حدیث نمبر: 18303
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ - قَالَ شُعْبَةُ : أَحْسَبُهُ قَالَ : - شَهْرًا ، قَالَ : فَأَتَاهُ عُمَرُ ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِجَنْبِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كِسْرَى - أَحْسَبُهُ قَالَ : قَيْصَرُ - يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَأَنْتَ هَكَذَا ؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا " . وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے لاتعلقی اختیار کی ۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک ماہ تک کے لئے لاتعلقی اختیار کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چٹائی پر موجود تھے اور چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ کی یہ صورت حال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں جلدی دے دی گئی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تیسری مرتبہ میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھا بند رکھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیچ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3676) اخرجه احمد فى المسند (7950)»