حدیث نمبر: 18292
وَعَنْ سَلْمَى - امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالُوا : اصْنَعِي لَنَا طَعَامًا مِمَّا كَانَ يُعْجِبُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْلُهُ ، قَالَتْ : يَا بَنِيَّ ، إِذًا لَا تَشْتَهُونَهُ الْيَوْمَ ، فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ شَعِيرًا فَطَحَنْتُهُ ، وَنَسَفْتُهُ ، وَجَعَلْتُ مِنْهُ خُبْزَةً ، وَكَانَ أُدْمُهُ الزَّيْتَ ، وَنَثَرْتُ عَلَيْهِ الْفُلْفُلَ ، فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِمْ وَقُلْتُ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فَايِدٍ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میرے ہاں آئے ، انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے بھی وہ کھانا تیار کریں ، جو کھانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے ، اس خاتون نے کہا: اے میرے بیٹو ! آج تمہیں اس کی خواہش نہیں ہو گی ، وہ خاتون کہتی ہے : میں اُٹھی میں نے کچھ جو لیے ، اُنہیں پیسا ، انہیں چھانا اور ان کی روٹی پکائی ، روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر زیتون کا تیل تھا ، میں نے اس پر کچھ مرچیں رکھ دیں ، پھر میں نے وہ کھانا اُن حضرات کے آگے رکھا ، میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف فائد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے جو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18292
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (299/24)»