حدیث نمبر: 18279
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غُذِيَ عَلَى أَحَدِكُمْ صَحِيفَةٌ وَرَاحَتْ أُخْرَى ، وَغَدَا فِي حُلَّةٍ ، وَرَاحَ فِي أُخْرَى ، وَتَكْسُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُكْسَى الْكَعْبَةُ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ، قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ میں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ آج زیادہ بہتر حالت میں ہو ؟ یا اس وقت ہو گے جب تم میں سے کسی ایک کے پاس صبح کے وقت ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا لایا جائے گا ، صبح کے وقت ایک حلہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا لایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر یوں پردے لٹکاؤ گے ، جس طرح خانہ کعبہ پر کپڑا لٹکایا جاتا ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت بہتر حالت میں ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ تم آج بہتر حالت میں ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوجعفر خطمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح