حدیث نمبر: 18301
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ : أَصَابَتْ إِصْبُعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَجَرَةٌ فَدَمِيَتْ ، فَقَالَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ؟ " فَحُمِلَ فَوُضِعَ عَلَى سَرِيرٍ مُزَمَّلٍ بِخُوصٍ أَوْ شَرِيطٍ ، وَوُضِعَ تَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ ، حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَأَثَّرَ الشَّرِيطُ فِي جَنْبِهِ ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَبَكَى ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَجْلِسُونَ عَلَى سُرُرِ الذَّهَبِ ، وَيَلْبَسُونَ الدِّيبَاجَ وَالْإِسْتَبْرَقَ ؟ قَالَ : " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَكُمُ الْآخِرَةَ ؟ ! " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ زِيَادٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک انگلی درخت کے ذریعے زخمی ہو گئی اور اس میں سے خون نکل آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: ” تم صرف ایک انگلی ہو ، جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا گیا اور آپ کو ایک ایسی چارپائی پر لٹایا گیا ، جو بان والی تھی ، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا بنا ہوا تکیہ رکھا گیا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اس بان کا نشان آپ کے پہلو پر لگ گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ رونے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر سونے کے پلنگوں پر بیٹھتے ہیں اور دیباج اور استبرق پہنتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ اُن کو دنیا ملی ہے اور تمہیں آخرت مل جائے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ” تم صرف ایک انگلی ہو جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن زیاد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18301
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (17019)»