کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قیامت کا قریب ہونا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قریب آ چکی ہے لیکن لوگ اس سے زیادہ دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9787)»
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ جَمِيعًا ، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . وَضَمَّ إِصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اور قیامت کو اکٹھے مبعوث کیا گیا ہے ، قریب تھا کہ وہ مجھ سے سبقت لے جاتی ( یعنی وہ مجھ سے پہلے آ جاتی ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18225
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (348/5)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشِيرُ بِإِصْبُعَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو یوں مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ہے ( یعنی جیسے یہ دو انگلیاں ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18226
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (309/4)»
وَعَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُهَا " . أَوْ : " إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ : " لَتَسْبِقُنِي " . فَقَطْ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وھب سوائی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو یوں مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ( یعنی یہ دو انگلیاں ) ہیں ، قریب ہے کہ وہ اس پر سبقت لے جاتی ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) قریب تھا کہ وہ ( یعنی قیامت ) مجھ پر سبقت لے جاتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” وہ مجھ پر سبقت لے جاتی ۔ “ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18227
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (126/22) اخرجه احمد فى المسند (309/4)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ : ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو ان دو ( انگلیوں ) کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18228
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اور قیامت کو ان دو ( انگلیوں ) کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالله بن محمد بن سعید بن ابومریم سے روایت کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18229
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (743) أخرجه احمد فى المسند (123/3)»
وَعَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا - وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجبیره بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) ” تو میں اس ( یعنی قیامت ) پر اتنی سبقت لے گیا ، جس طرح اس ( انگلی ) نے اس ( دوسری انگلی ) پر ( سبقت ) لی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ روایت ابوجبیرہ بن ضحاک کے حوالے سے انصار کے کچھ بزرگوں کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے جو اس کی مانند ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف شبل یا شاید شبیل بن عوف کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18230
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
عَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ أَشْيَاخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ . وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شِبْلٍ ، أَوْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ انصار کے کچھ شیوخ (بزرگوں) کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند (سابقہ حدیث) نقل کرتے ہیں ۔
اور اس سند کے تمام راوی صحیح بخاری و مسلم کے راوی ہیں سوائے شبل بن عوف یا شبیل بن عوف کے ، اور وہ بھی ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18230
وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ : " بُعِثْتُ فِي نَسَمِ السَّاعَةِ " فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین
امام بزار نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” مجھے قیامت کے آغاز میں ( یعنی اُس کی ابتدائی نشانی کے طور پر ) مبعوث کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18231
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3215)»
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَتَحَرَّكَتِ الشَّجَرَةُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعًا ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " ظَنَنْتُهَا الْقِيَامَةَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ كَمَا قِيلَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ، درخت نے حرکت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں اُٹھ کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے لگا کہ قیامت آ گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ اعمش نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے جیسا کہ یہ بات بیان کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18232
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3216)»