مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ " ، فَقَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اقْعُدْ " ، فَقَعَدَ ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ " ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ وَرَفَعَ عَلَى عَيْنَيْهِ عِصَابَةً حَمْرَاءَ تَرْفَعُ حَاجِبَيْهِ عَنْ عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبَرِ ، ثُمَّ مَشَى بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالسَّيْفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا قتاده بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ لے گا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ دریافت کیا : کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ لے گا ، تو سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار زوالفقار انہیں دی ، سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ اٹھے ، انہوں نے اپنی آنکھوں کے اوپری حصے پر سرخ پٹی باندھی تاکہ وہ کبر سنی کی وجہ سے آنکھوں پر آنے والی بھنووں کو روک سکے ، پھر وہ اس تلوار کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چلتے ہوئے گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔