حدیث نمبر: 18295
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِنْ كَانَ لَتَمُرُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَهِلَّةُ مَا يُسْرَجُ فِي بَيْتِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سِرَاجٌ ، وَلَا يُوقَدُ فِيهِ نَارٌ ، وَإِنْ وَجَدُوا زَيْتًا ادَّهَنُوا بِهِ ، وَإِنْ وَجَدُوا وَدَكًا أَكَلُوهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر پہلی کے کئی چاند گزر جاتے تھے اور اس دوران اُن میں سے کسی ایک کے گھر میں ( رات کے وقت روشنی کرنے کے لئے ) چراغ نہیں جلایا گیا ہوتا تھا ، یا ( کھانا پکانے کے لئے ) آگ نہیں جلائی گئی ہوتی تھی ، اگر انہیں زیتون کا تیل ملتا تھا ، تو وہ اسے لگا لیتے تھے اور اگر چربی ملتی تھی ، تو وہ اسے کھا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ ضعیف ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18295
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6478)»