مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَيْشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسَّلَفِ . باب: نبی اکرم ﷺ اور سلف ( صالحین ) کے طرز زندگی کا بیان
وَعَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ مَنْ كَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ ، فَلَمْ يَكُنْ لِي عَرِيفٌ ; فَنَزَلْتُ الصُّفَّةَ ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمْعَةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُوشِكُونَ أَنَّ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ يُغْدَى عَلَيْهِ بِالْجِفَانِ وَيُرَاحُ ، وَتَكْتَسُونَ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جس شخص کا کوئی واقف کار ہوتا تھا وہ اپنے واقف کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور جس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا وہ صفہ پر ٹھہر جاتا تھا ، میرا کیونکہ وہاں کوئی واقف نہیں تھا اس لئے میں صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا ، جمعہ کے دن ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ کہا: یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص زندہ رہ گیا ، تو وہ عنقریب ایسی صورتحال پائے گا کہ صبح و شام اس کے پاس ( مختلف قسم کے کھانوں کے ) پیالے لائے جائیں گے اور تم لوگ یوں لباس پہنو گے جس طرح خانہ کعبہ پر پردے لٹکائے جاتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔