مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ وَعَسَلٌ ، فَقَالَ : " شَرْبَتَيْنِ فِي شَرْبَةٍ ، وَأُدْمَيْنِ فِي قَدَحٍ ، لَا حَاجَةَ لِي بِهِ ، أَمَا إِنِّي لَا أَزْعُمُ أَنَّهُ حَرَامٌ ، أَكْرَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي اللَّهُ عَنْ فُضُولِ الدُّنْيَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَتَوَاضَعُ لِلَّهِ ، فَمَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَكْثَرَ ذِكْرَ الْمَوْتِ أَحَبَّهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ مُوَرِّعٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں دودھ اور شہد موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک مشروب میں پینے کی دو چیزیں اور ایک پیالے میں دو طرح کے سالن ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ حرام ہے لیکن مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے اضافی چیزوں کے بارے میں سوال کرے ، میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہوں ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے اور جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے پست کر دیتا ہے ، جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے خوش حال کر دیتا ہے اور جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع عنبری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔