حدیث نمبر: 18300
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ كَأَنَّهَا بَيْتُ حَمَامٍ ، وَهُوَ نَائِمٌ عَلَى حَصِيرٍ ، قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ ، فَبِكَيْتُ فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَطْوُونَ عَلَى الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ ، وَأَنْتَ نَائِمٌ عَلَى هَذَا الْحَصِيرِ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِكَ ؟ فَقَالَ : " فَلَا تَبْكِ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَإِنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ ، وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا ، وَمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَمَثَلِ رَاكِبٍ نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، ثُمَّ سَارَ وَتَرَكَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت بالاخانے میں موجود تھے جو حمام کی طرح ( گرم ) تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے ہوئے تھے جس کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا تھا ، میں رو پڑا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر خز دیباج ، حریر ( یعنی ریشم کی مختلف قسموں ) پر چلتے ہیں اور آپ اس چٹائی پر سوئے ہوئے ہیں ، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ ! تم نہ روؤ ! کیونکہ ان لوگوں کے لئے دنیا ہے اور ہمارے لئے آخرت ہو گی ، میرا دنیا کے ساتھ کیا واسطہ ؟ میری اور دنیا کی مثال اُس سوار کی مانند ہے جو کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کرتا ہے اور پھر روانہ ہو جاتا ہے اور اُسے وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18300
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10327)»