حدیث نمبر: 18275
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ وَنَحْنُ سِتُّمِائَةِ رَجُلٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ ; نَتَلَقَّى عِيرَ قُرَيْشٍ ، فَمَا وَجَدَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ زَادٍ إِلَّا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ ، فَكَانَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً ، كُلَّ يَوْمٍ نَمُصُّهَا ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ ، فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا عَلَى الْخَبَطِ نَخْبِطُهُ بِعِصِيِّنَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ : فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ ؟ " . - يَعْنِي لَحْمَ الْحُوتِ - فَقُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَطْعِمُونَا مِنْهُ " . فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ وَشِيقَةً فَأَكَلَهَا . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ : وَنَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ ، وَهُنَا قَالَ : سِتُّمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جنگی مہم پر بھیجا ، ہم چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ، ہم نے قریش کے قافلے کا سامنا کرنا تھا ، ہمیں زاد سفر کے طور پر دینے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا دستیاب ہوا ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روز ایک ایک کھجور دیتے تھے جسے ہم چوس لیتے تھے اور اس کے بعد پانی پی لیتے تھے جب وہ ختم ہو گئیں ، تو ہمیں ان کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہوئی ، پھر ہم اپنی چھڑیوں کے ذریعے پتے اتار لیتے تھے اور ان کے بعد پانی پی لیتے تھے ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس اس میں سے ( یعنی بڑی مچھلی کے گوشت میں سے ) کوئی چیز ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ ! ( راوی کہتے ہیں : ) تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اُس کا گوشت بھیجا تو وہ آپ نے کھا لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے پوری طویل حدیث نقل کی ہے اور
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم تین سو افراد تھے ۔ “ اور یہاں یہ الفاظ ہیں : ” چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18275
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف