حدیث نمبر: 18273
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَمْ أَنْهَكِ عَنْ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ ؟ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ . " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالٍ : أَبِي الْمُعَلَّى ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین پرندے تحفے کے طور پر پیش کئے گئے ، آپ نے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لئے دے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کا گوشت لے آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ کل کے لئے کوئی چیز بچا کے نہیں رکھنی ہے ؟ اللہ تعالی روزانہ کا رزق عطا کرتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے جال ہیں ، صرف ہلال ابومعلیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18273
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح