حدیث نمبر: 18290
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَنْتُمْ أَكْثَرُ صَلَاةً ، وَأَكْثَرُ اجْتِهَادًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ ، قَالُوا : بِمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا أَزْهَدَ فِي الدُّنْيَا ، أَرْغَبَ فِي الْآخِرَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَارَةُ بْنُ يَزِيدَ صَاحِبُ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے زیادہ ( نفلی ) نمازیں ادا کرتے ہو اور زیادہ اہتمام سے عبادت کرتے ہو لیکن وہ لوگ تم سے بہتر تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! وہ کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا : کیونکہ وہ لوگ دنیا سے زیادہ بے رغبت تھے اور آخرت کی طرف زیادہ رغبت رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن یزید ہے جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18290
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8768)»