کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
حدیث نمبر: 18233
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : قَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - نَاوَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعَيرٍ ، فَقَالَ : " هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مُنْذُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ : فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " . فَقَالَتْ : قُرْصٌ خَبَزْتُهُ فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُكَ بِهَذِهِ الْكِسْرَةِ . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو کی روٹی کا ٹکڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ پہلا کھانا ہے جو پچھلے تین دنوں میں تمہارا باپ کھانے لگا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : روٹی کا ٹکڑا ہے ، مجھے اطمینان نہیں ہوا ، جب تک میں یہ آپ کے پاس نہیں لے آئی ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : روٹی کا ٹکڑا ہے ، مجھے اطمینان نہیں ہوا ، جب تک میں یہ آپ کے پاس نہیں لے آئی ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18234
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ، مَا رَأَى مُنْخُلًا ، وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى أَنْ قُبِضَ . قُلْتُ : كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ : أُفٍّ ، أُفٍّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ رُومَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھنا ہوا آٹا دیکھا ، اور آپ نے کبھی چھنے ہوئے آنے کی روٹی نہیں کھائی ، جب سے اللہ تعالی نے آپ کو مبعوث کیا تھا اُس وقت سے لے کر آپ کے وصال تک ( ایسا کبھی نہیں ہوا ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم یہ کہتے تھے : اف اف ( یعنی ان میں پھونک مار لیتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رومان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رومان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18235
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : لَمْ يَكُنْ يُنْخَلُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّقِيقُ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِمَا سَعِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آٹے کو چھانا نہیں جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال میں صرف ایک قمیص ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی سعید بن میسرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی سعید بن میسرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18236
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : لَمْ يُنْخَلْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَقِيقٌ قَطُّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ : أَبُو دَاوُدَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کبھی آٹے کو چھانا نہیں گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18237
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ هُوَ وَلَا أَهْلُهُ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے کبھی بھی سیر ہو کر جو کی روٹی نہیں کھائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18238
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَمِيصُ الْبَطْنِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ طَلْحَةُ الْبَصْرِيُّ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ کا پیٹ خوراک سے خالی تھا ( یعنی آپ شکم سیر نہیں ہوتے تھے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بصری ہے جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بصری ہے جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18239
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ شَبْعَتَيْنِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ایک دن میں دو مرتبہ سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18240
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا كَانَ يَبْقَى عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر جو کی روٹی باقی نہیں رہتی تھی ، خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18241
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : مَا رُفِعَتْ مَائِدَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهَا فَضْلَةٌ مِنْ طَعَامٍ قَطُّ .
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے جب بھی دسترخوان اٹھایا جاتا تھا تو اس پر کبھی بچا ہوا کھانا نہیں ہوتا تھا ۔ “ امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18242
وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ . ¤
محمد محی الدین
امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18243
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : وَاللَّهِ ، مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَدَاءٍ ، وَعَشَاءٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کبھی بھی ایک ہی دن میں ) صبح اور رات کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18244
وَعَنْ عَثْمَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، إِنَّهُ لَيَسُوءُنِي الَّذِي أَرَى بِوَجْهِكَ ، وَعَمَّا هُوَ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِوَجْهِ الرَّجُلِ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " الْجُوعُ " . فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَعْدُو ، أَوْ شَبِيهًا بِالْعَدْوِ ، حَتَّى أَتَى بَيْتَهُ ، فَالْتَمَسَ عِنْدَهُمُ الطَّعَامَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا ، فَخَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَجَّرَ نَفْسَهُ عَلَى كُلِّ دَلْوٍ يَنْزِعُهَا بِتَمْرَةٍ ، حَتَّى جَمَعَ حَفْنَةً أَوْ كَفًّا مِنْ تَمْرٍ ، ثُمَّ رَجَعَ بِالتَّمْرِ حَتَّى وَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يَرُمْ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ : كُلْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ ؟ " . فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ : أَجَلْ . وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ، وَوَلَدِي ، وَأَهْلِي ، وَمَالِي ، قَالَ : " أَمَّا لَا فَاصْطَبِرْ لِلْفَاقَةِ ، وَأَعِدَّ لِلْبَلَاءِ تَجْفَافًا ; فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ ، لَهُمَا إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي أَسْرَعُ مِنْ هُبُوطِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے آپ کی ملاقات ہوئی ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کے چہرے کی جو کیفیت ہے وہ مجھے اچھی نہیں لگ رہی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لمحے بھر کے لئے اس شخص کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا : بھوک ، وہ شخص دوڑتا ہوا یا دوڑنے کے قریب تیزی سے چلتا ہوا گیا اور اپنے گھر آیا ، اُس نے اپنے گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز تلاش کی ، اُسے کوئی چیز نہیں ملی ، وہ بنو قریظہ کے محلے کی طرف گیا اور ایک کھجور کے عوض میں پانی کا ایک ڈول نکالنے کی مزدوری کی ، یہاں تک کے اس کے پاس مٹھی بھر کھجوریں اکٹھی ہو گئیں ، تو وہ اُن کھجوروں کو لے کر واپس آیا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُسی محفل میں تشریف فرما تھے اور اُٹھے نہیں تھے ، اُس نے وہ کھجوریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کھائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں یہ کھجوریں کہاں سے ملی ہیں ؟ اُس نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتے ہو ، اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، آپ میرے نزدیک میری اپنی جان ، میری اولاد ، میرے اہل خانہ اور میرے مال سے زیادہ محبوب ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ایسا ہے تو تم فاقہ پر صبر کرنا اور آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ، اُس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، یہ دونوں مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتے ہیں ، جتنی تیزی سے پہاڑ کے سرے سے پانی اُس کے نچلے حصے کی طرف جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18245
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ مُتَغَيِّرًا ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ ، مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرًا ؟ ! قَالَ : " مَا دَخَلَ جَوْفِي مَا يَدْخُلُ جَوْفَ ذَاتِ كَبِدٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ " . قَالَ : فَذَهَبْتُ فَإِذَا يَهُودِيٌّ يَسْقِي إِبِلًا لَهُ ، فَسَقَيْتُ لَهُ عَلَى كُلِّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ، فَجَمَعْتُ تَمْرًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكَ يَا كَعْبُ ؟ " . فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتُحِبُّنِي يَا كَعْبُ ؟ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ ، نَعَمْ . قَالَ : " إِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مَعَادِنِهِ ، وَإِنَّهُ سَيُصِيبُكَ بَلَاءٌ فَأَعِدَّ لَهُ تَجْفَافًا " . قَالَ : فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَ كَعْبٌ ؟ " . قَالُوا : مَرِيضٌ ، فَخَرَجَ يَمْشِي حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ : " أَبْشِرْ يَا كَعْبُ " . فَقَالَتْ أُمُّهُ : هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ يَا كَعْبُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَذِهِ الْمُتَأَلِّيَةُ عَلَى اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : هِيَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ كَعْبٍ ؟ لَعَلَّ كَعْبًا قَالَ مَا لَا يَنْفَعُهُ ، وَمَنَعَ مَا لَا يُغْنِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو متغیر دیکھا ، میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ؟ میں آپ کو متغیر دیکھ رہا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پچھلے تین دن سے میرے پیٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں گئی جو کسی جاندار کے پیٹ میں جا سکتی ہو ، راوی کہتے ہیں : میں گیا ، ایک یہودی اپنے اونٹ کو پانی پلا رہا تھا میں نے ایک ڈول کے عوض میں ایک کجھور کے معاوضے کے تحت اسے پانی نکال کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں نے کھجوریں جمع کر لیں ، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے کعب ! یہ تمہیں کہاں سے ملی ہیں ؟ میں نے آپ کو بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے کعب ! کیا تم مجھ سے محبت رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف فقر اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہے جتنی تیزی سے سیلاب اپنے معادن کی طرف بڑھتا ہے ، عنقریب تمہیں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، تو تم ان کے لیے تیار رہنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غیر موجود پایا تو دریافت کیا : کعب کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ بیمار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل تشریف لے گئے اور ان کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے کعب ! تم خوش خبری قبول کرو ، ان کی والدہ نے کہا: اے کعب ! تمہیں جنت کی مبارکباد ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ خاتون کون ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایک بات منسوب کر رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری والدہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام کعب ! ہو سکتا ہے کہ کعب نے کوئی ایسی بات کی ہو جس کا اسے نفع نہ ہو ، اور ایسی چیز نہ دی ہو جس کی اسے ضرورت نہیں تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18246
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : خَرَجْتُ فِي غَدَاةٍ شَاتِيَةٍ جَائِعًا ، وَقَدْ أَوْبَقَنِي الْبَرْدُ ، فَأَخَذْتُ ثَوْبًا مِنْ صُوفٍ قَدْ كَانَ عِنْدَنَا ، ثُمَّ أَدْخَلْتُهُ فِي عُنُقِي ، وَحَزَّمْتُهُ عَلَى صَدْرِي أَسْتَدْفِئُ بِهِ ، وَاللَّهِ ، مَا فِي بَيْتِي شَيْءٌ آكُلُ مِنْهُ ، وَلَا كَانَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ يُبَلِّغُنِي ; فَخَرَجْتُ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى يَهُودِيٍّ فِي حَائِطٍ ، فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهِ مِنْ ثُغْرَةِ جِدَارِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَعْرَابِيُّ ؟ هَلْ لَكَ فِي دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . افْتَحْ لِيَ الْحَائِطَ ، فَفَتَحَ لِي فَدَخَلْتُ ، فَجَعَلْتُ أَنْزِعُ الدَّلْوَ وَيُعْطِينِي تَمْرَةً ، حَتَّى مَلَأْتُ كَفَّيَّ . قُلْتُ : حَسْبِي مِنْكَ الْآنَ ، فَأَكَلْتُهُنَّ ، ثُمَّ جَرَعْتُ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ فِي عِصَابَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ فِي بُرْدَةٍ لَهُ مَرْقُوعَةٍ بِفَرْوَةٍ ، وَكَانَ أَنْعَمَ غُلَامٍ بِمَكَّةَ ، وَأَرْفَهَهُ عَيْشًا ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ النَّعِيمِ ، وَرَأَى حَالَهُ الَّتِي هُوَ عَلَيْهَا فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غُدِيَ عَلَى أَحَدِكُمْ بِحَفْنَةٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ ، وَرِيحَ عَلَيْهِ بِأُخْرَى ، وَغَدَا فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي أُخْرَى ، وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ ؟ " . قُلْنَا : بَلْ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ; نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ . قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سرد صبح میں باہر نکلا ، میں اس وقت بھوکا تھا اور سردی کی شدت سے میرا برا حال تھا ، میں نے اپنے پاس موجود اونی کپڑا لیا تھا اور اسے اپنی گردن پر لپیٹ کر سینے پر لپیٹ لیا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے مجھے گرمائش حاصل ہو ، اللہ کی قسم ! میرے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے میں کھا سکتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بھی کوئی چیز نہیں تھی جو آپ میری طرف بھجوا دیتے ، میں نکل کر مدینہ منورہ کے نواحی علاقے کی طرف گیا ، میں ایک یہودی کے باغ میں اس کے پاس آیا میں نے دیوار کے شگاف میں سے جھانک کر دیکھا تو اُس نے کہا: اے دیہاتی ! تمہیں کیا کام ہے ؟ کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ایک کھجور کے عوض میں پانی کا ایک ڈول نکال دو ؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے ، تم میرے لیے باغ کا دروازہ کھولو ، اُس نے میرے لئے دروازہ کھولا ، میں اندر داخل ہوا ، میں ایک ڈول نکالتا تھا اور وہ مجھے ایک کھجور دے دیتا تھا ، یہاں تک کہ میری ہتھیلی بھر گئی ، میں نے کہا: میرے لئے اتنا کافی ہے ، میں نے انہیں کھایا ، پھر میں نے پانی پیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور مسجد میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، آپ اس وقت اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ موجود تھے ، اسی دوران مصعب بن عمیر ہمارے سامنے آئے ، انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر پیوند لگے ہوئے تھے ، حالانکہ مکہ میں وہ سب سے زیادہ ناز و نعمت میں رہنے والے اور سب سے زیادہ خوشگوار زندگی گزارنے والے نوجوان تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا تو آپ کو یہ خیال آ گیا کہ وہ پہلے کس طرح کی نعمتوں میں رہتے تھے اور اب ان کا کیا حال ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ رونے لگے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ آج زیادہ بہتر ہو یا ( کل ) اُس وقت ( زیادہ بہتر ) ہو گے جب تم میں سے کسی ایک کے پاس صبح کے وقت روٹی اور گوشت کا ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا پیالہ لایا جائے گا ، وہ صبح کے وقت ایک حلہ پہنے گا اور شام کے وقت دوسرا پہنے گا ، اور تم اپنے گھروں پر یوں پردے لٹکاؤ گے جس طرح خانہ کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں ۔ “ ہم نے عرض کی : ہم اُس وقت بہترین حالت میں ہوں گے ، کیونکہ ہم عبادت کے لئے فارغ ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ تم آج زیادہ بہتر حالت میں ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18247
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَتْهُ قَدْ وَضَعَ حَجَرًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ إِزَارِهِ ; يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ مِنَ الْجُوعِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے اپنے جسم اور اپنے تہبند کے درمیان ایک پتھر رکھا ہوا تھا ، آپ بھوک کے عالم میں اس کے ذریعے اپنے پشت کو سیدھا رکھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اسماعیل بن عبدالملک میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اسماعیل بن عبدالملک میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18248
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : خَرَجْتُ فَأَتَيْتُ حَائِطًا . قَالَ : فَقَالَ : دَلْوٌ بِتَمْرَةٍ ، قَالَ : فَدَلَّيْتُ حَتَّى مَلَأْتُ كَفَّيَّ ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَاسْتَعْذَبْتُ - يَعْنِي شَرِبْتُ - ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطْعَمْتُهُ نِصْفَهُ ، وَأَكَلْتُ نِصْفَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نکلا اور ایک باغ میں آیا ، اس شخص نے کہا: ایک کھجور کے عوض میں ایک ڈول نکالنا ہو گا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ڈول نکالتا رہا ، یہاں تک کہ میری ہتھیلی ( کھجوروں سے ) بھر گئی ، پھر میں پانی کے پاس آیا اور میں نے پانی پیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے نصف کھجوریں آپ کو پیش کیں اور نصف کھجوریں میں نے کھا لیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 18249
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے کبھی گندم کی روٹی ، سالن کے ساتھ سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18250
وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : كُنْتُ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ : لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِيثِ . قَالَ مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ : يَعْنِي الشَّعِيرَ وَالسُّلْتَ إِذَا خُلِطَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں ” اسکندریہ “ میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے اس بات کا ذکر چھیڑ دیا کہ وہ کس طرح کی صورتحال میں رہ رہے ہیں ؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب نے کہا: ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور آپ کے اہل خانہ نے غلیث ( یعنی گندم اور جو کو ملا کر بنائی گئی ) روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی ۔ “ موسیٰ بن علی کہتے ہیں : اس سے مراد جو اور سلت ( یہ بھی جو کی ایک قسم ہے ، جس میں چھلکا نہیں ہوتا اور یہ گندم کے مشابہ ہوتا ہے ) کو ملا کر ( روٹی پکانا ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18251
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ يَمُرُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِلَالٌ ثُمَّ هِلَالٌ لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٌ مِنَ بُيُوتِهِمُ النَّارُ ، لَا لِخَبْزٍ ، وَلَا لِطَبِيخٍ . قَالُوا : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ ، وَالْمَاءُ . ¤ وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا - لَهُمْ مَنَائِحُ ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر پہلی کا ایک چاند آتا تھا ، پھر پہلی کا ایک اور چاند آ جاتا تھا اور اس دوران ان کے گھروں میں آگ نہیں جلائی گئی ہوتی تھی ، نہ روٹی پکانے کے لیے نہ کچھ اور پکانے کے لئے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوہریرہ ! پھر وہ لوگ گزارا کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو سیاہ چیزوں کے ذریعے ، یعنی کھجور اور پانی ، یا پھر یہ ہوتا تھا کہ ان کے انصاری پڑوسی تھے ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے ، ان کے جانور ہوتے تھے ، تو وہ کچھ دودھ ان کو ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو ) بھجوا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام بزار نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام بزار نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18252
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمِ وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى الصَّفَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا جِبْرِيلُ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أَمْسَى لِآلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُفَّةٌ مِنْ دَقِيقٍ ، وَلَا كَفٌّ مِنْ سَوِيقٍ " . فَلَمْ يَكُنْ كَلَامُهُ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ سَمِعَ هَدَّةً مِنَ السَّمَاءِ أَفْزَعَتْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَرَ اللَّهُ الْقِيَامَةَ أَنْ تَقُومَ ؟ " . قَالَ : لَا . وَلَكِنْ أَمَرَ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ ، فَنَزَلَ إِلَيْكَ حِينَ سَمِعَ كَلَامَكَ ، فَأَتَاهُ إِسْرَافِيلُ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ سَمِعَ مَا ذَكَرْتَ ، فَبَعَثَنِي بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أُسَيِّرُ مَعَكَ جِبَالَ تِهَامَةَ زُمُرُّدًا ، وَيَاقُوتًا ، وَذَهَبًا ، وَفِضَّةً فَعَلْتُ ، فَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا ؟ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ أَنْ تَوَاضَعْ ، فَقَالَ : " بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا " . ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام صفا پہاڑی پر موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے جبرائیل ! اس ذات کی قسم ! جس نے تمہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کے پاس نہ مٹھی بھر آٹا ہے اور نہ مٹھی بھر جو ہیں ، ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کی ہی تھی کہ آسمان سے ایک گونج سنائی دی ، جس سے آپ پریشان ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اللہ تعالی نے قیامت کو قائم ہونے کا حکم دے دیا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کا کلام سنا تو اس نے سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دیا تو وہ اتر کر آپ کی طرف آ رہے ہیں ، پھر سیدنا اسرافیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : آپ نے جو بات کہی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور اس نے مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے کر بھیجا ہے اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے یہ پیشکش رکھوں ( کہ اگر آپ چاہیں ) تو میں تہامہ کے پہاڑوں کو زمرد ، یاقوت ، سونے اور چاندی کا بنا کر آپ کے ساتھ چلاؤں ، تو میں ایسا کر لیتا ہوں ، اگر آپ چاہیں ، تو بادشاہ نبی بن جائیں اور اگر آپ چاہیں تو عبد نبی بن جائیں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلکہ میں ” عبد نبی “ ( بننا پسند کروں گا ) یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18253
وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ : لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْهَدُ فِيهِ ، أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْهَدُ فِيهَا ، وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ . قَالَ : فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَلِفُ . ¤ وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى : وَاللَّهِ ، مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ .
محمد محی الدین
علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” آج تم صبح اور شام ایسی حالت میں کرتے ہو کہ اپنی دلچسپی کی چیز حاصل کر لیتے ہو ، اس ( دنیا ) میں سے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہد کا طریقہ اختیار کیا تھا ، تم ایسی حالت میں صبح کرتے ہو کہ تم دنیا میں رغبت رکھتے ہو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتے تھے ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بھی رات آئی ، تو اس میں یہ صورتحال ہوتی کہ آپ کو جو ملنا ہوتا تھا آپ کے ذمہ اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُدھار لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یحیی کے علاوہ دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی بھی تین دن ایسے نہیں گزرے مگر یہ کہ جو آپ کو ملنا ہوتا تھا آپ کے ذمہ اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔
حدیث نمبر: 18254
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَمْرٍو أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ : مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ ، أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا ، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى حَدِيثَ عَمْرٍو فَقَطْ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” تمہارا طریق کار تمہارے نبی کے طریق کار سے کتنا دور ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت تھے اور تم لوگ دنیا کی طرف سب سے زیادہ راغب ہو ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے صرف سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18255
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ : الطَّعَامُ ، وَالنِّسَاءُ ، وَالطِّيبُ ، فَأَصَابَ ثِنْتَيْنِ ، وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً ، أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ ، وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں سے تین چیزیں پسند تھیں ، کھانا ، خواتین اور خوشبو ، ان میں سے دو چیزیں آپ کو مل گئیں اور ایک چیز نہیں ملی ، خواتین اور خوشبو آپ کو مل گئیں اور کھانا آپ کو نہیں ملا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18256
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَصَبْنَا مِنْ دُنْيَاكُمْ هَذِهِ إِلَّا نِسَاءَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ زَكَرِيَّا بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری دنیا میں سے ہمیں صرف صرف خواتین ملی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم ہے اس نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے اور میں ان دونوں ( یعنی زکریا اور اس کے والد ) سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم ہے اس نے اپنے والد کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے اور میں ان دونوں ( یعنی زکریا اور اس کے والد ) سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18257
وَعَنْ فَاطِمَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهَا يَوْمًا فَقَالَ : " أَيْنَ أَبْنَائِي ؟ " . - يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا - . قَالَتْ : أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ يَذُوقُهُ ذَائِقٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَذْهَبُ بِهِمَا ; فَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ يَبْكِيَا عَلَيْكِ وَلَيْسَ عِنْدَكِ شَيْءٌ ، فَذَهَبَ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ . فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُمَا يَلْعَبَانِ فِي شَرِيَّةٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا فَضْلٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ ، أَلَا تَقْلِبُ ابْنَيَّ قَبْلَ أَنْ يَشْتَدَّ عَلَيْهِمَا الْحَرُّ ؟ " . قَالَ عَلِيٌّ : أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ ، فَلَوْ جَلَسْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَتَّى أَجْمَعَ لِفَاطِمَةَ تَمَرَاتٍ . فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اجْتَمَعَ لِفَاطِمَةَ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ ، فَجَعَلَهُ فِي صُرَّتِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدَهُمَا ، وَعَلِيٌّ الْآخَرَ حَتَّى أَقْلَبَهُمَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : میرے دونوں بیٹے کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حسن اور حسین تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ہم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے کوئی چکھنے والا چکھ سکتا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں کو لے جاتا ہوں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ دونوں تمہارے سامنے روئیں گے اور تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فلاں یہودی کی طرف گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف چلے گئے آپ نے ان دونوں کو پایا کہ وہ دونوں کھیل رہے تھے ، ان کے آگے اضافی کھجوریں پڑی ہوئی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کیا تم میرے دونوں بیٹوں کو گرمی شدید ہونے سے پہلے واپس نہیں لے جاؤ گے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی چیز نہیں تھی یا رسول اللہ ! اگر آپ تشریف فرما رہیں ، تاکہ میں فاطمہ کے لئے بھی کچھ کھجوریں اکٹھی کر لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہو گئے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے کچھ کھجوریں اکٹھی کیں اور انہیں تھیلی میں ڈال لیا ، پھر وہ آئے تو ان دونوں میں سے ایک کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھا لیا اور دوسرے کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا اور ان دونوں کو لے کر آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18258
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا حَبَسَكَ ؟ " . قَالَ : مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي ، فَقُلْتُ لَهَا : إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا ، وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ ، وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ ، وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا ؟ قَالَتْ : أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ ، فَذَاكَ حَبَسَنِي . فَقَالَ : " رَحِمْتَهَا - رَحِمَكَ اللَّهُ - " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الزَّعْفَرَانِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز کے لیے آنے میں تاخیر ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کسی چیز نے روک لیا ؟ انہوں نے بتایا : میرا گزر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( کے گھر ) کے پاس سے ہوا ، وہ چکی پیس رہی تھیں اور بچے رو رہے تھے ، میں نے کہا: آپ کی جگہ میں چکی پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں ، اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ چکی پیس لیں ، انہوں نے کہا: اپنے بیٹے کے لئے میں تم سے زیادہ مہربان ہوں ( یعنی میں بچے کو سنبھال لیتی ہوں ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) تو اس وجہ سے مجھے دیر ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اس پر رحم کیا ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوهاشم نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوهاشم نامی راوی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18259
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : سَمِعَ عَمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمًا عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَخْرَجَكَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ ! " . قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَخْرَجَنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِي أَخْرَجَكَ ، ثُمَّ إِنْ عُمَرَ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! " . قَالَ : أَخْرَجَنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الَّذِي أَخْرَجَكُمَا . فَقَعَدَ مَعَهُمَا ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ بِكُمَا مِنْ قُوَّةٍ فَتَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذَا النَّخْلِ فَتُصِيبَانِ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ ؟ " . فَقُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا مَنْزِلَ مَالِكِ بْنِ التَّيِّهَانِ : أَبِي الْهَيْثَمِ الْأَنْصَارِيِّ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِمْ ، وَأُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ تَسْمَعُ السَّلَامَ ، تُرِيدُ أَنْ يَزِيدَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السَّلَامِ . فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْصَرِفَ خَرَجَتْ أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ تَسْعَى فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ سَمِعْتُ سَلَامَكَ ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَزِيدَنَا مِنْ سَلَامِكَ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ أَبُو الْهَيْثَمِ ؟ " . قَالَتْ : قَرِيبٌ ذَهَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ ، ادْخُلُوا السَّاعَةَ يَأْتِي ، فَبَسَطَتْ لَهُمْ بِسَاطًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، حَتَّى جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ مَعَ حِمَارِهِ ، وَعَلَيْهِ قِرْبَتَانِ مِنْ مَاءٍ ، فَفَرِحَ بِهِمْ أَبُو الْهَيْثَمِ ، وَقَرُبَ يُحَيِّيهِمْ ، فَصَعِدَ أَبُو الْهَيْثَمِ عَلَى نَخْلَةٍ فَصَرَمَ أَغْدَاقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَسْبُكَ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْكُلُونَ مِنْ بُسْرِهِ ، وَمِنْ رُطَبِهِ ، وَتَذْنُوبِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بِمَاءٍ فَشَرِبُوا عَلَيْهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " . ثُمَّ قَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى شَاةٍ لِيَذْبَحَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكَ وَاللَّبُونَ " . ثُمَّ قَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ فَعَجَنَ لَهُمْ . وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا ، فَاسْتَيْقَظُوا وَقَدْ أَدْرَكَ طَعَامُهُمْ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ; فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا . وَأَتَاهُمْ أَبُو الْهَيْثَمِ بِبَقِيَّةِ الْأَعْذَاقِ ، فَأَصَابُوا مِنْهُ ، وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ : " إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ أَتَانَا رَقِيقٌ فَائْتِنَا " . ¤ قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيقٌ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسًا ، فَكَاتَبْتُهُ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَمَا رَأَيْتُ رَأْسًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن چڑھے کے وقت گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اس وقت کسی وجہ سے گھر سے باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اُسی وجہ سے باہر آیا ہوں جس وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن خطاب ! تم اس وقت کس وجہ سے باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس وجہ سے آپ دونوں باہر آئے ہیں ، پھر وہ ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دونوں کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : کیا تم دونوں میں اتنی قوت ہے کہ تم دونوں اس باغ تک جا سکو ؟ وہاں کھانے اور پینے کے لئے کچھ مل جائے گا ، ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! پھر ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم سیدنا مالک بن تیہان ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے بڑھے ، آپ نے ان لوگوں سے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، ابوالہیثم کی والدہ سلام کو سن رہی تھیں ، وہ یہ چاہتی تھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مزید سلام کریں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس مڑنے کا ارادہ کیا تو ابوالہیثم کی والدہ دوڑتی ہوئی باہر آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا ، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ آپ کی طرف سے ہمارے لیے مزید سلام آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس خاتون سے دریافت کیا : ابوالہیثم کہاں ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : قریب ہی گئے ہیں ، یا رسول اللہ ! وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، آپ اندر آئیں وہ ابھی آ جائیں گے ، اس خاتون نے ایک درخت کے نیچے ان حضرات کے لئے ایک بچھونا بچھایا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گدھے کے ساتھ آ گئے ، اس گدھے پر پانی کے دو مشکیزے لدے ہوئے تھے ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں آ کر سلام کیا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کھجور کے درخت پر چڑھے اور انہوں نے کچھ گچھے اتار لیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوالہیثم ! اتنا کافی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، پھر وہ ان حضرات کے پاس پانی لے کر آئے ، ان حضرات نے وہ پانی پیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ نعمتیں ہیں ، جن کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا ۔ پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اٹھ کر بکری کی طرف بڑھے تاکہ اسے ذبح کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والی نہ کرنا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اٹھے ، انہوں نے ان حضرات کے لیے آٹا گوندھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سر رکھا اور سو گئے ، جب یہ حضرات بیدار ہوئے تو کھانا تیار ہو چکا تھا ، وہ انہوں نے ان حضرات کے سامنے رکھا تو ان حضرات نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باقی گچھے لے آئے ، ان حضرات نے وہ کھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی ، پھر آپ نے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس غلام آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آنا ۔ سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آئے ہیں ، میں مدینہ منورہ آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک غلام عطا کیا ، پھر میں نے اس کے ساتھ چالیس ہزار درہم کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا ، میں نے اس سے زیادہ برکت والا کوئی وجود نہیں دیکھا ۔
حدیث نمبر: 18260
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَتْ أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ : لَوْ دَعَوْتَ لَنَا ! قَالَ : " أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ الْغُلَامِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى : أَبُو خَلَفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ : أُمُّ الْهَيْثَمِ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوالہیثم کی والدہ نے کہا: اگر آپ ہمیں دعا دیں ( تو عنایت ہو گی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روزہ داروں نے تمہارے ہاں افطاری کی ہے ، نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے اور فرشتوں نے تمہارے لئے دعائے رحمت کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ غلام کے واقعے والا حصہ نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ ابوخلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے لفظ ” ام الہیثم “ نقل کیا ہے ، جبکہ امام بزار نے ” ابوالہیثم کی والدہ “ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ غلام کے واقعے والا حصہ نقل کیا ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ ابوخلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے لفظ ” ام الہیثم “ نقل کیا ہے ، جبکہ امام بزار نے ” ابوالہیثم کی والدہ “ نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18261
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ فَسَمِعَ بِذَاكَ عَمَرُ ، فَخَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! فَقَالَ : أَخْرَجَنِي وَاللَّهِ ، مَا أَجِدُ مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ فِي بَطْنِي ، فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ ، مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ . ¤ فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " . فَقَالَا : أَخْرَجَنَا وَاللَّهِ ، مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مَنْ حَاقِّ الْجُوعِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ " . فَقَامُوا فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا أَوْ لَبَنًا ، فَأَبْطَأَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ فَأَطْعَمَهُ أَهْلَهُ ، وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ ، فَلَمَّا أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَتْ : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَنْ مَعَهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ ؟ " . قَالَتْ : يَأْتِيكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ السَّاعَةَ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَصُرَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ ، وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَدْرَكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَنْ مَعَهُ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيئُنِي فِيهِ فَرَدَّهُ . فَجَاءَ إِلَى عِذْقِ النَّخْلَةِ فَقَطَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَدْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ رُطَبِهِ ، وَبُسْرِهِ ، وَتَمْرِهِ ، وَتَذْنُوبِهِ ، وَلَأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا . قَالَ : " إِنْ ذَبَحْتَ فَلَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ ذَرٍّ " . فَأَخَذَ عَنَاقًا ، أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : اخْتَبِزِي ، وَأَطْبُخُ أَنَا ، فَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخُبْزِ . فَعَمَدَ إِلَى نِصْفِ الْجَدْيِ فَطَبَخَهُ ، وَشَوَى نِصْفَهُ ، فَلَمَّا أَدْرَكَ الطَّعَامُ ، وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْجَدْيِ فَوَضَعَهُ عَلَى رَغِيفٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، أَبْلِغْ بِهَذَا إِلَى فَاطِمَةَ ; فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ " . فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خُبْزٌ ، وَلَحْمٌ ، وَبُسْرٌ ،وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ " . وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا ، وَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ ، فَقُولُوا : بِسْمِ اللَّهِ ، وَبَرَكَةِ اللَّهِ ، فِإِذَا شَبِعْتُمْ فَقُولُوا الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا وَأَزْوَانَا وَأَنْعَمَ وَأَفْضَلَ ، فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَذَا " . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْتِي أَحَدٌ إِلَيْهِ مَعْرُوفًا إِلَّا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ ، فَقَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ : " ائْتِنَا غَدًا " . فَلَمْ يَسْمَعْ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ ، فَلَمَّا أَتَاهُ أَعْطَاهُ وَلِيدَةً ، فَقَالَ : " يَا أَبَا أَيُّوبَ ، اسْتَوْصِ بِهَا خَيْرًا ; فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا " . فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ قَالَ : مَا أَجِدُ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرًا مِنْ أَنْ أُعْتِقَهَا ، فَأَعْتَقَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دن چڑھے کے وقت باہر تشریف لائے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سنا تو وہ بھی باہر آ گئے ، وہاں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوبکر ! آپ اس وقت میں کیوں باہر آئے ہیں ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس وجہ سے باہر آیا ہوں کہ مجھے اپنے پیٹ میں شدید ترین بھوک محسوس ہو رہی ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بولے : میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں ، ابھی یہ دونوں حضرات اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان دونوں کے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں اس وقت میں کیوں باہر آئے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! ہم اپنے پیٹ میں محسوس ہونے والی شدید ترین بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میرا بھی یہی معاملہ ہے کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی اور چیز باہر نہیں لائی ، پھر یہ حضرات اُٹھے اور چلتے ہوئے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانے یا شاید دودھ کے بارے میں ذکر کیا تھا ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے میں تاخیر ہو گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مخصوص وقت پر تشریف نہیں لائے تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ کھانا اپنے گھر والوں کو کھلایا اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلے گئے تاکہ وہاں کام کاج کریں ، جب یہ حضرات ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچے تو ان کی اہلیہ باہر آئیں اور بولیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھ والے افراد کو خوش آمدید ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : ابوایوب کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! وہ ابھی آپ کے پاس آ جاتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے ، سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا وہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ، وہ دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھ والے افراد کو خوش آمدید ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس وقت میں تشریف نہیں لاتے ہیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس لے گئے ، پھر وہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے اور اسے کاٹا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم اس کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس میں سے مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، اس کے ہمراہ میں آپ کے لیے کوئی جانور ذبح کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے ذبح کرنا ہے تو کسی دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا ، تو انہوں نے بکری کے ایک سال کے بچے کو ذبح کیا ، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : تم روٹی پکاؤ ، میں سالن تیار کرتا ہوں ، کیونکہ تم روٹی زیادہ بہتر پکا سکتی ہو ، پھر انہوں نے اس جانور کے بچے کے نصف حصے کو لیا اور اسے پکایا اور نصف حصے کو بھون لیا ، جب کھانا تیار ہوا تو وہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے آگے رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کچھ ) گوشت لیا اور اسے روٹی پر رکھا اور پھر یہ فرمایا : اے ابوایوب ! یہ فاطمہ تک پہنچا دینا کیونکہ اسے کئی دن سے اس طرح کا کھانا نہیں ملا ، جب ان حضرات نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روٹی ، گوشت بسر ، تمر ، رطب ( یعنی مختلف قسم کی کھجوریں ) پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ کے ساتھیوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں اس طرح کی چیز نصیب ہو اور تم اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ ، تو یہ پڑھ لو : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ( عطا کی ہوئی ) برکت کے ہمراہ “ اور جب تم سیر ہو جاؤ تو یہ پڑھو : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں سیر کر دیا اور ہمیں سیراب کر دیا اور نعمت عطا کی اور فضل کیا ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو یہ اس کا بدلہ بن جائے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو شخص آپ کے ساتھ کوئی اچھائی کرتا تھا ، آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ اسے بدلہ دیں ، آپ نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کل تم ہمارے پاس آنا ، انہوں نے یہ بات نہیں سنی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ آپ ان کے پاس آئیں ، جب سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( اگلے دن ) حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک کنیز دی اور فرمایا : اے ابوایوب ! اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ، کیونکہ یہ جب سے ہمارے پاس ہے ہم نے اس میں صرف بھلائی دیکھی ہے ۔ جب سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اس کنیز کو لے کر آ گئے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین کے حوالے سے مجھے اس سے بہتر صورت اور نہیں ملتی کہ میں اسے آزاد کر دوں تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18262
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، قَالَ : فَاتَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ; فَجَعَلْتُ أَتَقَلَّبُ لَا يَأْتِينِي النَّوْمُ ، فَقُلْتُ : لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي ، فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ اسْتَنَدْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ ، فَدَخَلَ عُمَرُ ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْكَرَنِي ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو بَكْرٍ . فَقَالَ : مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! قُلْتُ : الْجُوعُ . قَالَ : وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى سَوَادَنَا أَنْكَرَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَانِ ؟ فَبَدَرَنِي عُمَرُ فَقَالَ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا عُمَرُ فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ ! " . فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ . فَقَالَ : " وَأَنَا مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا ، انْطَلِقَا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ " . فَأَتَيْنَا الْبَابَ ، فَاسْتَأْذَنَّا فَخَرَجَتِ الْمَرْأَةُ ، قَالَ : " أَيْنَ فَلَانٌ ؟ " . قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ مِنْ حُشِّ بَنِي حَارِثَةَ ، فَفَتَحَتِ الْبَابَ ، فَدَخَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ قَدْ مَلَأَ قِرْبَةً عَلَى ظَهْرِهِ ، عَلَّقَهَا عَلَى كِرْنَفَةٍ مِنْ كَرَانِيفِ النَّخْلِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، مَا زَارَ النَّاسَ خَيْرٌ مِنْ زَوْرٍ زَارُونِي اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ جَاءَ بِعِذْقِ بُسْرٍ ، فَجَعَلْنَا نَنْتَقِي فِي الْقَمَرِ ، وَنَأْكُلُ ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ وَجَالَ فِي الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ ، أَوْ ذَاتَ الدَّرِّ " . فَذَبَحَ لَنَا شَاةً ، وَسَلَخَهَا ، وَقَطَّعَهَا فِي الْقِدْرِ ، وَأَمَرَ الْمَرْأَةَ فَعَجَنَتْ وَخَبَزَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِثَرِيدَةٍ وَلَحْمٍ فَأَكَلْنَا . ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ تَخَفَّقَتْهَا الرِّيحُ فَبَرَدَتْ ، فَسَقَانَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ ، ثُمَّ لَمْ نَرْجِعْ حَتَّى أَصَبْنَا هَذَا ، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ثُمَّ قَالَ لِلْوَاقِعِيِّ : " أَمَا لَكَ خَادِمٌ يَكْفِيكَ هَذَا ؟ " . قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَانْظُرْ أَوَّلَ سَبْيٍ يَأْتِينِي فَائْتِنِي آمُرُ لَكَ بِخَادِمٍ " . ¤ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَتَاهُ سَبْيٌ ، فَأَتَاهُ فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : مَوْعِدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي ، قَالَ : " قُمْ ، فَاخْتَرْ مِنْهُمْ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي ، قَالَ : " خُذْ هَذَا الْغُلَامَ ، وَأَحْسِنْ إِلَيْهِ " . فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا قَالَ لَهُ ، فَقَالَتْ : فَقَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ ; فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَمَا الْإِحْسَانُ ؟ قَالَتْ : أَنْ تُعْتِقَهُ . قَالَ : فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ فِي ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَتَمَّ مِنْهُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : ” ایک رات میں نے عشاء کی نماز ( باجماعت ) ادا نہیں کی ، میں کروٹیں بدلتا رہا لیکن مجھے نیند نہیں آئی ، میں نے سوچا اگر میں نکل کر مسجد چلا جاؤں ، وہاں جو میرے نصیب میں ہو وہ نماز ادا کروں ) تو یہ مناسب ہو گا ) میں نے ایسا ہی کیا اور پھر مسجد کے کونے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو وہ حیران ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : ابوبکر ، انہوں نے کہا: آپ اس وقت گھر سے باہر کیوں آئے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : بھوک کی وجہ سے ، انہوں نے کہا: میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں جس کی وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، جب آپ نے ہمارے ہیولے دیکھے تو آپ حیران ہوئے ، آپ نے دریافت کیا : یہ دو افراد کون ہیں ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہل کی اور بولے : یہ سیدنا ابوبکر ہیں اور یہ عمر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم دونوں اس وقت گھر سے باہر کیوں آئے ہو ؟ ہم نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم دونوں باہر آئے ہو ، تم دونوں ہمارے ساتھ واقفی کی طرف چلو ۔ “ ہم ( ان صاحب کے ) دروازے پر آئے ، ہم نے اجازت طلب کی ، خاتون باہر آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : فلاں کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ بنو حارثہ کے محلے سے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، اس خاتون نے دروازہ کھول دیا ، ہم اندر آ گئے ، تھوڑی دیر بعد وہ صاحب بھی آ گئے ، انہوں نے پانی کا بھرا ہوا مشکیزہ اپنی پشت پر لادا ہوا تھا ، انہوں نے وہ مشکیزہ کھجور کے درخت کی ایک شاخ سے لٹکایا ، پھر وہ ہماری طرف آئے اور بولے : خوش آمدید ! کسی بھی شخص کے گھر میں میرے مہمانوں سے بہتر مہمان نہیں آئے ہوں گے ، پھر وہ تازہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے آیا ہم چاند کی روشنی میں کھجوریں چن کر کھانے لگے پھر اس نے چھری پکڑی اور بکریوں کے درمیان گھومنے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والی بکری سے بچ کے رہنا ( یعنی اُسے ذبح نہ کرنا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس نے ایک بکری ہمارے لئے ذبح کی ، اس کی کھال اتاری اسے ہنڈیا میں پکایا ، اس نے عورت کو حکم دیا اس عورت نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی ، پھر وہ شخص ثرید اور گوشت لے کر آیا ، ہم نے کھایا پھر وہ اٹھ کر مشکیزہ کی طرف گیا ، ہوا کی وجہ سے اُس کا پانی ٹھنڈا ہو چکا تھا ، اس نے ہمیں وہ پلایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں باہر نکالا ، ہم صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے لیکن واپس جانے سے پہلے ہمیں یہ چیزیں نصیب ہو گئیں ، یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واقفی ( یعنی میزبان شخص ) سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ جو تمہارے یہ کام کر سکے ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دھیان رکھنا ! ہمارے پاس اب سب سے پہلے جو قیدی آئیں گے تو تم میرے پاس آ جانا ، میں تمہیں کوئی خادم دینے کا حکم دے دوں گا ۔ تھوڑے عرصے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی آئے ، وہ صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اُس وعدے کی وجہ سے جو آپ نے میرے ساتھ کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھو اور ان میں سے کسی کو منتخب کر لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے کسی کو اختیار کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس لڑکے کو لے لو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، وہ صاحب اپنی بیوی کے پاس آئے اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بارے میں بتایا اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا ، اس کے بارے میں بتایا ، تو اس خاتون نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اس کے ساتھ بھلائی کریں ، تو آپ اس کے ساتھ بھلائی کر لیں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا بھلائی کروں ؟ اس خاتون نے کہا: آپ اسے آزاد کر دیں ، ان صاحب نے کہا: پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو دودھ دینے والی بکری کو ذبح کرنے ( سے روکنے سے متعلق ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اسے اُس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ بن موہب ہے ، جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، لیکن اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اسے اُس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ بن موہب ہے ، جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، لیکن اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18263
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ ، وَأَنَّ عُمَرَ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمَا وَأَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ : أَنَّهُ لَمْ يُخْرِجْهُمَا إِلَّا الْجُوعُ . فَقَالَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ " . - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي الْمَنْزِلِ ; ذَهَبَ يَسْتَسْقِي ، فَرَحَّبَتِ الْمَرْأَةُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِصَاحِبَيْهِ ، وَبَسَطَتْ لَهُمْ شَيْئًا فَجَلَسُوا عَلَيْهِ ، فَسَأَلَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ انْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ ؟ " . قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ بِقِرْبَةٍ فِيهَا مَاءٌ ، فَانْطَلَقَ فَعَلَّقَهَا ، وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَ لَهُمْ شَاةً ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ ذَلِكَ ، فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَجَاءَ بِكَبَائِسَ مِنَ النَّخْلِ ; فَأَكَلُوا مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ ، وَالْبُسْرِ ، وَالرُّطَبِ ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ ، وَإِمَّا عُمَرُ - : هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي نُسْأَلُ عَنْهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤْمِنُ لَا يُثَرَّبُ عَلَى شَيْءٍ أَصَابَهُ فِي الدُّنْيَا ، إِنَّمَا يُثَرَّبُ عَلَى الْكَافِرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر تشریف لائے ، وہ صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے وہ بھی صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے پاس تشریف لائے ، ان دونوں نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر چلو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، جن کا نام سیدنا ابوالہیثم بن تیہان تھا ، وہ گھر میں نہیں تھے ، وہ پانی لینے کے لیے گئے ہوئے تھے ، اُن کی اہلیہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو خوش آمدید کہا: اور ان کے لئے کوئی چیز بچھا دی ، یہ حضرات اس پر تشریف فرما ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : ابوالہیثم کہاں گیا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد وہ صاحب مشکیزہ لے کر آ گئے ، جس میں پانی موجود تھا ، وہ گئے ، انہوں نے مشکیزے کو لٹکایا ، انہوں نے ان حضرات کے لئے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کر لیا ، پھر وہ کھجوروں کے خوشے لے آئے ، اُن حضرات نے گوشت کھایا مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، پانی پیا ، پھر ان دونوں صاحبان ( یعنی سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ) میں سے کسی ایک نے دریافت کیا : کیا یہ ان نعمتوں میں سے ہیں ؟ جن کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مؤمن دنیا کی جو بھی چیز استعمال کرے گا اُس کی وجہ سے اس پر ملامت نہیں ہو گی ، کافر پر ملامت ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 18264
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَالَ : لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ ، يَا بُنَيَّ ، مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ ، فَنُقَسِّمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ ؟ قَالَ : لَا تَقُلْ ذَاكَ يَا بُنَيَّ ، فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ،وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَكَانَ ثِقَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا ( سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے راوی کو بتایا : ) اے میرے بیٹے ! اس وقت ہمارے پاس زاد سفر کے طور پر صرف کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا تھا ہم اسے ایک ایک مٹھی تقسیم کر لیتے تھے ، یہاں تک کہ وہ وقت بھی آ گیا کہ ہمارے حصے میں ایک ایک کھجور آتی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے ابا جان ! ایک کھجور کے ساتھ آپ کا گزارا کیسے ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم یہ بات نہ کرو ، بعد میں جب ہمیں وہ بھی نہیں ملتی تھی ، تو ہمیں اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18265
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ فِيهَا ، ثُمَّ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ " فَقَالَ : أَخْرَجَنِي الْجُوعُ ، قَالَ : " وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ " . ثُمَّ خَرَجَ عُمَرُ فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكَ يَا عُمَرُ ؟ " قَالَ : أَخْرَجَنِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ الْجُوعُ . ثُمَّ سَارَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ " فَانْطَلَقُوا ، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَتْ لَهُمُ امْرَأَتُهُ : إِنَّهُ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ ، فَدُورُوا إِلَى الْحَائِطِ ، فَدَارُوا إِلَى الْحَائِطِ ، فَفَتَحَتْ لَهُمْ بَابَ الْحَائِطِ . فَجاَءَ أَبُو الْهَيْثَمِ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : تَدْرِي مَنْ عِنْدَكَ ؟ فَقَالَ : لَا ، فَقَالَتْ عِنْدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ فَعَلَّقَ قِرْبَتَهُ عَلَى نَخْلَةٍ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ حَيَّا وَرَحَّبَ ، ثُمَّ أَتَى مِخْرَفًا فَاخْتَرَفَ لَهُمْ رُطَبًا ، فَأَتاَهُمْ بِهِ فَصَبَّهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ . ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ أَهْوَى إِلَى غُنَيْمَةٍ لَهُ فِي نَاحِيَةِ الْحَائِطِ لِيَذْبَحَ لَهُمْ مِنْهَا شَاةً ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَّا ذَاتُ دَرٍّ فَلَا " فَأَخَذَ شَاةً فَذَبَحَهَا وَسَلَخَهَا وَقَطَّعَهَا أَعْضَاءً ثُمَّ طَبَخَهَا بِالْمَاءَ وَالْمِلْحِ ، ثُمَّ أَتَى امْرَأَتَهُ فَسَأَلَهَا ، هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ ، كُنْتُ أُؤَخِّرُهُ ، فَطَحَنَاهُ بَيْنَهُمَا فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ ، فَكَسَرَهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَأَكْفَأَ عَلَيْهِ ذَلَكَ اللَّحْمَ الَّذِي طَبَخَهُ ، ثُمَّ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَكَلُوا ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ : " يَا أَبَا الْهَيْثَمِ ، أَمَا لَكَ مِنْ خَادِمٍ ؟ " قَالَ لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا لَنَا خَادِمٌ ، قَالَ : " إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ جَاءَنَا سَبْيٌ فَأْتِنَا نُخْدِمْكَ " . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ ، فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غُلَامَانِ - أَوْ قَالَ وَصِيفَانِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا الْهَيْثَمِ اخْتَرْ مِنْهُمَا " أَوْ قَالَ : " تَخَايَرْ مِنْهُمَا " قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي . فَاحْتَاطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَقَالَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ خُذْ هَذَا " فَلَمَّا وَلَّى بِهِ أَبُو الْهَيْثَمِ قَالَ : " يَا أَبَا الْهَيْثَمِ أَحْسِنْ إِلَيْهِ فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي " قَالَ : نَعَمْ ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى أَهْلِهِ ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا ، وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنَا خَادِمًا يَخْدُمُنَا وَيُعِينُنَا عَلَى ضَيْعَتِنَا ، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ : نَعَمْ ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، خَادِمٌ أَخْدَمَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، تُرِيدُ أَنْ تُحْرِمَنَاهُ ، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِلْغُلَامِ : أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتَ تُقِيمُ مَعَنَا نُطْعِمُكَ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُكَ مِمَّا نَلْبَسُ ، وَلَا نُكَلِّفُكَ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا تُطِيقُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی گھڑی میں باہر تشریف لے آئے جس میں آپ عام طور پر باہر نہیں آتے تھے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم باہر آئے ہو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عمر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کی طرف روانہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر طرف چلو ! یہ حضرات گئے ، جب یہ حضرات ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے تو ان کی اہلیہ نے ان حضرات کو بتایا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں ، آپ لوگ باغ کی طرف چلے جائیں ، یہ حضرات باغ کی طرف چلے گئے ، اس خاتون نے ان کے لیے باغ کا دروازہ کھول دیا ، پھر سیدنا ابوالہیثم بھی آ گئے ، اُن کی اہلیہ نے ان سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں آپ کے ہاں کون آیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب تشریف لائے ہیں ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کے پاس آئے انہوں نے مشکیزہ کجھور کے درخت کے ساتھ لٹکایا ، پھر ان حضرات کے پاس آ کر انہیں سلام کیا اور انہیں خوش آمدید کہا: ، پھر وہ گئے اور ان کے لیے تازہ کھجوریں چن کر لائے اور وہ لا کر ان کے آگے رکھ دیں ، پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ باغ کے کونے میں موجود اپنی بکریوں کی طرف بڑھے تاکہ ان میں سے کوئی بکری ذبح کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : دودھ دینے والی بکری کو ( ذبح ) نہ کرنا ، انہوں نے ایک بکری لی ، اُسے ذبح کیا اس کی کھال اتاری ، اس کے اعضاء کاٹے ، پھر اسے پانی اور نمک کے ہمراہ پکایا ، پھر وہ اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! ہمارے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، جو میں نے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے ، ان دونوں نے ان جو کو پیس لیا ، پھر اس خاتون نے آٹا گوندھا اور اس کی روٹی پکائی ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے ان روٹیوں کے ٹکڑے کیے ، ان پر وہ گوشت ڈالا جو انہوں نے پکایا تھا ، پھر وہ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس لے آئے ، اُن حضرات نے اسے کھا لیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے ابوالہیثم ! کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ہمارے پاس خادم نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس قیدی آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ، ہم تمہیں کوئی خدمتگار دے دیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو غلام موجود تھے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احتیاط کی ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی آستینیں چڑھا لیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ مؤتمن ہوتا ہے ، تم اس کو لے لو ، جب سیدنا ابوالہیثم اس غلام کو ساتھ لے کر واپس جانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھائیں گے اور وہی پہنائیں گے جو ہم خود پہنیں گے اور اسے ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی اس میں طاقت نہ ہو ۔ پھر سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گھر چلے گئے ، ان کے گھر والے اس غلام کی وجہ سے بہت خوش ہوئے انہوں نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں ایسا خدمتگار عطا کیا ہے جو ہماری خدمت کرے گا اور ہمارے کاموں میں ہماری مدد کرے گا ، تو سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا: ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھاتے ہیں اور اس کو وہی پہننے کے لئے دیں گے جو ہم خود پہنتے ہیں اور اسے کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی یہ طاقت نہ رکھتا ہو ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا: سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خدمتگار دیا ہے اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے محروم کر دیں ؟ سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا: تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے آزاد ہو ، اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ رہو ، ہم جو خود کھائیں گے اس میں سے تمہیں کھلائیں گے ، جو خود پہنیں گے اس میں سے تمہیں پہننے کے لئے دیں گے ، اور تمہیں کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی تم میں طاقت نہ ہو اور اگر تم چاہو تو جہاں چاہو چلے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18266
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ قَالَ : أَقَمْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً ، فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدُ حُجْرَةِ عَائِشَةَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبُرُدُ الْمَتَعَتِّقَةُ ، وَإِنَّهُ لَتَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لِيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّ بِهِ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ ، ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سال مقیم رہا ، ایک دن انہوں نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ، انہوں نے فرمایا : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہمارے پاس مناسب کپڑے نہیں ہوتے تھے ، صرف پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی اور ہم پر کئی دن ایسے گزر جاتے تھے کہ کھانے کے لیے اتنا نہیں ملتا تھا جو پشت کو سیدھا رکھ سکے ، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص پتھر لے کر اسے اپنے پیٹ پر کپڑے کے ذریعے باندھ لیتا تھا تاکہ اس کے ذریعے اپنی پشت کو قائم رکھ سکے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18267
وَعَنْهُ قَالَ : إِنَّمَا كَانَ طَعَامُنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّمْرَ وَالْمَاءَ ، وَاللَّهِ ، مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَكُمْ هَذِهِ ، وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ ؟ وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّمَارَ ، يَعْنِي : بُرُدَ الْأَعْرَابِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا ، اللہ کی قسم ! ہم نے تمہاری یہ گندم دیکھی ہی نہیں تھی ، ہمیں پتا ہی نہیں تھا یہ کیا ہوتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا لباس چادریں ہوتی تھیں ، راوی کہتے ہیں : یعنی جو دیہاتیوں کا لباس ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18268
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ : قَالَ أَبِي : لَقَدْ عَمَّرْنَا مَعَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الْأَسْوَدَانِ ؟ قُلْتُ : لَا . قَالَ : الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے فرمایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا وقت گزارا ہے کہ ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں ، پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ، دو سیاہ چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : کھجور اور پانی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18269
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا ; فَقَالَ لَهُ : " أَلَا تَسْتَاكُ ؟ " . فَقَالَ : إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنْ لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ ، فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا ، فَآوَاهُ وَقَضَى حَاجَتَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو افراد آئے ، ان دونوں کی حاجت ایک ہی تھی ، ان میں سے ایک شخص نے گفتگو شروع کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے منہ میں سے بدبو محسوس ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم مسواک نہیں کرتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : کرتا ہوں ، لیکن میں نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں ایک شخص کو ہدایت کی ، وہ اسے اپنے ساتھ لے کر گیا اور اس نے اس کی حاجت پوری کی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18270
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بُسْرًا أَخْضَرَ ; فَقَالَ : " كُلْ يَا ابْنَ عُمَرَ " . قُلْتُ : مَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا تَشْتَهِيهِ ، إِنَّهُ لَأَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں داخل ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ کھجوریں کھانا شروع کیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن عمر ! تم بھی کھاؤ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ : مجھے ان کی طلب نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ان کی طلب نہیں ہے ، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ چار دن میں یہ پہلا کھانا کھایا ہے ۔
حدیث نمبر: 18271
وَفِي رِوَايَةٍ : " مُنْذُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” گزشتہ تین دن میں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18272
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا ، فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَوْ قَالَتْ : فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَطَعْتُ - قَالَ : فَتَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ : هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَلَى مِصْبَاحٍ ؟ ! قَالَتْ : لَوْ كَانَ عِنْدَنَا دُهْنُ مِصْبَاحٍ لَأَكَلْنَاهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے رات کے وقت ہمیں ایک بکری کا پایا بھیجا ( یا ٹانگ بھیجی ) تو میں نے اس کو پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کاٹا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا اور میں نے اسے کاٹا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ ان دنوں کی بات ہے جب ( گھروں میں ) چراغ نہیں ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : میں نے کہا: اے ام المؤمنین ! کیا چراغ نہیں تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اگر ہمارے پاس چراغ کے لیے تیل ہوتا تو ہم اس کو کھا لیتے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : میں نے کہا: اے ام المؤمنین ! کیا چراغ نہیں تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اگر ہمارے پاس چراغ کے لیے تیل ہوتا تو ہم اس کو کھا لیتے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
…