حدیث نمبر: 18299
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جِسْمِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا ، فَقَالَ : " مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر تھے ، جس کا نشان آپ کے جسم پر بن گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کوئی بچھونا بچھا لیتے تو اس کا نشان نہیں بننا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ کیا واسطہ ؟ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری اور دنیا کی مثال اُس سوار کی مانند ہے جو ایک گرم دن میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور گھڑی بھر کے لیے کسی درخت کے سائے میں آ جاتا ہے اور پھر وہاں سے روانہ ہو جاتا ہے اور اُس ( درخت یا سائے ) کو وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3666) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11798) اخرجه احمد فى المسند (3744)»