مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
حدیث نمبر: 18282
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَعْرِضُ سَيْفًا لَهُ فِي رَحْبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يَشْتَرِي مِنِّي سَيْفِي هَذَا ؟ فَوَاللَّهِ ، لَقَدْ جَلَوْتُ بِهِ غَيْرَ كُرْبَةٍ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَنَّ عِنْدِي ثَمَنَ إِزَارٍ مَا بِعْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
علی بن اقمر ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کوفہ کے میدان میں اپنی تلوار لہرائی اور یہ فرمایا : کون مجھ سے میری یہ تلوار خریدے گا ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اس کے ذریعے کئی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا ہے اور اگر میرے پاس تہبند خریدنے کی رقم ہوتی تو میں نے اسے فروخت نہیں کرنا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہیں ۔