عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ - يُقَالُ لَهُ : مُعَاذٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بنوتیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ، جن کا نام سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ، زرہیں پہن کر تشریف لائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (660) اخرجه احمد فى المسند (449/3)»
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ اُحد کے دن دو زرہیں پہن کر تشریف لائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10066
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (659)»
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں پہن کر تشریف لائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفروہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10067
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1786)»
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایوب بن نعمان ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں دیکھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (302/22)»
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : عَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ " فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ ، فَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَخَرَجَ وَاتَّبَعْتُهُ ، فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَفْرَاهُ وَهَتَكَهُ ، حَتَّى أَتَى نِسْوَةً فِي سَفْحِ الْجَبَلِ وَمَعَهُنَّ هِنْدٌ وَهِيَ تَقُولُ . ¤ نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقْ نَمْشِي عَلَى النَّمَارِقْ وَالْمِسْكُ فِي الْمَفَارِقْ ¤ إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ أَوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ ¤ فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقْ ¤ قَالَ : فَحَمَلْتُ عَلَيْهَا فَنَادَتْ بِالصَّحْرَاءِ فَلَمْ يُجِبْهَا أَحَدٌ فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : كُلَّ صَنِيعِكَ رَأَيْتُهُ فَأَعْجَبَنِي غَيْرَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلِ الْمَرْأَةَ ، قَالَ : فَإِنَّهَا نَادَتْ فَلَمْ يُجِبْهَا أَحَدٌ ; فَكَرِهْتُ أَنْ أَضْرِبَ بِسَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً لَا نَاصِرَ لَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن تلوار آگے کی ، اور ارشاد فرمایا : کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرے گا ؟ تو سیدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کے حق کے ہمراہ اسے لوں گا ، اس کا حق کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار انہیں دیدی ، وہ اسے لے کر روانہ ہوئے میں ان کے پیچھے گیا ، وہ جس بھی چیز کے پاس سے گزرتے تھے ، اسے چیر دیتے تھے اور پھاڑ دیتے تھے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے دامن میں موجود کچھ خواتین کے پاس آئے ، ان خواتین کے ساتھ ” ہند “ بھی موجود تھی ، جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی : ” ہم طارق ( نامی ستارے ) کی بیٹیاں ہیں ( یعنی بلند مرتبہ کی مالک ہیں ) اور ہم قالینوں پر چلتی ہیں ، ہماری مانگ میں مشک لگی ہوتی ہے ، اگر تم پیش قدمی کرو گے تو ہم گلے لگائیں گی ، اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو ہم جدا ہوائیں گی ، ایسی جدائی جو کسی شک کے بغیر ہو ، ( یا ایسی جدائی جس کے بعد محبت نہ ہو سکے ) “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان صاحب نے اس خاتون پر تلوار سونتی ، تو اس نے صحراء میں بلند آواز میں پکارا ، لیکن کسی نے اسے جواب نہیں دیا ، تو پھر ان صاحب نے وہ تلوار اس خاتون کو نہیں ماری ، میں نے ان سے کہا: آپ نے جو کچھ بھی کیا ، وہ مجھے اچھا لگا لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ آپ نے اس عورت کو قتل نہیں کیا ، انہوں نے فرمایا : اس عورت نے پکارا تھا ، لیکن کسی نے اسے جواب نہیں دیا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اللہ کے رسول کی تلوار کے ذریعے کسی ایسی عورت پر ضرب لگاؤں ، جس کا کوئی مددگار نہ ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10069
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1787)»
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ " ، فَقَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اقْعُدْ " ، فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ " ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ وَرَفَعَ عَلَى عَيْنَيْهِ عِصَابَةً حَمْرَاءَ تَرْفَعُ حَاجِبَيْهِ عَنْ عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ ، ثُمَّ مَشَى بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسَّيْفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتاده بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ لے گا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ دریافت کیا : کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ لے گا ، تو سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار زوالفقار انہیں دی ، سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ اٹھے ، انہوں نے اپنی آنکھوں کے اوپری حصے پر سرخ پٹی باندھی تاکہ وہ کبر سنی کی وجہ سے آنکھوں پر آنے والی بھنووں کو روک سکے ، پھر وہ اس تلوار کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے ہوئے گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10070
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9/19)»
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سِمَاكِ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَا دُجَانَةَ يَوْمَ أُحُدٍ أَعْلَمَ بِعِصَابَةٍ حَمْرَاءَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُخْتَالٌ فِي مِشْيَتِهِ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ فَقَالَ : " إِنَّهَا مِشْيَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ إِلَّا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن سلیمان بن عبدالله بن خالد بن سماک بن خرشہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ اُحد کے دن سرخ پٹی کا نشان بنایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا ، وہ دو صفوں کے درمیان اترا کر چل رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس قسم کی چال کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، لیکن اس طرح کی صورت حال کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10071
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6508)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ كُنَّ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ يُجْهِزْنَ عَلَى قَتْلَى الْمُشْرِكِينَ فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ : إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ : مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَصَوْا مَا أَمَرَ بِهِ ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تِسْعَةٍ : سَبْعَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَهُوَ عَاشِرُهُمْ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَاحِبَيْهِ : " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا " ، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " فَقَالُوا : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، فَـقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَنَا عُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولُوا : " اللَّهُ مَوْلَانَا وَالْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، يَوْمٌ لَنَا وَيَوْمٌ عَلَيْنَا ، وَيَوْمٌ نُسَاءُ ، وَيَوْمٌ نُسَرُّ ، حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَوَاءً ، أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ " ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ ; فَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَأٍ مِنَّا ، مَا أَمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ ، وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ ، وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي ، قَالَ : فَنَظَرُوا ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ ، وَأَخَذَتْ هِنْدٌ كَبِدَهُ ، فَلَاكَتْهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلَتْ مِنْهَا شَيْئًا ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ " ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ وَتُرِكَ حَمْزَةُ ثُمَّ جِيءَ بِآخَرٍ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَرَكَ حَمْزَةَ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ؛ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں ، وہ مشرکین کے مقتولین کا سامان اکٹھا کرتی تھیں ، اگر میں اس دن کے بارے میں یہ حلف اٹھاؤں ، تو مجھے یہ امید ہے کہ میں سچا ہوؤں گا کہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی دنیا کی طلب نہیں تھی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” تم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو دنیا کا ارادہ رکھتے ہیں اور تم میں سے کچھ وہ ہیں ، جو آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں ، پھر اس نے تم کو ان لوگوں سے پھیر دیا ، تاکہ وہ تمہیں آزمائش کا شکار کرے “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے آپ کے حکم برخلاف کیا اور جو حکم انہیں دیا گیا تھا ، اس کی نافرمانی کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو افراد کے درمیان تنہا رہ گئے ، جن میں سے سات کا تعلق انصار سے تھا ، اور دو کا تعلق قریش سے تھا ، اور دسویں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جب دشمن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو دشمن کو ہم سے پرے تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اُٹھا ، اس نے گھڑی بھر کے لئے لڑائی کی اور شہید ہو گیا ، پھر جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو انہیں ہم سے پرے کرے ، آپ یہ مسلسل ارشاد فرماتے رہے ، یہاں تک کہ سات افراد شہید ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ساتھیوں سے فرمایا : ہمارے ساتھیوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ہے ، پھر ابوسفیان آیا اور بولاہبل برتر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ، ابوسفیان ( جو کفار کا سردار تھا ) اس نے کہا: ہمارے پاس عزی ہے ، تمہارے پاس عزیٰ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : اللہ تعالیٰ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی ( مددگار ) نہیں ہے پھر ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے ، ایک دن ہمارے حق میں ہوا ، اور ایک دن ہمارے خلاف ہوا ، ایک دن ہمیں اچھا نہیں لگا تھا ، اور ایک دن ہم خوش ہوئے ہیں ، حنظلہ کا بدلہ حنظلہ ہے ، فلاں کا بدلہ فلاں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دونوں برابر نہیں ہیں ، ہمارے مقتولین زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے ، اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں اور انہیں عذاب دیا جاتا ہے ابوسفیان نے کہا: کچھ لوگوں نے ( آپ کے افراد ) کا مثلہ کیا ہے ، اگرچہ یہ ہمارے بڑوں کے مشورے سے نہیں ہوا ، میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا ، اور اس سے منع بھی نہیں کیا ، میں اس کو پسند بھی نہیں کرتا اور مجھے یہ ناگوار بھی نہیں گزرا ، اور مجھے یہ برا بھی نہیں لگا ، اور اس نے مجھے خوش بھی نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بات کا جائزہ لیا ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ، اور ہند نے ان کا کلیجہ نکال کر اسے چبایا تھا ، وہ اسے کھا نہیں سکی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا ، لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حمزہ کے کسی حصے کو ، آگ میں داخل نہیں کرنا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رکھا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو لایا گیا اور انہیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر انصاری کی میت کو اٹھا لیا گیا ، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رہنے دیا گیا ، پھر ایک اور شخص کو لایا گیا اور اسے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر اس ( دوسرے ) شخص کی میت کو اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رہنے دیا گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس دن ستر مرتبہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10072
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4414)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا نَصَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ فِي يَوْمِ أُحُدٍ قَالَ : فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؛ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ : ( وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ ) يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ : الْقَتْلُ ، ( حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ) ، وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ، ثُمَّ قَالَ : " احْمُوا ظُهُورَنَا ، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قُتِلْنَا مَقْتَلَ فَلَا تَنْصُرُونَا ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا غَنِمْنَا فَلَا تُشْرِكُونَا " ، فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَاخُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ ، وَقَدِ الْتَفَّتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُمْ هَكَذَا - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ - وَانْتَشَوْا ، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا ، دَخَلَتِ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا ، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاجِبَانِ أَوَّلَ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ - أَوْ تِسْعَةٌ - وَرِجَالُ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ : الْغَارُ إِنَّمَا كَانَ تَحْتَ الْمِهْرَاسِ ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ : قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى ، قَالَ : وَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا ، قَالَ : فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَوْا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى : " اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا " حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ : اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ ، يَعْنِي آلِهَتَهُ ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُجِيبُهُ ؟ قَالَ : " بَلَى " ، قَالَ : فَلَمَّا قَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، قَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمْتُ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ ، وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَا سَوَاءً ؛ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونِ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذًا وَخَسِرْنَا ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مَثْلًا ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَنْ رَأْيِ سَرَّاتِنَا ، قَالَ : ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ : فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَلِكَ فَلَمْ نَكْرَهْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے کسی بھی صورت حال میں اس طرح کی صورت حال نازل نہیں کی جس طرح کی مدد غزوہ احد کے موقع پر کی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اس بات پر اعتراض کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں اور جو شخص اس کا انکار کر رہا ہے ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی ، غزوہ اُحد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا جب تم نے اس کے اذن کے تحت ان لوگوں کو قتل کیا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہاں ” حس “ سے مراد قتل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے مراد تیر انداز لوگ ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک مخصوص مقام پر کھڑا کیا تھا ، اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : تم لوگوں نے پیچھے سے ہماری حفاظت کرنی ہے ، اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے ، تو تم نے ہماری مدد نہیں کرنی اور اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم غنیمت حاصل کر رہے ہیں ، تو تم نے ہمارے ساتھ شریک نہیں ہونا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوا اور لوگوں نے مشرکین کے لشکر کو مباح قرار دیا ، تو وہ تیر انداز سب آئے اور لشکر میں سے چیزیں اکٹھے کرنے لگے ، جب مختلف صفیں مل گئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یوں ہو گئے ، راوی نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات بیان کی اور وہ گھل مل گئے ، تو جب تیر اندازوں نے وہ جگہ خالی کر دی ، جہاں پر تیر انداز تھے ، تو اس مقام سے دشمن کے کچھ گھڑ سوار آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر حملہ آور ہوئے ، اس دن بہت سے مسلمان شہید ہوئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب دن کے ابتدائی حصے میں اس حال میں تھے کہ مشرکین کے جھنڈا برداروں میں سے سات یا شاید نو افراد قتل ہوئے تھے اور مسلمانوں کے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، یہ لوگ وہاں تک نہیں پہنچے تھے ، جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں : غار ہے ، بلکہ یہ پانی کے چشمے کے پاس پہنچے تھے اسی دوران شیطان نے چیخ کر کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں ، تو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہوا کہ یہ بات درست ہو گی ، ہم اسی حالت میں رہے ، ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو چکے ہوں گے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد نام کے دو افراد کے درمیان چلتے ہوئے سامنے آئے ، ہم نے چلنے کے دوران آپ کے مخصوص انداز سے آپ کو پہچان لیا ، راوی کہتے ہیں : ہمیں اس بات سے اتنی خوشی ہوئی کہ جیسے ہمیں کوئی نقصان ہوا ہی نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چڑھ کر ہماری طرف آئے ، آپ یہ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر شدید ہو گا ، جس نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا ہے ، ایک مرتبہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے اللہ ! انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہم پر غالب آئیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ گھڑی بھر کے لئے ٹھہرے رہے ، پھر ابوسفیان نے پہاڑ کے نیچے والے حصے سے بلند آواز میں دو مرتبہ یہ کہا: ہبل سر بلند ہوا ، یعنی اس نے اپنے معبود کے بارے میں کہا: ، پھر پوچھا: ابن ابوکبشہ کہاں ہے ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہے ؟ ابن خطاب کہاں ہے ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے جواب نہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، جب اس نے کہا: ہبل سر بلند ہوا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ، ابوسفیان نے کہا: اے خطاب کے صاحبزادے ! کیا اس کی ( یعنی ہبل کی ) آنکھ نے اجازت دی تو اب تم اسے برا نہ کہنا ، پھر اس نے دریافت کیا : ابن ابوکبشہ کہاں ہیں ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہیں ؟ ابن خطاب کہاں ہیں ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں اور میں ، عمر بھی موجود ہوں ، تو ابوسفیان نے کہا: آج کا دن ، بدر کے دن کا بدلہ ہے ، اور دنوں میں الٹ پھیر ہوتا رہتا ہے اور جنگ ڈول کی طرح ہوتی ہے ( یعنی اس میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ) راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں برابر نہیں ہے ، ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ، ابوسفیان نے کہا: تم لوگ یہ گمان کرتے ہو ، ایسی صورت میں ، تو ہم رسوا ہو جائیں گے اور خسارے کا شکار ہو جائیں گے ، پھر ابوسفیان نے کہا: تم لوگ اپنے مقتولین میں کچھ لوگوں کو پاؤ گے کہ ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ، یہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اسے زمانہ جاہلیت کی حمیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، تو اس نے کہا: ایسا ہوا ہے اور ہم اسے ناپسند بھی نہیں کرتے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10073
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَيْ خَالِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قِصَّتِكُمْ يَوْمَ بَدْرٍ ؟ قَالَ : اقْرَأْ بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ تَجِدُ قِصَّتَنَا : ( وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا ) ، قَالَ : هُمُ الَّذِينَ طَلَبُوا الْأَمَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِلَى قَوْلِهِ : ( وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ) قَالَ : فَهُوَ يَتَمَنَّى لِقَاءَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِلَى قَوْلِهِ : ( إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ ) . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ماموں جان ! آپ غزوہ بدر کے موقعہ پر اپنی صورتحال کے بارے میں بتائیں ، انہوں نے فرمایا : تم سورہ آل عمران کی ایک سو بیس کے بعد والی آیات پڑھ لو تمہیں ہماری صورتحال کا ذکر مل جائے گا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکلے تاکہ تم اہل ایمان کو جنگ کے لیے ان کے مخصوص مقام پر تعینات کرو “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بزدلی کا مظاہرہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ( سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) ( ان لوگوں نے مشرکین سے امان مانگی تھی ، ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” حالانکہ اس ( دشمن ) کا سامنا کرنے سے ، پہلے تم موت ( یعنی شہادت ) کی آرزو کیا کرتے تھے ، تو تم نے اس کو ( یعنی موت یا شہادت کے سبب جنگ کو ) دیکھ لیا ، اور تم ( جنگ کی صورتحال کو ) دیکھ رہے تھے “ ۔ تو وہ ( دشمن ) اہل ایمان کا سامنا کرنے کی آرزو رکھتا تھا ، یہ آیت یہاں تک ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب تم اس ( یعنی پروردگار ) کے اذن کے تحت ان ( یعنی کفار ) کو قتل کر رہے تھے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10074
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (836)»
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا انْجَلَى النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ نَظَرْتُ فِي الْقَتْلَى فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا كَانَ لِيَفِرَّ ، وَلَا أَرَاهُ فِي الْقَتْلَى ، وَلَكِنْ أَرَى اللَّهَ غَضِبَ عَلَيْنَا بِمَا صَنَعْنَا فَرَفَعَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا لِي خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى أُقْتَلَ ، فَكَسَرْتُ جَفْنَ سَيْفِي ثُمَّ حَمَلْتُ عَلَى الْقَوْمِ فَرَجَوْا لِي ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکھر گئے ، تو میں نے مقتولین کو دیکھا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے ، میں نے سوچا ، اللہ کی قسم ! نہ تو آپ فرار ہوئے ہوں گے ، اور نہ ہی آپ مجھے مقتولین میں نظر آ رہے ہیں ، لیکن ہم نے جو کچھ کیا ہے ، مجھے لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے حوالے سے ہم پر غضب نازل کرے گا ، مجھے لگتا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر غضب نازل کیا ہے اور اپنے نبی کو اٹھا لیا ہے ، تو میرے لئے اس سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہے کہ میں لڑائی کرتا رہوں ، یہاں تک کہ قتل ہو جاؤں ، میں نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ دیا ، پھر میں لوگوں پر حملہ آور ہوا ، وہ لوگ ادھر ادھر بکھرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان موجود تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان عقیلی ہے ، جسے ابوداؤد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (546)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : لَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقُلْتُ : كُنْ طَلْحَةَ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِإِنْسَانٍ خَلْفِي كَأَنَّهُ طَائِرٌ ، فَلَمْ أَشْعُرْ أَنْ أَدْرَكَنِي ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَإِذَا طَلْحَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَرِيعًا ، قَالَ : " دُونَكُمْ أَخُوكُمْ فَقَدْ أَوْجَبَ " ، فَتَرَكْنَاهُ وَأَقْبَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا قَدْ أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ سَهْمَانِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْزِعَهُمَا فَمَا زَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَسْأَلُنِي وَيَطْلُبُ إِلَيَّ حَتَّى تَرَكْتُهُ يَنْزِعُ أَحَدَ السَّهْمَيْنِ ، وَأَزَّمَ عَلَيْهِ بِأَسْنَانِهِ فَقَلَعَهُ ، وَابْتَدَرَتْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُسَكِّنِّي وَيَطْلُبُ إِلَيَّ أَنْ أَدَعَهُ يَنْزِعُ الْآخَرَ ، فَوَضَعَ ثَنِيَّتَهُ عَلَى السَّهْمِ وَأَزَّمَ عَلَيْهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ تَحَوَّلَ فَنَزَعَهُ ، وَابْتَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ، قَالَ : فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَهْتَمَ الثَّنَايَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : ” جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ادھر ادھر ہو گئے ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آنے والا سب سے پہلا فرد تھا ، میں نے ایک شخص کو دیکھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لڑائی کر رہا تھا ، میں نے سوچا ، اللہ کرے یہ طلحہ ہو ، جب میں نے دیکھا تو ایک انسان میرے پیچھے بھی تھا ، وہ پرندے کی مانند تھا ، مجھے اندازہ نہیں ہوا اور وہ مجھ تک پہنچ گیا ، تو وہ ابوعبیدہ بن جراح تھے ، طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے زخمی ہو چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے بھائی کو سنبھالو ! کیونکہ اس نے ( جنت ) واجب کر لی ہے ، ہم نے انہیں چھوڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دو تیر لگے تھے ، میں نے انہیں الگ کرنے کا ارادہ کیا ، تو ابوعبیدہ نے مجھ سے یہی کہا: اور یہی مطالبہ کیا ( کہ میں انہیں یہ موقع دوں ) یہاں تک کہ میں نے انہیں موقع دیا کہ وہ دو میں سے ایک تیر نکال دیں ، انہوں نے اپنے دانتوں کے ذریعے اسے پکڑا اور اسے نکالا ، جس کے نتیجے میں ان کے سامنے کے دو دانتوں میں سے ایک ٹوٹ گیا ، پھر انہوں نے مجھ سے یہی درخواست کی اور یہی مطالبہ کیا کہ میں انہیں دوسرا تیر بھی نکالنے کا موقع دوں ، پھر انہوں نے اپنے سامنے کے دانت تیر پر رکھے اور انہیں دبایا ، اس بات کو ناگوار سمجھتے ہوئے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائیں اور پھر اسے بھی نکال لیا ، تو ان کے سامنے کے دونوں دانت ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو میں سے ایک دانت گر گیا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کے دانت نہیں تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن یحییٰ بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10076
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1791)»
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَصِرْنَا إِلَى الشِّعْبِ ، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ عَرَفْتُهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنِ اسْكُتْ ، ثُمَّ أَلْبَسَنِي لَأْمَتَهُ وَلَبِسَ لَأْمَتِي ، فَلَقَدْ ضُرِبْتُ حَتَّى جُرِحْتُ عِشْرِينَ جِرَاحَةً - أَوْ قَالَ : بِضْعَةً وَعِشْرِينَ جُرْحًا - كُلُّ مَنْ يَضْرِبَنِي يَحْسَبُنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ہم گھاٹی کی طرف آئے ، میں آپ کو پہچاننے والا پہلا فرد تھا ، میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا کہ تم خاموش رہو ، پھر آپ نے اپنے ہتھیار مجھے پہنا دیے اور میرے ہتھیار خود پہن لئے ، میں نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ مجھے بیس زخم راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیس سے کچھ زیادہ زخم لگے اور وہ سب زخم اسی وجہ سے لگے تھے کہ لوگ مجھے اللہ کا رسول سمجھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1108) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (100/19)»
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : لَمَّا جَالَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَوْلَةَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ : أَدُومُ فَإِمَّا أَنْ أَسْتَشْهِدَ ، وَإِمَّا أَنْ أَنْجُوَ حَتَّى أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مُخَمَّرٍ وَجْهُهُ مَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، فَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ يَجِيئُونَ نَحْوَهُ ، إِذْ قُلْتُ : قَدْ رَكِبُوهُ ، فَمَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْحَصَى ثُمَّ رَمَى بِهِ فِي وُجُوهِهِمْ ، فَمَضَوْا عَلَى أَعْقَابِهِمُ الْقَهْقَرَى حَتَّى حَارُوا وَصَارُوا بِإِزَاءِ الْجَبَلِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَمَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمِقْدَادُ ، فَبَيْنَا أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ الْمِقْدَادَ عَنْهُ إِذْ قَالَ لِي الْمِقْدَادُ : يَا سَعْدُ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكَ ، فَقُلْتُ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ فَأَشَارَ لِي الْمِقْدَادُ إِلَيْهِ ، فَقُمْتُ وَلَكَأَنَّمَا لَمْ يُصِبْنِي شَيْءٌ مِنَ الْأَذَى ، فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَا سَعْدُ ؟ " وَأَجْلَسَنِي أَمَامَهُ فَجَلَسْتُ أَرْمِي وَأَقُولُ : اللَّهُمَّ سَهْمًا أَرْمِي بِهِ عَدُوَّكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ ، اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ ، إِيهًا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " ، فَمَا مِنْ سَهْمٍ أَرْمِي بِهِ إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ ، وَأَجِبْ دَعْوَتَهُ ، إِيهًا سَعْدُ " ، حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْ كِنَانَتِي نَثَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِنَانَتَهُ ، فَنَاوَلَنِي سَهْمًا لَيْسَ فِيهِ رِيشٌ ، فَكَانَ أَشَدَّ مِنْ غَيْرِهِ . ¤ قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ الْأَسْهُمَ الَّتِي رَمَى بِهَا سَعْدٌ يَوْمَئِذٍ أَلْفُ سَهْمٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ادھر ادھر ہو گئے ، تو میں نے کہا: میں ایسے ہی رہوں گا ، یا تو میں جام شہادت نوش کر لوں گا ، یا نجات پا جاؤں گا ، یہاں تک کہ اللہ کے رسول سے جا ملوں ، ابھی میں اسی صورت حال میں تھا کہ ایک صاحب نظر آئے ، جن کا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون تھے ؟ مشرکین آئے اور ان کی طرف بڑھے ، جب میرا یہ اندازہ تھا کہ مشرکین اُن پر حملہ آور ہو جائیں گے ، تو انہوں نے ہاتھ میں کنکریاں پکڑیں اور مشرکین کی طرف پھینکیں ، تو وہ الٹے قدم واپس چلے گئے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے مد مقابل آ گئے ، ایسا چند مرتبہ ہوا ، مجھے نہیں معلوم وہ صاحب کون تھے ؟ میرے اور اُن کے درمیان ، مقداد موجود تھے ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں مقداد سے ان کے بارے میں دریافت کروں کہ اسی دوران سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے خود ہی مجھ سے کہا: اے سعد ! اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، میں نے دریافت کیا : اب وہ کہاں ہیں ؟ تو مقداد نے مجھے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ ہیں ، میں اُٹھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے مجھے کوئی اذیت لاحق نہیں ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! آج سارا دن تم کہاں رہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، میں نے تیراندازی شروع کی اور میں یہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! یہ وہ تیر ہے ، جو میں تیرے دشمن پر پھینک رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے : اے اللہ ! تو سعد کی دعا کو قبول فرما ! اے اللہ ! تو سعد کے نشانے کو ٹھیک رکھنا ، اے سعد ! تم تیر اندازی جاری رکھو ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے جو بھی تیر پھینکا ، اُس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا: اے اللہ ! تو اس کے نشانے کو ٹھیک رکھنا اور اس کی دعا کو قبول کرنا ، اے سعد ! جاری رکھو ! یہاں تک کہ میرا ترکش خالی ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ترکش میرے آگے کر دیا آپ نے مجھے ایک تیر پکڑایا ، جس میں پر نہیں تھا ، تو اس کو چلانا ، دوسروں کی بہ نسبت زیادہ دشوار تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس دن جتنے تیر پھینکے تھے ، ان کی تعداد ایک ہزار تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10078
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1789)»
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْسٌ ، فَدَفَعَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ ، فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى انْدَقَّتْ سِنَّتُهَا ، وَلَمْ أَزَلْ عَلَى مَقَامِي نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي ، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيَّلْتُ رَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيهِ ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا بَدَرَتْ مِنْهَا حَدَقَتِي بِكَفِّي ، فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَفِّي دَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا " ، فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ ، وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کمان تحفے کے طور پر دی گئی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن مجھے دیدی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کے ذریعے تیر اندازی کی ، یہاں تک کہ اس کا تار ٹوٹ گیا ، میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود رہا ، تاکہ اپنے چہرے کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیروں سے بچا سکوں ، جب بھی کوئی تیر ایک طرف سے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف جاتا تھا ، تو میں اپنے سر کو اس طرف مائل کر دیتا تھا ، تاکہ تیراندازی کیے بغیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو بچا سکوں ، ان میں سے جو آخری تیر تھا ، وہ میری آنکھ پر لگا ، میں نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی ، میں اس کو ہتھیلی پر رکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میری ہتھیلی پر ملاحظہ فرمایا ، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! قتادہ نے اپنی ذات کے ذریعے تیرے نبی کو بچایا ہے ، تو اس کی آنکھوں کو سب سے زیادہ خوبصورت اور اس کی نظر کو سب سے زیادہ تیز کر دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں اور ان کی نظر سب سے زیادہ تیز تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8/19)»
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : كُنْتُ نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَقِي وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَجْهِي ، وَكَانَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ مُوقِيًا لِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِظَهْرِهِ حَتَّى امْتَلَأَ ظَهْرُهُ سِهَامًا ، وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ أُحُدٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود رہا ، میں اپنی ذات کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچاؤ کر رہا تھا ، سیدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کے ساتھ پشت ملائے ہوئے تھے ، یہاں تک کہ ان کی پشت تیروں سے بھر گئی تھی ، یہ غزوہ اُحد کے موقع کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10080
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8/19)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ إِلَّا أَرْبَعَةٌ ؛ أَحَدُهُمْ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ لِأَبِي : فَأَيْنَ كَانَ عَلِيٌّ ؟ قَالَ : بِيَدِهِ لِوَاءُ الْمُهَاجِرِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيِي بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چار افراد باقی رہ گئے تھے ، ان میں سے ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت کہاں تھے ؟ انہوں نے بتایا : ان کے ہاتھ میں مہاجرین کا جھنڈا تھا ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10081
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1790) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8515)»
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : قَالَ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ : سَأَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ فِي الشِّعْبِ : " هَلْ رَأَيْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُهُ عَلَى جَرِّ الْجَبَلِ وَعَلَيْهِ عَسْكَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَهَوَيْتُ فَرَأَيْتُكَ فَعَدَلْتُ إِلَيْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ " ، قَالَ الْحَارِثُ : فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَجِدُهُ بَيْنَ نَفَرٍ سَبْعَةٍ صَرْعَى ، فَقُلْتُ لَهُ : ظَفِرَتْ يَمِينُكَ ! أَكُلَّ هَؤُلَاءِ قَتَلْتَ ؟ ! قَالَ : أَمَّا هَذَا لِأَرْطَاةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، وَهَذَا فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَتَلَهُمْ مَنْ لَمْ أَرَهُ ، قُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ‌‌‌‌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حارث بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ” غزوۂ احد کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھاٹی میں موجود تھے ، تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے انہیں پہاڑ کے زیریں حصے میں دیکھا ہے ، مشرکین نے انہیں گھیرا ہوا تھا ، میں پہلے ان کی طرف بڑھنے لگا تھا ، پھر میں نے آپ کو دیکھ لیا ، تو میں آپ کی طرف آ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فرشتے اس کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں ، سیدنا حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، پھر واپس سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس گیا میں نے انہیں پایا کہ وہ سات دشمنوں کے درمیان موجود تھے ، جو پچھاڑے جا چکے تھے ، میں نے ان سے کہا: آپ کامیاب ہو گئے ہیں ، کیا ان سب کو آپ نے قتل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جہاں تک ارطاۃ بن شرحبیل اور اس شخص کا تعلق ہے ، تو ان دونوں کو میں نے قتل کیا ہے ، لیکن جہاں تک باقی افراد کا تعلق ہے ، تو انہیں جس نے قتل کیا ہے ، میں نے اس کو نہیں دیکھا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1792) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3385)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ : أُصِيبَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ ، فَاسْتَقْبَلَهُ مَالِكُ بْنُ سِنَانٍ فَمَصَّ جُرْحَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ ازْدَرَدَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى مَنْ خَالَطَ دَمِي دَمَهُ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا ، سیدنا مالک بن سنان رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کو چوس لیا اور پھر اسے نگل لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کو دیکھے کہ میرا خون اس کے خون کے ساتھ مل چکا ہو ، تو وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صرف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5430)»
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : رَأَيْتُ هِنْدَ ابْنَةَ عُتْبَةَ كَاشِفَةً عَنْ سَاقِهَا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَذَمٍ فِي سَاقِهَا ، وَهِيَ تُحَرِّضُ النَّاسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ، میں نے ہند بنت عتبہ کو دیکھا کہ اس نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا ، اور اس کی پنڈلی میں موجود جذام کے نشان کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے ، وہ لوگوں کو ترغیب دیتی پھر رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (249)»
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَصْحَابَ الْأَلْوِيَةِ ، قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ لَهِيَ الْمُوَاسَاةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " قَالَ جِبْرِيلُ : وَأَنَا مِنْكُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے علم برداروں کو قتل کر دیا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ بھائی چارہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، سیدنا جبرائیل نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ دونوں سے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ، جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (941)»
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا خَرَجَ إِلَى الْخَنْدَقِ جَعَلَ نِسَاءَهُ فِي أُطُمٍ يُقَالُ لَهُ : فَارِعٌ ، وَجَعَلَ مَعَهُنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَكَانَ حَسَّانُ يَطَّلِعُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا شَدَّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ اشْتَدَّ مَعَهُ فِي الْحِصْنِ ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ وَرَاءَهُ ، قَالَتْ : فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَبَقِيَ أَحَدُهُمْ فِي الْحِصْنِ حَتَّى أَطَلَّ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لِحَسَّانَ : قُمْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ ، فَقَالَ : مَا ذَاكَ فِيَّ ، وَلَوْ كَانَ فِيَّ لَكُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَتْ صَفِيَّةُ رَأْسَهُ حَتَّى قَطَعَتْهُ ، فَلَمَّا قَطَعَتْهُ قَالَتْ : يَا حَسَّانُ ، قُمْ إِلَى رَأْسِهِ فَارْمِ بِهِ إِلَيْهِمْ وَهُمْ مِنْ أَسْفَلِ الْحِصْنِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ فِيَّ ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ فَرَمَيْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : قَدْ وَاللَّهِ عَلِمْنَا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ أَهْلَهُ خُلُوفًا لَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ ، وَتَفَرَّقُوا فَذَهَبُوا ، قَالَتْ : وَمَرَّ قِبَلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، كَأَنَّهُ كَانَ مُقْرِنًا قَبْلَ ذَلِكَ ، وَهُوَ يَقُولُ : ¤ مَهْلًا قَلِيلًا تُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ لَا بَأْسَ بِالْمَوْتِ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أُمِّ عُرْوَةَ بِنْتِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کی طرف نکلے ، تو آپ نے خواتین کو ایک بلند عمارت میں ٹھہرا دیا ، جس کا نام ” فارغ “ تھا ، ان خواتین کے ساتھ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیتے رہتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی طرف بڑھتے تو وہ بھی قلعے میں آگے ہو جاتے ، اور جب آپ پیچھے آتے تو وہ بھی پیچھے ہو جاتے ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے اور ان میں سے ایک شخص چڑھ کر قلعے کی طرف آ گیا ، یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس پہنچ گیا ، میں نے حسان سے کہا: تم اُٹھ کر اس کے پاس جاؤ ، اور اسے قتل کر دو ، انہوں نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا اگر میں کچھ کر سکتا ہوتا ، تو میں اللہ کے رسول کے ساتھ چلا جاتا ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس ( یہودی ) کے سر پر ضرب لگا کر اس کا سر کاٹ دیا ، جب انہوں نے اس کا سر کاٹ دیا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم اس کا سر اٹھاؤ اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دو ، وہ لوگ جو قلعے کے نیچے موجود ہیں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں یہ بھی نہیں کر سکتا ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اُس شخص کا سر پکڑا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہمیں یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے اہل خانہ کو ایسے حال میں نہیں چھوڑا کہ ان کے ساتھ کوئی نہ ہو ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ، اور چلے گئے ۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا ، یوں لگتا تھا جیسے ان کی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی ہے اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” تھوڑی سی دیر میں اونٹ ، جنگ تک پہنچ جائے گا ، جب وقت آ جائے تو موت میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے اسے اُم جعفر بنت زبیر کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (683)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ خَاضَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ خَيْضَةً ، وَقَالُوا : قُتِلَ مُحَمَّدٌ حَتَّى كَثُرَتِ الصَّوَارِخُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُحْرِمَةً ، فَاسْتُقْبِلَتْ بِأَبِيهَا وَابْنِهَا وَزَوْجِهَا وَأَخِيهَا لَا أَدْرِي أَيَّهُمُ اسْتُقْبِلَتْ بِهِ أَوَّلًا ، فَلَمَّا مَرَّتْ عَلَى أَحَدِهِمْ ، قَالَتْ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُوكِ أَخُوكِ زَوْجُكِ ابْنُكِ ، تَقُولُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ يَقُولُونَ : أَمَامَكَ حَتَّى دُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَتْ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ ، ثُمَّ قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا أُبَالِي إِذْ سَلِمْتَ مِنْ عَطَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر اہل مدینہ پریشانی کا شکار ہو گئے انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے ایک کنارے میں چیخنے والوں کی آوازیں زیادہ ہو گئیں ، انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نکلی ، اس نے اپنے والد کو دیکھا ، اپنے بیٹے کو دیکھا ، اپنے شوہر کو دیکھا ، اپنے بھائی کو دیکھا ، یہ مجھے یاد نہیں ہے کہ ان میں سے کون اُس کے سامنے پہلے آیا تھا ؟ لیکن وہ خاتون جب بھی ان میں سے کسی ایک کے پاس سے گزری ، تو اس نے یہی دریافت کیا : یہ کون ہے ، تو لوگوں نے بتایا : یہ تمہارا والد ہے ، یہ تمہارا بھائی ہے ، یہ تمہارا شوہر ہے ، یہ تمہارا بیٹا ہے ، لیکن وہ عورت یہی دریافت کرتی رہی کہ اللہ کے رسول کا کیا حال ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : وہ آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کا کنارہ پکڑا اور پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ قربان ہوں ، جب آپ سلامت ہیں تو پھر مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : اجْتَمَعْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ - حَتَّى كَثُرَتِ الْقَتْلَى فَصَرَخَ صَارِخٌ : قَدْ قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، فَبَكَيْنَ نِسْوَةٌ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : لَا تُعَجِّلْنَ بِالْبُكَاءِ حَتَّى أَنْظُرَ ، فَخَرَجَتْ تَمْشِي لَيْسَ لَهَا هَمٌّ سِوَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُؤَالٍ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَفْوَانَ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ، مدینہ منورہ میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی مدینہ میں باقی نہیں رہا تھا ، مقتولین کی تعداد زیادہ ہو گئی ، تو کسی نے چیخ کر کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہو گئے ہیں ، خواتین رونے لگیں ، ایک عورت نے کہا: تم رونے میں جلدی نہ کرو ! جب تک میں پہلے جائزہ نہیں لے لیتی ، وہ خاتون چلتی ہوئی نکلیں ، اُسے اللہ کے رسول اور آپ کے بارے میں دریافت کرنے کے علاوہ اور کوئی پریشانی نہیں تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صفوان ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1788)»
وَعَنْ عُقْبَةَ مَوْلَى جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : شَهِدْتُ أُحُدًا مَعَ مَوَالِي ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا قَتَلْتُهُ ، قُلْتُ : خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْفَارِسِيُّ ، فَلَمَّا بَلَغَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا قُلْتَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ ؟ فَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ کے غلام عقبہ بیان کرتے ہیں : میں ، کچھ غلاموں کے ہمراہ غزوہ احد میں شریک ہوا ، میں نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر ضرب لگائی ، جب میں نے اسے قتل کر دیا ، تو میں نے کہا: لو میری طرف سے اسے سنبھالو ! میں ایک فارسی شخص ہوں ، جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ لو اسے سنبھالو ! میں ایک انصاری نوجوان ہوں ، کیونکہ قوم کا غلام اُن کا حصہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (910) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (285)»
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : فَلَمَّا كَانَ عَامُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ ، وَفَرَّ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكُسِرَتْ رُبَاعِيَّتُهُ ، وَهُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ ، وَسَالَ الدَّمُ عَلِي ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) بِأَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثِ عُمَرَ الَّذِي فِي الصَّحِيحِ فِي مَسْنَدِهِ الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اگلے سال غزوہ اُحد کا موقع آیا ، تو انہوں نے غزوہ بدر میں فدیہ وصول کرنے کے حوالے سے جو کچھ کیا تھا ، اس کی انہیں سزا دی گئی ، ان میں سے ستر افراد قتل ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کو چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک زخمی ہو گئے ، آپ کا خود سر میں کھب گیا آپ کا خون بہتا ہوا منہ پر آ گیا ، اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا جب تمہیں ایک مصیبت لاحق ہوئی ، جبکہ تم ( اس سے پہلے دشمن کو ) دُگنا نقصان پہنچا چکے تھے ، تو تم نے کہا: یہ کہاں سے آ گئی ؟ ( اے رسول ! ) تم فرما دو ! یہ تمہاری اپنی طرف ( یعنی تمہاری اپنی وجہ ) سے ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “ یعنی تم لوگوں نے جو فدیہ وصول کیا تھا ، یہ اُس کی وجہ سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول آخری حدیث کے طور پر نقل کی ہے ، جو ان کی بڑی ” مسند “ میں ” صحیح “ میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10090
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صرف
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَوْمَ أُحُدٍ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا أَتَى فُلَانٌ ، أَتَاهُ رَجُلٌ لَقَدْ فَرَّ النَّاسُ ، وَمَا فَرَّ ، وَمَا تَرَكَ لِلْمُشْرِكِينَ شَاذَةً وَلَا فَاذَةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ قَالَ : " وَمَنْ هُوَ ؟ " فَنُسِبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسَبُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، ثُمَّ وُصِفَ لَهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ بِعَيْنِهِ ، فَقَالَ : ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " هَذَا " ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، قَالُوا : أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِذَا كَانَ فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا قَوْمِ ، انْظُرُونِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ إِلَّا مِثْلَ الَّذِي أَصْبَحَ عَلَيْهِ ، وَلَأَكُونَنَّ صَاحِبَهُ مِنْ بَيْنِكُمْ ، ثُمَّ رَاحَ عَلَى حِدَةٍ فِي الْعَدْوِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَشُدُّ مَعَهُ إِذَا شَدَّ وَيَرْجِعُ مَعَهُ إِذَا رَجَعَ ، فَيَنْظُرُ مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ أَمْرُهُ حَتَّى أَصَابَهُ جُرْحٌ أَذْلَقَهُ ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَوَضَعَ قَائِمَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ وَضَعَ ذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ، وَخَرَجَ الرَّجُلُ يَعْدُو يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَذَاكَ مَاذَا ؟ ! " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي ذُكِرَ لَكَ فَقُلْتَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالُوا : أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِذَا كَانَ فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ فَقُلْتُ : يَا قَوْمِ ، انْظُرُونِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ مِثْلَ الَّذِي أَصْبَحَ عَلَيْهِ ، وَلَأَكُونَنَّ صَاحِبَهُ مِنْ بَيْنِكُمْ ، فَجَعَلْتُ أَشُدُّ مَعَهُ أَوْ أَشُدُّ وَأَرْجِعُ مَعَهُ إِذَا رَجَعَ ; أَنْظُرُ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ ، حَتَّى أَصَابَهُ جُرْحٌ أَذْلَقَهُ ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَوَضَعَ قَائِمَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ ، وَوَضَعَ ذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ ظَهْرِهِ ، فَهُوَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَضْطَرِبُ بَيْنَ أَضْغَاثِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ - وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ - حَتَّى يَبْدُوَ لِلنَّاسِ - وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے فلاں شخص کی طرح لڑنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا ، وہ شخص ان کے پاس آیا اور لوگ اس کی وجہ سے بھاگ کھڑے ہوئے ، اس نے مشرکین میں سے کسی بھی الگ ہونے والے شخص کو نہیں چھوڑا ، ہر شخص کے پیچھے گیا اور اس پر تلوار کے ذریعے حملہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کون شخص ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا نسب بیان کیا گیا تو آپ اسے پہچان نہیں پائے ، پھر آپ کے سامنے اس کا حلیہ بیان کیا گیا ، تو آپ اسے پہچان نہیں پائے ، اسی دوران وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ وہ شخص ہے ، جس کے بارے میں ہم آپ کو بتا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اہل جہنم میں سے ہے ، یہ بات مسلمانوں کو گراں گزری انہوں نے کہا: ہم میں سے پھر اہل جنت کون ہو گا کہ اگر فلاں شخص جہنمی ہے ؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : اے لوگو ! تم مجھے موقع دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ شخص اس حالت میں نہیں مرے گا ، جس پر یہ ہے ، اور تم لوگوں میں سے ، اب اُس کے ساتھ میں رہوں گا ، پھر وہ شخص دشمن کی طرف چل پڑا اور دوسرا شخص اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ، جب وہ شخص چلتا تھا ، تو یہ بھی چلتا تھا ، اور جب وہ شخص پلٹتا تھا ، تو یہ بھی پلٹتا تھا ، دوسرا شخص اس بات کا جائزہ لینا چاہتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ پہلے شخص کو زخم لاحق ہوئے ان زخموں نے اسے کمزور کر دیا اس نے مرنے میں جلدی کی ، اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور پھر اس کی نوک پر اپنا سینہ رکھ کر اس پر اپنا وزن ڈالا اور وہ تلوار اس کی پشت کے پار ہو گئی ، تو دوسرا شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر ٹھہر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص جس کا ذکر آپ کے سامنے کیا گیا ، تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے ، تو یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری تھی ، تو انہوں نے کہا: تھا کہ ہم میں سے کون جنتی ہو گا کہ اگر فلاں شخص جہنمی ہے ، تو میں نے کہا: اے لوگو ! تم مجھے موقع دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اس حالت میں نہیں مرے گا ، جس پر پہلے تھا ، میں تم میں سے اس کے ساتھ رہوں گا ، تو میں اس کے ساتھ چلتا رہا ، جب وہ چلتا تھا ، اور میں اس کے ساتھ پلٹ جاتا تھا ، جب وہ پلٹ جاتا تھا ، میں اس بات کا جائزہ لینا چاہتا تھا ، کہ اس کے معاملے کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ اسے زخم لاحق ہوا ، جس نے اسے کمزور کر دیا ، اس نے مرنے میں جلدی کی ، اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور پھر اس کا سرا اپنے سینے پر رکھا اور پھر اپنی تلوار پر وزن ڈالا ، یہاں تک کہ وہ تلوار اس کی پشت کے پار ہو گئی ، تو یا رسول اللہ ! وہ شخص اب جہنم میں لوٹتا پھر رہا ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص ، اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے ، جب وہ بظاہر لوگوں کے سامنے ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے ، اور ( کوئی ) ایک شخص لوگوں کے سامنے بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10091
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الَعْاصِ قَالَ : كَتَبَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : سَلَامٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ بِذِكْرِ مَا جَمَعَتِ الرُّومُ مِنَ الْجُمُوعِ ، وَإِنَّا لَمْ يَنْصُرْنَا اللَّهُ مَعَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَثْرَةِ عُدَدٍ ، وَلَا بِكَثْرَةِ جُنُودٍ ، فَقَدْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَعَنَا إِلَّا فُرَيْسَاتٌ ، وَإِنْ نَحْنُ إِلَّا نَتَعَاقَبُ الْإِبِلَ ، وَكُنَّا يَوْمَ أُحُدٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَعَنَا إِلَّا فَرَسٌ وَاحِدٌ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُهُ ، وَلَقَدْ كَانَ يَظْهَرُنَا ، وَيُعِينُنَا عَلَى مَنْ يُخَالِفُنَا . ¤ وَاعْلَمْ - يَا عَمْرُو - إِنَّ أَطْوَعَ النَّاسِ لِلَّهِ : أَشَدُّهُمْ بُغْضًا لِلْمَعَاصِي ، فَأَطِعِ اللَّهَ وَأْمُرْ أَصْحَابَكَ بِطَاعَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَالْوَاقِدِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ” تم پر سلام ہو ! اما بعد ! تمہارا مکتوب میرے پاس آیا ، جس میں تم نے یہ ذکر کیا ہے کہ رومیوں نے اپنے لشکر جمع کر لئے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہمراہ ہم لوگوں کی مدد ، تعداد کی کثرت کے ذریعے ، یا لشکروں کی کثرت کے ذریعے نہیں کی تھی ، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے ، تو ہمارے ساتھ چند ایک گھوڑے ہوتے تھے اور اونٹوں پر بھی ہم باری ، باری سوار ہوا کرتے تھے ، غزوہ اُحد کے دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہمارے ساتھ صرف ایک گھوڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار تھے ، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمارے مخالفین پر ہمیں غالب کیا اور ہماری مدد کی ۔ اے عمرو ! تم یہ بات جان لو ! اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ فرمانبردار وہ شخص ہے ، جو گناہوں سے سب سے زیادہ بغض رکھتا ہو ، تو تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ، اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی اطاعت کا حکم دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شاذ کونی ہے اور ایک راوی واقدی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10092
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي قَوْلِهِ : ( ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا ) قَالَ : أُلْقِيَ عَلَيْنَا النَّوْمُ يَوْمَ أُحُدٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” پھر اس نے ، غم ( یا پریشانی ) کے بعد ، اونگھ کی شکل میں ، تم پر امان ( یا اطمینان ) نازل کیا “ ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ، اس نے ہم پر نیند طاری کر دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10093
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّهُ حَضَرَ أُحُدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنَّهُ أَصَابَتْهُ رَمْيَةٌ بِحَجَرٍ فِي رِجْلِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ مِنْهَا ضَالِعًا حَتَّى مَاتَ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ غزوہ اُحد میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے ، انہیں ٹانگ میں ایک تیر آ کے لگا تھا ، جو ان کے مرنے تک ان کی پسلیوں میں رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10094
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا نَنْقُلُ الْمَاءَ فِي جُلُودِ الْإِبِلِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الْحَوَارِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تھا ، اس دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اونٹ کے چمڑے میں پانی منتقل کر کے لاتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوالحواری ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10095
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَمَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَمِئَةَ بِحَجَرٍ يَوْمَ أُحُدٍ فَشَجَّهُ فِي وَجْهِهِ ، وَكَسَرَ رُبَاعِيَّتَهُ ، وَقَالَ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ قَمِئَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ : " مَا لَكَ أَقْمَأَكَ اللَّهُ ؟ " فَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَيْسَ جَبَلٍ فَلَمْ يَزَلْ يَنْطَحُهُ حَتَّى قَطَّعَهُ قِطْعَةً قِطْعَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ، عبداللہ بن قمئہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا ، جس سے آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ، اس نے کہا: اسے سنبھالو ! میں ابن قمئہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے اس سے فرمایا : تمہارا کیا بنے گا ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ٹکڑے ، ٹکڑے کر دے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ نے اُس پر پہاڑی بکرے کو مسلط کیا ، جو مسلسل اُسے سینگ مارتا رہا ، یہاں تک کہ اس ( بکرے ) نے اس کے ٹکڑے ، ٹکڑے کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7596)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعَدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت کر دے ، کیونکہ وہ علم نہیں رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10097
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5694)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ هَشَّمُوا الْبَيْضَةَ عَلَى رَأْسِ نَبِيِّهِمْ ، وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا غضب اُس قوم پر شدید ہو گا ، جنہوں نے اپنے نبی کے سر میں خود کو پیوست کروا دیا ، جبکہ وہ نبی اُن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا تھا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10098
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1793) اخرجه احمد فى المسند (5931)»