حدیث نمبر: 10073
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا نَصَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَوْطِنٍ كَمَا نَصَرَ فِي يَوْمِ أُحُدٍ قَالَ : فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؛ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ : ( وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ ) يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسُّ : الْقَتْلُ ، ( حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ) ، وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ، ثُمَّ قَالَ : " احْمُوا ظُهُورَنَا ، فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قُتِلْنَا مَقْتَلَ فَلَا تَنْصُرُونَا ، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا غَنِمْنَا فَلَا تُشْرِكُونَا " ، فَلَمَّا غَنِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَاخُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ ، أَكَبَّ الرُّمَاةُ جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْهَبُونَ ، وَقَدِ الْتَفَّتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُمْ هَكَذَا - وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ - وَانْتَشَوْا ، فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ الَّتِي كَانُوا فِيهَا ، دَخَلَتِ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا ، وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاجِبَانِ أَوَّلَ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ - أَوْ تِسْعَةٌ - وَرِجَالُ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ : الْغَارُ إِنَّمَا كَانَ تَحْتَ الْمِهْرَاسِ ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ : قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، فَلَمْ يُشَكَّ فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ السَّعْدَيْنِ نَعْرِفُهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى ، قَالَ : وَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا ، قَالَ : فَرَقِيَ نَحْوَنَا وَهُوَ يَقُولُ : " اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَوْا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى : " اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا " حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَمَكَثَ سَاعَةً ، فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ : اعْلُ هُبَلُ مَرَّتَيْنِ ، يَعْنِي آلِهَتَهُ ، أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُجِيبُهُ ؟ قَالَ : " بَلَى " ، قَالَ : فَلَمَّا قَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، قَالَ عُمَرُ : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ قَدْ أَنْعَمْتُ عَنْهَا أَوْ فَعَالِ عَنْهَا ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ؟ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ ، وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، الْأَيَّامُ دُوَلٌ ، وَإِنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : لَا سَوَاءً ؛ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونِ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذًا وَخَسِرْنَا ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَمَا إِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مَثْلًا ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَنْ رَأْيِ سَرَّاتِنَا ، قَالَ : ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ : فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ ذَلِكَ فَلَمْ نَكْرَهْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے کسی بھی صورت حال میں اس طرح کی صورت حال نازل نہیں کی جس طرح کی مدد غزوہ احد کے موقع پر کی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اس بات پر اعتراض کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں جو کہہ رہا ہوں اور جو شخص اس کا انکار کر رہا ہے ان دونوں کے بارے میں اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی ، غزوہ اُحد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے اپنے وعدے کو سچ کر دکھایا جب تم نے اس کے اذن کے تحت ان لوگوں کو قتل کیا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہاں ” حس “ سے مراد قتل ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے مراد تیر انداز لوگ ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک مخصوص مقام پر کھڑا کیا تھا ، اور پھر یہ ارشاد فرمایا تھا : تم لوگوں نے پیچھے سے ہماری حفاظت کرنی ہے ، اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے ، تو تم نے ہماری مدد نہیں کرنی اور اگر تم ہمیں دیکھو کہ ہم غنیمت حاصل کر رہے ہیں ، تو تم نے ہمارے ساتھ شریک نہیں ہونا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مال غنیمت حاصل ہوا اور لوگوں نے مشرکین کے لشکر کو مباح قرار دیا ، تو وہ تیر انداز سب آئے اور لشکر میں سے چیزیں اکٹھے کرنے لگے ، جب مختلف صفیں مل گئیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب یوں ہو گئے ، راوی نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے یہ بات بیان کی اور وہ گھل مل گئے ، تو جب تیر اندازوں نے وہ جگہ خالی کر دی ، جہاں پر تیر انداز تھے ، تو اس مقام سے دشمن کے کچھ گھڑ سوار آئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر حملہ آور ہوئے ، اس دن بہت سے مسلمان شہید ہوئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب دن کے ابتدائی حصے میں اس حال میں تھے کہ مشرکین کے جھنڈا برداروں میں سے سات یا شاید نو افراد قتل ہوئے تھے اور مسلمانوں کے کچھ افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، یہ لوگ وہاں تک نہیں پہنچے تھے ، جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں : غار ہے ، بلکہ یہ پانی کے چشمے کے پاس پہنچے تھے اسی دوران شیطان نے چیخ کر کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں ، تو اس بارے میں کوئی شک نہیں ہوا کہ یہ بات درست ہو گی ، ہم اسی حالت میں رہے ، ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو چکے ہوں گے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد نام کے دو افراد کے درمیان چلتے ہوئے سامنے آئے ، ہم نے چلنے کے دوران آپ کے مخصوص انداز سے آپ کو پہچان لیا ، راوی کہتے ہیں : ہمیں اس بات سے اتنی خوشی ہوئی کہ جیسے ہمیں کوئی نقصان ہوا ہی نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چڑھ کر ہماری طرف آئے ، آپ یہ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر شدید ہو گا ، جس نے اللہ کے رسول کے چہرے کو خون آلود کیا ہے ، ایک مرتبہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا : اے اللہ ! انہیں یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہم پر غالب آئیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے ، آپ گھڑی بھر کے لئے ٹھہرے رہے ، پھر ابوسفیان نے پہاڑ کے نیچے والے حصے سے بلند آواز میں دو مرتبہ یہ کہا: ہبل سر بلند ہوا ، یعنی اس نے اپنے معبود کے بارے میں کہا: ، پھر پوچھا: ابن ابوکبشہ کہاں ہے ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہے ؟ ابن خطاب کہاں ہے ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے جواب نہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، جب اس نے کہا: ہبل سر بلند ہوا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ، ابوسفیان نے کہا: اے خطاب کے صاحبزادے ! کیا اس کی ( یعنی ہبل کی ) آنکھ نے اجازت دی تو اب تم اسے برا نہ کہنا ، پھر اس نے دریافت کیا : ابن ابوکبشہ کہاں ہیں ؟ ابن ابوقحافہ کہاں ہیں ؟ ابن خطاب کہاں ہیں ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اللہ کے رسول موجود ہیں ، یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہیں اور میں ، عمر بھی موجود ہوں ، تو ابوسفیان نے کہا: آج کا دن ، بدر کے دن کا بدلہ ہے ، اور دنوں میں الٹ پھیر ہوتا رہتا ہے اور جنگ ڈول کی طرح ہوتی ہے ( یعنی اس میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ) راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں برابر نہیں ہے ، ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں ، ابوسفیان نے کہا: تم لوگ یہ گمان کرتے ہو ، ایسی صورت میں ، تو ہم رسوا ہو جائیں گے اور خسارے کا شکار ہو جائیں گے ، پھر ابوسفیان نے کہا: تم لوگ اپنے مقتولین میں کچھ لوگوں کو پاؤ گے کہ ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی ہے ، یہ ہمارے سرداروں کی رائے سے نہیں ہوا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر اسے زمانہ جاہلیت کی حمیت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، تو اس نے کہا: ایسا ہوا ہے اور ہم اسے ناپسند بھی نہیں کرتے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10073
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف