مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبٌ أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَتْرُكُ مِنْهُ دِينَارًا إِلَّا دِينَارًا أُعِدُّهُ لِغَرِيمٍ إِنْ كَانَ " . ¤ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا تَرَكَ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا وَلِيدَةً ، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے لیے سونے کا ہو جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں ، اور پھر جس دن میرا انتقال ہو ، میں نے اس میں سے ایک دینار چھوڑ دیا ہو ( یعنی اس کو خرچ نہ کیا ہو ) البتہ اس دینار کا معاملہ مختلف ہے جو میں نے کسی قرض خواہ کے لیے رکھا ہو ، اگر وہ ( یعنی کوئی قرض ) ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ نے کوئی بھی دینار یا درہم یا غلام یا کنیز نہیں چھوڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زرہ چھوڑی تھی جو کہ تیس صاع کے عوض میں رہن رکھی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔