حدیث نمبر: 18288
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَكْثَرَ مَالٍ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى ، قَدِمَ عَلَيْهِ فِي جُنْحِ اللَّيْلِ خَرِيطَةٌ فِيهَا ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَصَحِيفَةٌ ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ - وَكَانَتْ لَيْلَتِي - ثُمَّ انْقَلَبَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَصَلَّى فِي الْحُجْرَةِ فِي مُصَلَّاهُ ، وَقَدْ مَهَّدْتُ لَهُ وَلِنَفْسِي ، فَأَنَا أَنْتَظِرُ فَأَطَالَ ، ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى دُعِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ تِلْكَ الْخَرِيطَةُ الَّتِي فَتَنَتْنِي الْبَارِحَةَ ؟ " . فَدَعَا بِهَا فَقَسَّمَهَا . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ ، فَقَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي فَأُوتَى بِهَا ، فَأَنْصَرِفُ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهَا ، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُصَلِّي " . ¤ قُلْتُ : تَقَدَّمَ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي بَابِ الْإِنْفَاقِ ، وَأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيَ أَنْ يُتَوَفَّى قَبْلَ أَنْ يُقَسِّمَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَبَعْضُهَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ کے پاس جو سب سے زیادہ مال آیا ہے ، میں اس کے بارے میں جانتی ہوں ، ایک مرتبہ رات کے وقت آپ کے پاس ایک تھیلی آئی تھی ، جس میں آٹھ سو درہم تھے اور ایک صحیفہ تھا ، وہ آپ نے میری طرف بھجوا دیے کیونکہ وہ میری باری کی مخصوص رات تھی ، عشاء کی نماز کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ نے حجرہ میں اپنی نماز کی مخصوص جگہ پر نماز ادا کرنا شروع کی ، میں نے آپ کے لئے اور اپنے لئے بستر بچھا دیا تھا ، میں انتظار کرتی رہی ، آپ خاصی دیر نماز ادا کرتے رہے ، پھر آپ جائے نماز سے تشریف لائے ، پھر واپس چلے گئے ، مسلسل ایسا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ صبح کی نماز کے لئے اذان ہو گئی ( یا آپ کو صبح کی نماز کے لیے بلا لیا گیا ) آپ نماز پڑھ کر واپس تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ تھیلی کہاں ہے ؟ جس نے گزشتہ رات مجھے آزمائش کا شکار کیے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منگوایا اور اس رقم کو تقسیم کر دیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران یہ آ گئے ، میں نے نماز ختم کی ، پھر ان کو دیکھا ، پھر دوبارہ نماز ادا کرنا شروع کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ، خرچ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ رقم تقسیم کرنے سے پہلے آپ کا وصال نہ ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض عمدہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید