عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قریب آ چکی ہے لیکن لوگ اس سے زیادہ دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ جَمِيعًا ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . وَضَمَّ إِصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اور قیامت کو اکٹھے مبعوث کیا گیا ہے ، قریب تھا کہ وہ مجھ سے سبقت لے جاتی ( یعنی وہ مجھ سے پہلے آ جاتی ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشِيرُ بِإِصْبُعَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو یوں مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ہے ( یعنی جیسے یہ دو انگلیاں ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُهَا " . أَوْ : " إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ : " لَتَسْبِقُنِي " . فَقَطْ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا وھب سوائی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو یوں مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ( یعنی یہ دو انگلیاں ) ہیں ، قریب ہے کہ وہ اس پر سبقت لے جاتی ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) قریب تھا کہ وہ ( یعنی قیامت ) مجھ پر سبقت لے جاتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” وہ مجھ پر سبقت لے جاتی ۔ “ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” وہ مجھ پر سبقت لے جاتی ۔ “ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ : ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو ان دو ( انگلیوں ) کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو ان دو ( انگلیوں ) کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالله بن محمد بن سعید بن ابومریم سے روایت کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالله بن محمد بن سعید بن ابومریم سے روایت کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا - وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوجبیره بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) ” تو میں اس ( یعنی قیامت ) پر اتنی سبقت لے گیا ، جس طرح اس ( انگلی ) نے اس ( دوسری انگلی ) پر ( سبقت ) لی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
عَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ أَشْيَاخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ . وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شِبْلٍ ، أَوْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ انصار کے کچھ شیوخ (بزرگوں) کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند (سابقہ حدیث) نقل کرتے ہیں ۔
اور اس سند کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے شبل بن عوف یا شبیل بن عوف کے ، اور وہ بھی ثقہ ہیں ۔
اور اس سند کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے شبل بن عوف یا شبیل بن عوف کے ، اور وہ بھی ثقہ ہیں ۔
وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ : " بُعِثْتُ فِي نَسَمِ السَّاعَةِ " فَقَطْ .
محمد محی الدین
امام بزار نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” مجھے قیامت کے آغاز میں ( یعنی اُس کی ابتدائی نشانی کے طور پر ) مبعوث کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَتَحَرَّكَتِ الشَّجَرَةُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعًا ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " ظَنَنْتُهَا الْقِيَامَةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ كَمَا قِيلَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ، درخت نے حرکت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں اُٹھ کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے لگا کہ قیامت آ گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے جیسا کہ یہ بات بیان کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے جیسا کہ یہ بات بیان کی گئی ہے ۔