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ الصُّفَّةَ ، فَوَافَقْتُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَكَانَ يُجْرِي عَلَيْنَا كُلَّ يَوْمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُدَّيْنِ اثْنَيْنِ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اس کا مدینہ منورہ میں کوئی واقف نہ ہوتا ، جس کے پاس وہ ٹھہر سکے ، تو وہ اصحاب صفہ کے ساتھ ٹھہر جاتا تھا ، وہاں میرے بھی کچھ ساتھی ٹھہرے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہمیں روزانہ دو دو مد کھجوریں لا دیتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کسی نے پکار کر آپ کو مخاطب کیا : یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا ہے اور موٹے کپڑوں نے ہمارے جسموں کو جلا دیا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے اس بات کا ذکر کیا کہ آپ کو لوگوں کی طرف سے کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں اور میرے ساتھی دس سے زیادہ دن ایسی حالت میں گزار دیتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ، صرف پیلو کے درخت کا پھل ہوتا تھا ، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آ گئے تو انہوں نے کھانے کے حوالے سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ، ان کی خوراک زیادہ تر کھجور اور دودھ ہوتی تھی ، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اگر مجھے تمہیں کھلانے کے لیے روٹی اور گوشت دستیاب ہو تو میں تمہیں وہ بھی کھلاؤں ، ایسا ہو گا کہ تم ایسا زمانہ پاؤ گے ( یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کہ اس زمانے میں لوگ ایسے ( عمدہ قسم کے ) کپڑے پہنیں گے ، جیسے خانہ کعبہ کے پردے ہوتے ہیں اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اُن کے پاس ( مختلف قسم کے کھانوں کے ) پیالے لائے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم میں سے کوئی ایک جب مدینہ منورہ آتا تھا اور وہاں اس کا کوئی واقف کار ہوتا تھا تو وہ اس واقف شخص کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور اگر وہاں اس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا تو وہ صفہ کے چبوترے پر ٹھہر جاتا تھا ، میں مدینہ منورہ آیا اور صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا میرے ساتھ دو اور آدمی بھی وہاں ٹھہرے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں روزانہ دو مد ملتے تھے ۔ “ باقی کی روایت حسب سابق ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم میں سے کوئی ایک جب مدینہ منورہ آتا تھا اور وہاں اس کا کوئی واقف کار ہوتا تھا تو وہ اس واقف شخص کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور اگر وہاں اس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا تو وہ صفہ کے چبوترے پر ٹھہر جاتا تھا ، میں مدینہ منورہ آیا اور صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا میرے ساتھ دو اور آدمی بھی وہاں ٹھہرے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں روزانہ دو مد ملتے تھے ۔ “ باقی کی روایت حسب سابق ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ مَنْ كَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ ، فَلَمْ يَكُنْ لِي عَرِيفٌ ; فَنَزَلْتُ الصُّفَّةَ ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمْعَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُوشِكُونَ أَنَّ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ يُغْدَى عَلَيْهِ بِالْجِفَانِ وَيُرَاحُ ، وَتَكْتَسُونَ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جس شخص کا کوئی واقف کار ہوتا تھا وہ اپنے واقف کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور جس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا وہ صفہ پر ٹھہر جاتا تھا ، میرا کیونکہ وہاں کوئی واقف نہیں تھا اس لئے میں صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا ، جمعہ کے دن ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ کہا: یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص زندہ رہ گیا ، تو وہ عنقریب ایسی صورتحال پائے گا کہ صبح و شام اس کے پاس ( مختلف قسم کے کھانوں کے ) پیالے لائے جائیں گے اور تم لوگ یوں لباس پہنو گے جس طرح خانہ کعبہ پر پردے لٹکائے جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجُوعِ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ : " أَبْشِرُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُغْدَى عَلَى أَحَدِكُمْ بِالْقَصْعَةِ مِنَ الثَّرِيدِ ، وَيُرَاحُ عَلَيْهِ بِمِثْلِهَا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے چہروں میں بھوک ملاحظہ کی تو ارشاد فرمایا : تم لوگ خوش خبری قبول کرو ، کیونکہ عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا جب تم میں سے کسی ایک کو ثرید کا پیالہ صبح کے وقت دیا جائے گا اور ویسا ہی شام کے وقت دیا جائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت زیادہ بہتر حالت میں ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم آج اس وقت کے مقابلے میں زیادہ بہتر حالت میں ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غُذِيَ عَلَى أَحَدِكُمْ صَحِيفَةٌ وَرَاحَتْ أُخْرَى ، وَغَدَا فِي حُلَّةٍ ، وَرَاحَ فِي أُخْرَى ، وَتَكْسُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُكْسَى الْكَعْبَةُ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ، قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ میں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ آج زیادہ بہتر حالت میں ہو ؟ یا اس وقت ہو گے جب تم میں سے کسی ایک کے پاس صبح کے وقت ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا لایا جائے گا ، صبح کے وقت ایک حلہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا لایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر یوں پردے لٹکاؤ گے ، جس طرح خانہ کعبہ پر کپڑا لٹکایا جاتا ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت بہتر حالت میں ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ تم آج بہتر حالت میں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوجعفر خطمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوجعفر خطمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا حَتَّى تُنَجِّدُوا بُيُوتَكُمْ كَمَا تُنَجَّدُ الْكَعْبَةُ " . قُلْنَا : وَنَحْنُ عَلَى دِينِنَا الْيَوْمَ ؟ قَالَ : " وَأَنْتُمْ عَلَى دِينِكُمُ الْيَوْمَ " . قُلْنَا : فَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أَمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَبَّاسِ الشِّبَامِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تمہارے لیے دنیا کو فتح کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ تم اپنے گھروں میں یوں پردے لٹکاؤ گے جس طرح خانہ کعبہ پر کپڑا لٹکایا جاتا ہے ۔ “ ہم نے عرض کی : ہم اپنے اسی دین پر ہوں گے جس پر آج ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے اسی دین پر ہو گے جس پر آج ہو ، ہم نے عرض کی : تو ہم اس وقت زیادہ بہتر ہوں گے یا آج زیادہ بہتر ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ تم لوگ آج زیادہ بہتر ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالجبار بن عباس شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالجبار بن عباس شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ : أَكَلْتُ ثَرِيدًا وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَجَشَّأْتُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا جُحَيْفَةَ ، إِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ثرید کھایا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، مجھے آپ کے پاس ڈکار آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوجحیفہ ! قیامت کے دن سب سے زیادہ طویل بھوکے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں زیادہ سیر رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَعْرِضُ سَيْفًا لَهُ فِي رَحْبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يَشْتَرِي مِنِّي سَيْفِي هَذَا ؟ فَوَاللَّهِ ، لَقَدْ جَلَوْتُ بِهِ غَيْرَ كُرْبَةٍ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَنَّ عِنْدِي ثَمَنَ إِزَارٍ مَا بِعْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن اقمر ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کوفہ کے میدان میں اپنی تلوار لہرائی اور یہ فرمایا : کون مجھ سے میری یہ تلوار خریدے گا ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اس کے ذریعے کئی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا ہے اور اگر میرے پاس تہبند خریدنے کی رقم ہوتی تو میں نے اسے فروخت نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : كُنَّا فِي غَزَاةٍ لَنَا ، فَلَقِينَا أُنَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَجْهَضْنَاهُمْ عَنْ مَلَّةٍ لَهُمْ فَوَقَعْنَا فِيهَا ، فَجَعَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا ، وَكُنَّا نَسْمَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنَّ مَنْ أَكَلَ الْخُبْزَ سَمِنَ ، فَلَمَّا أَكَلْنَا ذَلِكَ الْخَبْزَ شَرَعَ أَحَدُنَا يَنْظُرُ فِي عِطْفَيْهِ هَلْ سَمِنَ ؟
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک جنگی مہم میں شریک تھے ، ہمارا سامنا مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے ہوا ، ہم نے انہیں ایسی جگہ سے پسپا کر دیا جہاں روٹیاں پکائی جا رہی تھیں ، ہم ۔ نے وہ روٹیاں قبضے میں لیں اور انہیں کھانا شروع کر دیا ، ہم نے زمانہ جاہلیت میں یہ بات سن رکھی تھی کہ جو شخص وہ روٹی کھاتا ہے ، وہ موٹا ہو جاتا ہے ، جب ہم نے وہ روٹیاں کھا لیں ، تو ہم نے اپنے پہلوؤں کا جائزہ لیا کہ کیا وہ موٹے ہوئے ہیں ؟
وَفِي رِوَايَةٍ : كُنَّا يَوْمَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجْهَضْنَاهُمْ عَنْ خُبْزَةٍ لَهُمْ مِنْ نَقِيٍّ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم نے ان لوگوں کو ایک ایسی جگہ سے پسپا کر دیا جہاں چھنے ہوئے آنے کی روٹیاں موجود تھیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ قَالَ : كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ سَلْمَانَ عَلَى شَطِّ دِجْلَةَ ، فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ ، انْزِلْ فَاشْرَبْ ، فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : مَا نَقَصَ شَرَابُكَ مِنْ دِجْلَةَ ؟ قُلْتُ : مَا عَسَى أَنْ يَنْقُصَ ؟ قَالَ : فَإِنَّ الْعِلْمَ كَذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَا يَنْقُصُ . ثُمَّ قَالَ : ارْكَبْ ، فَمَرَرْنَا بِأَكْدَاسٍ مِنْ حِنْطَةٍ وَشَعِيرٍ ، فَقَالَ : أَفَتَرَى هَذَا ؟ فُتِحَ لَنَا ، وَقُتِّرَ عَلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَيْرٍ لَنَا وَشَرٍّ لَهُمْ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي وَلَكِنِّي أَدْرِي شَرٌّ لَنَا ، وَخَيْرٌ لَهُمْ ، قَالَ : مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَوَالِيَةٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
عبس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دریائے دجلہ کے کنارے چلتا ہوا جا رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے بنو عبس سے تعلق رکھنے والے فرد ! نیچے اترو اور پی لو ! میں نے پی لیا ، پھر انہوں نے فرمایا : پی لو میں نے پی لیا ، انہوں نے فرمایا : تمہارے پینے نے دریائے دجلہ ( کے پانی ) میں کتنی کمی کی ہے ؟ میں نے کہا: شاید ہی کوئی کمی کی ہو ، انہوں نے فرمایا : علم بھی اسی طرح ہے ، اس میں سے لیا جاتا ہے لیکن وہ کم نہیں ہوتا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ہم گندم اور جو کے ڈھیروں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہمارے لئے فتح ہے ؟ اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی زندگی مشکل تھی ، تو ہماری صورت حال بہتر ہے اور ان کی بری تھی ؟ میں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، انہوں نے فرمایا : لیکن مجھے معلوم ہے ، ہماری صورتحال بری ہے ان کی بہتر تھی ، پھر انہوں نے بتایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مسلسل تین دن تک سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا ، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : كُنْتُ فِي بَعْضِ حُجَرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَهَا ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَشْتَكِي إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ : " اصْبِرْ ، فَوَاللَّهِ ، مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ شَيْءٌ مُنْذُ سَبْعٍ ، وَلَا أُوقِدَ تَحْتَ بُرْمَةٍ لَهُمْ مُنْذُ ثَلَاثٍ ، وَاللَّهِ ، لَوْ سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ جِبَالَ تِهَامَةَ كُلَّهَا ذَهَبًا لَفَعَلَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے حجرے میں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس زوجہ محترمہ کے ہاں تھے ، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے حاجت مند ہونے کی شکایت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم صبر سے کام لو ! اللہ کی قسم ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کے پاس پچھلے سات دنوں سے ( دینے کے لیے ) کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی پچھلے تین دنوں سے اُن کی ہنڈیا کے نیچے آگ جلی ہے ، اللہ کی قسم ! اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں کہ وہ تہامہ کے تمام پہاڑوں کو سونے کا بنا دے ، تو وہ ایسا کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے جس میں بہت زیادہ ضعف ہونے کے باوجود ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے جس میں بہت زیادہ ضعف ہونے کے باوجود ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أَلُومُهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَخَرَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنَتِي وَهِيَ تَحْتَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، فَوَجَدْتُ شُرَحْبِيلَ فِي الْبَيْتِ فَقُلْتُ : قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْبَيْتِ ؟ ! وَجَعَلْتُ أَلُومُهُ ، فَقَالَ : يَا خَالَةُ لَا تَلُومِينِي ; فَإِنَّهُ كَانَ لِي ثَوْبٌ فَاسْتَعَارَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي كُنْتُ أَلُومُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ ، وَهَذِهِ حَالُهُ وَلَا أَشْعُرُ . فَقَالَ شُرَحْبِيلُ : مَا كَانَ إِلَّا دِرْعٌ رَقَعْنَاهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تاکہ آپ سے کچھ مانگوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے معذرت کرتے رہے اور میں اصرار کرتی رہی ، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا ، میں وہاں سے نکلی اور اپنی بیٹی کے پاس آ گئی ، جو شرحبیل بن حسنہ کی بیوی تھی ، میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا ، میں نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا ہے اور تم گھر میں موجود ہو ؟ میں نے اسے ملامت کرنی شروع کی ، اس نے کہا: اے خالہ جان ! آپ مجھے ملامت نہ کریں ، میرے پاس ( باہر پہن کے جانے کے لیے ) ایک ہی کپڑا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت کے طور پر مجھ سے لے لیا ہے ( راوی خاتون کہتی ہیں : ) میں نے سوچا ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، میں تو آج ان کے سامنے اصرار کرتی رہی ہوں اور ان کی یہ حالت ہے اور مجھے اس کا پتہ بھی نہیں تھا ، تو شرحبیل نے بتایا ( جو کپڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت کے طور پر لیا ہے ) وہ ایک قمیص ہے ، جس پر ہم نے پیوند لگائے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَكْثَرَ مَالٍ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، قَدِمَ عَلَيْهِ فِي جُنْحِ اللَّيْلِ خَرِيطَةٌ فِيهَا ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَصَحِيفَةٌ ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ - وَكَانَتْ لَيْلَتِي - ثُمَّ انْقَلَبَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَصَلَّى فِي الْحُجْرَةِ فِي مُصَلَّاهُ ، وَقَدْ مَهَّدْتُ لَهُ وَلِنَفْسِي ، فَأَنَا أَنْتَظِرُ فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى دُعِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ تِلْكَ الْخَرِيطَةُ الَّتِي فَتَنَتْنِي الْبَارِحَةَ ؟ " . فَدَعَا بِهَا فَقَسَّمَهَا . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ ، فَقَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي فَأُوتَى بِهَا ، فَأَنْصَرِفُ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهَا ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُصَلِّي " . ¤ قُلْتُ : تَقَدَّمَ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي بَابِ الْإِنْفَاقِ ، وَأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيَ أَنْ يُتَوَفَّى قَبْلَ أَنْ يُقَسِّمَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُهَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ کے پاس جو سب سے زیادہ مال آیا ہے ، میں اس کے بارے میں جانتی ہوں ، ایک مرتبہ رات کے وقت آپ کے پاس ایک تھیلی آئی تھی ، جس میں آٹھ سو درہم تھے اور ایک صحیفہ تھا ، وہ آپ نے میری طرف بھجوا دیے کیونکہ وہ میری باری کی مخصوص رات تھی ، عشاء کی نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ نے حجرہ میں اپنی نماز کی مخصوص جگہ پر نماز ادا کرنا شروع کی ، میں نے آپ کے لئے اور اپنے لئے بستر بچھا دیا تھا ، میں انتظار کرتی رہی ، آپ خاصی دیر نماز ادا کرتے رہے ، پھر آپ جائے نماز سے تشریف لائے ، پھر واپس چلے گئے ، مسلسل ایسا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ صبح کی نماز کے لئے اذان ہو گئی ( یا آپ کو صبح کی نماز کے لیے بلا لیا گیا ) آپ نماز پڑھ کر واپس تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ تھیلی کہاں ہے ؟ جس نے گزشتہ رات مجھے آزمائش کا شکار کیے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا اور اس رقم کو تقسیم کر دیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران یہ آ گئے ، میں نے نماز ختم کی ، پھر ان کو دیکھا ، پھر دوبارہ نماز ادا کرنا شروع کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ، خرچ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ رقم تقسیم کرنے سے پہلے آپ کا وصال نہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض عمدہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض عمدہ ہیں ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا اللَّهَ ; فَإِنَّكُمْ إِنِ اتَّقَيْتُمُ اللَّهَ يُشْبِعْكُمْ مِنْ زَيْتِ الشَّامِ ، وَقَمْحِ الشَّامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے لوگو ! اللہ سے ڈرو ! کیونکہ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ عنقریب تمہیں شام کا زیتون کا تیل اور شام کی گندم سیر ہو کر کھانے کے لئے عطا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحسین بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحسین بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَنْتُمْ أَكْثَرُ صَلَاةً ، وَأَكْثَرُ اجْتِهَادًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ ، قَالُوا : بِمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا أَزْهَدَ فِي الدُّنْيَا ، أَرْغَبَ فِي الْآخِرَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَارَةُ بْنُ يَزِيدَ صَاحِبُ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے زیادہ ( نفلی ) نمازیں ادا کرتے ہو اور زیادہ اہتمام سے عبادت کرتے ہو لیکن وہ لوگ تم سے بہتر تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! وہ کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا : کیونکہ وہ لوگ دنیا سے زیادہ بے رغبت تھے اور آخرت کی طرف زیادہ رغبت رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن یزید ہے جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن یزید ہے جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ : قَالَ بِيعَ مَتَاعُ سَلْمَانَ ، فَبَلَغَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن بذیمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا سامان فروخت کیا گیا تو اس کی قیمت 14 درہم تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
وَعَنْ سَلْمَى - امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالُوا : اصْنَعِي لَنَا طَعَامًا مِمَّا كَانَ يُعْجِبُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْلُهُ ، قَالَتْ : يَا بَنِيَّ ، إِذًا لَا تَشْتَهُونَهُ الْيَوْمَ ، فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ شَعِيرًا فَطَحَنْتُهُ ، وَنَسَفْتُهُ ، وَجَعَلْتُ مِنْهُ خُبْزَةً ، وَكَانَ أُدْمُهُ الزَّيْتَ ، وَنَثَرْتُ عَلَيْهِ الْفُلْفُلَ ، فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِمْ وَقُلْتُ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فَايِدٍ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میرے ہاں آئے ، انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے بھی وہ کھانا تیار کریں ، جو کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے ، اس خاتون نے کہا: اے میرے بیٹو ! آج تمہیں اس کی خواہش نہیں ہو گی ، وہ خاتون کہتی ہے : میں اُٹھی میں نے کچھ جو لیے ، اُنہیں پیسا ، انہیں چھانا اور ان کی روٹی پکائی ، روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر زیتون کا تیل تھا ، میں نے اس پر کچھ مرچیں رکھ دیں ، پھر میں نے وہ کھانا اُن حضرات کے آگے رکھا ، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف فائد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف فائد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحَسِبْتَ أَنَّمَا رِيحُنَا رِيحُ الضَّأْنِ ، إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ ، وَطَعَامُنَا الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کاش تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے تو تم یہ گمان کرتے کہ ہمارے اندر سے بھیڑوں کی بو آ رہی ہے ، کیونکہ ہمارا لباس اونی ہوتا تھا اور ہماری خوراک دو سیاہ چیزیں ، یعنی کھجور اور پانی ہوتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ وَعَسَلٌ ، فَقَالَ : " شَرْبَتَيْنِ فِي شَرْبَةٍ ، وَأُدْمَيْنِ فِي قَدَحٍ ، لَا حَاجَةَ لِي بِهِ ، أَمَا إِنِّي لَا أَزْعُمُ أَنَّهُ حَرَامٌ ، أَكْرَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي اللَّهُ عَنْ فُضُولِ الدُّنْيَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَتَوَاضَعُ لِلَّهِ ، فَمَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَكْثَرَ ذِكْرَ الْمَوْتِ أَحَبَّهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ مُوَرِّعٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں دودھ اور شہد موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مشروب میں پینے کی دو چیزیں اور ایک پیالے میں دو طرح کے سالن ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ حرام ہے لیکن مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے اضافی چیزوں کے بارے میں سوال کرے ، میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہوں ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے اور جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے پست کر دیتا ہے ، جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے خوش حال کر دیتا ہے اور جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع عنبری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع عنبری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنْ كَانَ لَتَمُرُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَهِلَّةُ مَا يُسْرَجُ فِي بَيْتِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سِرَاجٌ ، وَلَا يُوقَدُ فِيهِ نَارٌ ، وَإِنْ وَجَدُوا زَيْتًا ادَّهَنُوا بِهِ ، وَإِنْ وَجَدُوا وَدَكًا أَكَلُوهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر پہلی کے کئی چاند گزر جاتے تھے اور اس دوران اُن میں سے کسی ایک کے گھر میں ( رات کے وقت روشنی کرنے کے لئے ) چراغ نہیں جلایا گیا ہوتا تھا ، یا ( کھانا پکانے کے لئے ) آگ نہیں جلائی گئی ہوتی تھی ، اگر انہیں زیتون کا تیل ملتا تھا ، تو وہ اسے لگا لیتے تھے اور اگر چربی ملتی تھی ، تو وہ اسے کھا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ ضعیف ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ ضعیف ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي الَّذِي يَلْحَقُنِي عَلَى مَا عَاهَدْتُهُ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو مجھ سے اسی حالت میں آ کر ملے گا جس حالت پر میں مسلسل رہا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبٌ أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَتْرُكُ مِنْهُ دِينَارًا إِلَّا دِينَارًا أُعِدُّهُ لِغَرِيمٍ إِنْ كَانَ " . ¤ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا تَرَكَ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا وَلِيدَةً ، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے لیے سونے کا ہو جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں ، اور پھر جس دن میرا انتقال ہو ، میں نے اس میں سے ایک دینار چھوڑ دیا ہو ( یعنی اس کو خرچ نہ کیا ہو ) البتہ اس دینار کا معاملہ مختلف ہے جو میں نے کسی قرض خواہ کے لیے رکھا ہو ، اگر وہ ( یعنی کوئی قرض ) ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ نے کوئی بھی دینار یا درہم یا غلام یا کنیز نہیں چھوڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ چھوڑی تھی جو کہ تیس صاع کے عوض میں رہن رکھی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُزَمَّلٌ بِشَرِيطٍ ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَدَخَلَ عُمَرُ ، فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْحِرَافَةً ، فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا ، وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى ; فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ ؟ " . قَالَ : وَاللَّهِ ، مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، وَهُمَا يَعِيثَانِ فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى ؟ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ ؟ ! " . فَقَالَ عُمَرُ : بَلَى . قَالَ : " فَإِنَّهُ كَذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے جو بان ( یا رسی ) سے بنا ہوا تھا ، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، آپ کے کچھ اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلو بدلا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو اور چارپائی کے بان کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور اس وجہ سے بان کا نشان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر بن گیا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ اے عمر ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نہ روتا اگر مجھے اس بات کا علم نہ ہوتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسریٰ اور قیصر سے زیادہ معزز ہیں ، اور وہ ( یعنی قیصر و کسریٰ ) ہر طرح کی ناز و نعمت میں رہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کی یہ صورت حال ہے جو مجھے دکھائی دے رہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ اُن لوگوں کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی میں اس سے راضی ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو ایسا ہی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جِسْمِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا ، فَقَالَ : " مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر تھے ، جس کا نشان آپ کے جسم پر بن گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کوئی بچھونا بچھا لیتے تو اس کا نشان نہیں بننا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ کیا واسطہ ؟ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری اور دنیا کی مثال اُس سوار کی مانند ہے جو ایک گرم دن میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور گھڑی بھر کے لیے کسی درخت کے سائے میں آ جاتا ہے اور پھر وہاں سے روانہ ہو جاتا ہے اور اُس ( درخت یا سائے ) کو وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ كَأَنَّهَا بَيْتُ حَمَامٍ ، وَهُوَ نَائِمٌ عَلَى حَصِيرٍ ، قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ ، فَبِكَيْتُ فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَطْوُونَ عَلَى الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ ، وَأَنْتَ نَائِمٌ عَلَى هَذَا الْحَصِيرِ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِكَ ؟ فَقَالَ : " فَلَا تَبْكِ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَإِنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ ، وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا ، وَمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَمَثَلِ رَاكِبٍ نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، ثُمَّ سَارَ وَتَرَكَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت بالاخانے میں موجود تھے جو حمام کی طرح ( گرم ) تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے ہوئے تھے جس کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا تھا ، میں رو پڑا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر خز دیباج ، حریر ( یعنی ریشم کی مختلف قسموں ) پر چلتے ہیں اور آپ اس چٹائی پر سوئے ہوئے ہیں ، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ ! تم نہ روؤ ! کیونکہ ان لوگوں کے لئے دنیا ہے اور ہمارے لئے آخرت ہو گی ، میرا دنیا کے ساتھ کیا واسطہ ؟ میری اور دنیا کی مثال اُس سوار کی مانند ہے جو کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کرتا ہے اور پھر روانہ ہو جاتا ہے اور اُسے وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ : أَصَابَتْ إِصْبُعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَجَرَةٌ فَدَمِيَتْ ، فَقَالَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ؟ " فَحُمِلَ فَوُضِعَ عَلَى سَرِيرٍ مُزَمَّلٍ بِخُوصٍ أَوْ شَرِيطٍ ، وَوُضِعَ تَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَأَثَّرَ الشَّرِيطُ فِي جَنْبِهِ ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَبَكَى ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَجْلِسُونَ عَلَى سُرُرِ الذَّهَبِ ، وَيَلْبَسُونَ الدِّيبَاجَ وَالْإِسْتَبْرَقَ ؟ قَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَكُمُ الْآخِرَةَ ؟ ! " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ زِيَادٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انگلی درخت کے ذریعے زخمی ہو گئی اور اس میں سے خون نکل آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: ” تم صرف ایک انگلی ہو ، جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا گیا اور آپ کو ایک ایسی چارپائی پر لٹایا گیا ، جو بان والی تھی ، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا بنا ہوا تکیہ رکھا گیا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اس بان کا نشان آپ کے پہلو پر لگ گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ رونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر سونے کے پلنگوں پر بیٹھتے ہیں اور دیباج اور استبرق پہنتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ اُن کو دنیا ملی ہے اور تمہیں آخرت مل جائے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” تم صرف ایک انگلی ہو جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن زیاد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن زیاد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيرٌ مُشَبَّكٌ بِالْبُورِيِّ ، وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ أَسْوَدُ ، فَأَجْلَسْنَاهُ عَلَى الْبُورِيِّ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَلَيْهِ ، فَنَظَرَا فَرَأَيَا أَثَرَ السَّرِيرِ فِي جَنْبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكُمَا ؟ " . قَالَا : نَبْكِي لِأَنَّ هَذَا السَّرِيرَ قَدْ أَثَّرَتْ فِي جَنْبِكَ خُشُونَتُهُ ، وَكِسْرَى وَقَيْصَرُ عَلَى فُرُشِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عَاقِبَةَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ إِلَى النَّارِ ، وَعَاقِبَةَ سَرِيرِي هَذَا إِلَى الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ نَزِيلُ نَيْسَابُورَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پلنگ تھا ، جس میں بان لگا ہوا تھا ، آپ کے جسم پر سیاہ رنگ کی چادر تھی ، ہم نے آپ کو بان پر بٹھا دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بان کی چارپائی پر تشریف فرما تھے ، اُن دونوں حضرات نے دیکھا کہ بان کا نشان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر بن گیا ہے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا : تم دونوں کیوں رو رہے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی : ہم اس لئے رو رہے ہیں کیونکہ اس چارپائی کھردرے پن کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا ہے جبکہ کسریٰ اور قیصر ریشم اور دیباج کے بچھونوں پر ہوتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسریٰ اور قیصر کا انجام جہنم ہے اور میرے اس پلنگ کا انجام جنت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی نزیل نیشاپور ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی نزیل نیشاپور ہے اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ - قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسَبُهُ قَالَ : - شَهْرًا ، قَالَ : فَأَتَاهُ عُمَرُ ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِجَنْبِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى - أَحْسَبُهُ قَالَ : قَيْصَرُ - يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَأَنْتَ هَكَذَا ؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا " . وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے لاتعلقی اختیار کی ۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک ماہ تک کے لئے لاتعلقی اختیار کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر موجود تھے اور چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ کی یہ صورت حال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں جلدی دے دی گئی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تیسری مرتبہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند رکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیچ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیچ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّهُ أَتَى فَاطِمَةَ فَقَالَ لَهَا : إِنِّي لَأَشْتَكِي صَدْرِي مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ ; فَقَالَتْ : وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَشْتَكِي يَدِي مِمَّا أَطْحَنُ بِالرَّحَى ، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ : ائْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ يُخْدِمُكِ خَادِمًا ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَاءَ بِكِ ؟ " . قَالَتْ : جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ قَالَتْ : وَاللَّهِ ، مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَيْبَتِهِ ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَاءَ بِكُمَا ؟ لَقَدْ جَاءَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - بِكُمَا حَاجَةٌ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَكَوْتُ إِلَى فَاطِمَةَ مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ ، فَشَكَتْ إِلَيَّ يَدَيْهَا مِمَّا تَطْحَنُ بِالرَّحَى ، فَأَتَيْنَاكَ لِتُخْدِمَنَا خَادِمًا مِمَّا آتَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : " لَا . وَلَكِنِّي أُنْفِقُ - أَوْ أُنْفِقُهُ - عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ الَّذِينَ تُطْوَى أَكْبَادُهُمْ مِنَ الْجُوعِ ، لَا أَجِدُ مَا أُطْعِمُهُمْ " . ¤ قَالَ : فَلَمَّا رَجَعَا وَأَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا مِنَ اللَّيْلِ ، أَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا فِي الْخَمِيلِ - وَالْخَمِيلُ : الْقَطِيفَةُ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَهَا بِهَا ، وَبِوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ ، وَكَانَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ حِينَ رَدَّهُمَا شَقَّ عَلَيْهِمَا ، فَلَمَّا سَمِعَا حِسَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَا لِيَقُومَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَكَانَكُمَا " . ثُمَّ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى طَرَفِ الْخَمِيلِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمَا جِئْتُمَا لِأُخْدِمَكُمَا خَادِمًا ، وَإِنِّي سَأَدُلُّكُمَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ ، تَحْمَدَانِ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَتُسَبِّحَانِ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا ، وَتُسَبِّحَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرَانِهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ " . قُلْتُ : حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے بھی ہاتھوں میں درد ہوتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خادم مانگ لو ، جو تمہاری خدمت کرے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں آئی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی ، جب وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں کس وجہ سے آئے ہو ؟ تم دونوں کسی کام کے سلسلے میں آئے ہو گے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے فاطمہ کے سامنے یہ شکایت کی کہ بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور فاطمہ نے یہ کہا: کہ اسے آنا پیسنے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے آپ ہمیں کوئی خادم دیدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! میں یہ رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا ، جن کے جگر بھوک کی وجہ سے لپٹے رہتے ہیں اور مجھے انہیں کھلانے کے لئے کچھ دستیاب نہیں ہوتا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ دونوں واپس آ گئے ، جب وہ دونوں رات کے وقت سونے کے لئے لیٹے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے آئے وہ دونوں اس وقت لحاف میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وہ لحاف جہیز میں دیا تھا اور ایک تکیہ دیا تھا ، جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی درخواست مسترد کی تھی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بہت گراں گزری تھی ، جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس کی تو وہ دونوں اُٹھنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لحاف کے کنارے پر بیٹھ گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس لیے آئے تھے تاکہ میں تمہیں کوئی خدمتگار دیدوں ، میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف کرتا ہوں جو تمہارے لئے خدمت گزار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ، تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ الحمدللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، اور جب رات کے وقت تم دونوں سونے کے لیے لیٹو تو 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمدلله 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، یہ ایک سو ہو جائیں گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سے مختصر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔