حدیث نمبر: 18287
وَعَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أَلُومُهُ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَخَرَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنَتِي وَهِيَ تَحْتَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ ، فَوَجَدْتُ شُرَحْبِيلَ فِي الْبَيْتِ فَقُلْتُ : قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْبَيْتِ ؟ ! وَجَعَلْتُ أَلُومُهُ ، فَقَالَ : يَا خَالَةُ لَا تَلُومِينِي ; فَإِنَّهُ كَانَ لِي ثَوْبٌ فَاسْتَعَارَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي كُنْتُ أَلُومُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ ، وَهَذِهِ حَالُهُ وَلَا أَشْعُرُ . فَقَالَ شُرَحْبِيلُ : مَا كَانَ إِلَّا دِرْعٌ رَقَعْنَاهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تاکہ آپ سے کچھ مانگوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے معذرت کرتے رہے اور میں اصرار کرتی رہی ، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا ، میں وہاں سے نکلی اور اپنی بیٹی کے پاس آ گئی ، جو شرحبیل بن حسنہ کی بیوی تھی ، میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا ، میں نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا ہے اور تم گھر میں موجود ہو ؟ میں نے اسے ملامت کرنی شروع کی ، اس نے کہا: اے خالہ جان ! آپ مجھے ملامت نہ کریں ، میرے پاس ( باہر پہن کے جانے کے لیے ) ایک ہی کپڑا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت کے طور پر مجھ سے لے لیا ہے ( راوی خاتون کہتی ہیں : ) میں نے سوچا ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، میں تو آج ان کے سامنے اصرار کرتی رہی ہوں اور ان کی یہ حالت ہے اور مجھے اس کا پتہ بھی نہیں تھا ، تو شرحبیل نے بتایا ( جو کپڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاریت کے طور پر لیا ہے ) وہ ایک قمیص ہے ، جس پر ہم نے پیوند لگائے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (312/24)»