مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيرٌ مُشَبَّكٌ بِالْبُورِيِّ ، وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ أَسْوَدُ ، فَأَجْلَسْنَاهُ عَلَى الْبُورِيِّ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَلَيْهِ ، فَنَظَرَا فَرَأَيَا أَثَرَ السَّرِيرِ فِي جَنْبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكُمَا ؟ " . قَالَا : نَبْكِي لِأَنَّ هَذَا السَّرِيرَ قَدْ أَثَّرَتْ فِي جَنْبِكَ خُشُونَتُهُ ، وَكِسْرَى وَقَيْصَرُ عَلَى فُرُشِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عَاقِبَةَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ إِلَى النَّارِ ، وَعَاقِبَةَ سَرِيرِي هَذَا إِلَى الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ نَزِيلُ نَيْسَابُورَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پلنگ تھا ، جس میں بان لگا ہوا تھا ، آپ کے جسم پر سیاہ رنگ کی چادر تھی ، ہم نے آپ کو بان پر بٹھا دیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بان کی چارپائی پر تشریف فرما تھے ، اُن دونوں حضرات نے دیکھا کہ بان کا نشان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر بن گیا ہے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا : تم دونوں کیوں رو رہے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی : ہم اس لئے رو رہے ہیں کیونکہ اس چارپائی کھردرے پن کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا ہے جبکہ کسریٰ اور قیصر ریشم اور دیباج کے بچھونوں پر ہوتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسریٰ اور قیصر کا انجام جہنم ہے اور میرے اس پلنگ کا انجام جنت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی نزیل نیشاپور ہے اور وہ کذاب ہے ۔