حدیث نمبر: 18276
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ بِالْمَدِينَةِ يَنْزِلُ عَلَيْهِ نَزَلَ بِأَصْحَابِ الصُّفَّةِ ، وَكَانَ لِي بِهَا قُرَنَاءُ ، فَكَانَ يَجْرِي عَلَيْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ يَوْمَيْنِ اثْنَيْنِ مُدَّانِ مِنْ تَمْرٍ ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ إِذْ نَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا ، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ . فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ ، قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الشِّدَّةِ ، قَالَ : " مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَوَاسَوْنَا فِي طَعَامِهِمْ ، وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ وَاللَّبَنُ . وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ ، وَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ تُدْرِكُوا زَمَانًا - أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ - يَلْبَسُونَ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، يُغْدَى عَلَيْكُمْ وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : كَانَ أَحَدُنَا إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ الصُّفَّةَ ، فَوَافَقْتُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، فَكَانَ يُجْرِي عَلَيْنَا كُلَّ يَوْمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُدَّيْنِ اثْنَيْنِ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا طلحہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اس کا مدینہ منورہ میں کوئی واقف نہ ہوتا ، جس کے پاس وہ ٹھہر سکے ، تو وہ اصحاب صفہ کے ساتھ ٹھہر جاتا تھا ، وہاں میرے بھی کچھ ساتھی ٹھہرے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہمیں روزانہ دو دو مد کھجوریں لا دیتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کسی نے پکار کر آپ کو مخاطب کیا : یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا ہے اور موٹے کپڑوں نے ہمارے جسموں کو جلا دیا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے اس بات کا ذکر کیا کہ آپ کو لوگوں کی طرف سے کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں اور میرے ساتھی دس سے زیادہ دن ایسی حالت میں گزار دیتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ، صرف پیلو کے درخت کا پھل ہوتا تھا ، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آ گئے تو انہوں نے کھانے کے حوالے سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ، ان کی خوراک زیادہ تر کھجور اور دودھ ہوتی تھی ، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اگر مجھے تمہیں کھلانے کے لیے روٹی اور گوشت دستیاب ہو تو میں تمہیں وہ بھی کھلاؤں ، ایسا ہو گا کہ تم ایسا زمانہ پاؤ گے ( یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کہ اس زمانے میں لوگ ایسے ( عمدہ قسم کے ) کپڑے پہنیں گے ، جیسے خانہ کعبہ کے پردے ہوتے ہیں اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اُن کے پاس ( مختلف قسم کے کھانوں کے ) پیالے لائے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم میں سے کوئی ایک جب مدینہ منورہ آتا تھا اور وہاں اس کا کوئی واقف کار ہوتا تھا تو وہ اس واقف شخص کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور اگر وہاں اس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا تو وہ صفہ کے چبوترے پر ٹھہر جاتا تھا ، میں مدینہ منورہ آیا اور صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا میرے ساتھ دو اور آدمی بھی وہاں ٹھہرے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیں روزانہ دو مد ملتے تھے ۔ “ باقی کی روایت حسب سابق ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18276
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3673) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8160)»