حدیث نمبر: 18304
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّهُ أَتَى فَاطِمَةَ فَقَالَ لَهَا : إِنِّي لَأَشْتَكِي صَدْرِي مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ ; فَقَالَتْ : وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَشْتَكِي يَدِي مِمَّا أَطْحَنُ بِالرَّحَى ، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ : ائْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ يُخْدِمُكِ خَادِمًا ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَاءَ بِكِ ؟ " . قَالَتْ : جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ قَالَتْ : وَاللَّهِ ، مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَيْبَتِهِ ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَاءَ بِكُمَا ؟ لَقَدْ جَاءَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - بِكُمَا حَاجَةٌ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَكَوْتُ إِلَى فَاطِمَةَ مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ ، فَشَكَتْ إِلَيَّ يَدَيْهَا مِمَّا تَطْحَنُ بِالرَّحَى ، فَأَتَيْنَاكَ لِتُخْدِمَنَا خَادِمًا مِمَّا آتَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : " لَا . وَلَكِنِّي أُنْفِقُ - أَوْ أُنْفِقُهُ - عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ الَّذِينَ تُطْوَى أَكْبَادُهُمْ مِنَ الْجُوعِ ، لَا أَجِدُ مَا أُطْعِمُهُمْ " . ¤ قَالَ : فَلَمَّا رَجَعَا وَأَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا مِنَ اللَّيْلِ ، أَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا فِي الْخَمِيلِ - وَالْخَمِيلُ : الْقَطِيفَةُ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَهَا بِهَا ، وَبِوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ ، وَكَانَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ حِينَ رَدَّهُمَا شَقَّ عَلَيْهِمَا ، فَلَمَّا سَمِعَا حِسَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَا لِيَقُومَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَكَانَكُمَا " . ثُمَّ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى طَرَفِ الْخَمِيلِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمَا جِئْتُمَا لِأُخْدِمَكُمَا خَادِمًا ، وَإِنِّي سَأَدُلُّكُمَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ ، تَحْمَدَانِ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا ، وَتُسَبِّحَانِ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا ، وَتُسَبِّحَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرَانِهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَذَلِكَ مِائَةٌ ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ " . قُلْتُ : حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے بھی ہاتھوں میں درد ہوتا ہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خادم مانگ لو ، جو تمہاری خدمت کرے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں آئی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی ، جب وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں کس وجہ سے آئے ہو ؟ تم دونوں کسی کام کے سلسلے میں آئے ہو گے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے فاطمہ کے سامنے یہ شکایت کی کہ بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور فاطمہ نے یہ کہا: کہ اسے آنا پیسنے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے آپ ہمیں کوئی خادم دیدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! میں یہ رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا ، جن کے جگر بھوک کی وجہ سے لپٹے رہتے ہیں اور مجھے انہیں کھلانے کے لئے کچھ دستیاب نہیں ہوتا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : یہ دونوں واپس آ گئے ، جب وہ دونوں رات کے وقت سونے کے لئے لیٹے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے آئے وہ دونوں اس وقت لحاف میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وہ لحاف جہیز میں دیا تھا اور ایک تکیہ دیا تھا ، جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی درخواست مسترد کی تھی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بہت گراں گزری تھی ، جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس کی تو وہ دونوں اُٹھنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لحاف کے کنارے پر بیٹھ گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس لیے آئے تھے تاکہ میں تمہیں کوئی خدمتگار دیدوں ، میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف کرتا ہوں جو تمہارے لئے خدمت گزار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ، تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ الحمدللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، اور جب رات کے وقت تم دونوں سونے کے لیے لیٹو تو 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمدلله 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، یہ ایک سو ہو جائیں گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سے مختصر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18304
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3678)»