حدیث نمبر: 10091
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَوْمَ أُحُدٍ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا أَتَى فُلَانٌ ، أَتَاهُ رَجُلٌ لَقَدْ فَرَّ النَّاسُ ، وَمَا فَرَّ ، وَمَا تَرَكَ لِلْمُشْرِكِينَ شَاذَةً وَلَا فَاذَةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ قَالَ : " وَمَنْ هُوَ ؟ " فَنُسِبَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَسَبُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، ثُمَّ وُصِفَ لَهُ بِصِفَتِهِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ حَتَّى طَلَعَ الرَّجُلُ بِعَيْنِهِ ، فَقَالَ : ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الَّذِي أَخْبَرْنَاكَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " هَذَا " ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، قَالُوا : أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِذَا كَانَ فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : يَا قَوْمِ ، انْظُرُونِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ إِلَّا مِثْلَ الَّذِي أَصْبَحَ عَلَيْهِ ، وَلَأَكُونَنَّ صَاحِبَهُ مِنْ بَيْنِكُمْ ، ثُمَّ رَاحَ عَلَى حِدَةٍ فِي الْعَدْوِ ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَشُدُّ مَعَهُ إِذَا شَدَّ وَيَرْجِعُ مَعَهُ إِذَا رَجَعَ ، فَيَنْظُرُ مَا يَصِيرُ إِلَيْهِ أَمْرُهُ حَتَّى أَصَابَهُ جُرْحٌ أَذْلَقَهُ ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَوَضَعَ قَائِمَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ وَضَعَ ذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ ، وَخَرَجَ الرَّجُلُ يَعْدُو يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " وَذَاكَ مَاذَا ؟ ! " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الرَّجُلُ الَّذِي ذُكِرَ لَكَ فَقُلْتَ : " إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَقَالُوا : أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِذَا كَانَ فُلَانٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟ فَقُلْتُ : يَا قَوْمِ ، انْظُرُونِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ مِثْلَ الَّذِي أَصْبَحَ عَلَيْهِ ، وَلَأَكُونَنَّ صَاحِبَهُ مِنْ بَيْنِكُمْ ، فَجَعَلْتُ أَشُدُّ مَعَهُ أَوْ أَشُدُّ وَأَرْجِعُ مَعَهُ إِذَا رَجَعَ ; أَنْظُرُ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُهُ ، حَتَّى أَصَابَهُ جُرْحٌ أَذْلَقَهُ ، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَوَضَعَ قَائِمَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ ، وَوَضَعَ ذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ، ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ ظَهْرِهِ ، فَهُوَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَضْطَرِبُ بَيْنَ أَضْغَاثِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ - فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ - وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ - حَتَّى يَبْدُوَ لِلنَّاسِ - وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے فلاں شخص کی طرح لڑنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا ، وہ شخص ان کے پاس آیا اور لوگ اس کی وجہ سے بھاگ کھڑے ہوئے ، اس نے مشرکین میں سے کسی بھی الگ ہونے والے شخص کو نہیں چھوڑا ، ہر شخص کے پیچھے گیا اور اس پر تلوار کے ذریعے حملہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کون شخص ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا نسب بیان کیا گیا تو آپ اسے پہچان نہیں پائے ، پھر آپ کے سامنے اس کا حلیہ بیان کیا گیا ، تو آپ اسے پہچان نہیں پائے ، اسی دوران وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا ، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ وہ شخص ہے ، جس کے بارے میں ہم آپ کو بتا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اہل جہنم میں سے ہے ، یہ بات مسلمانوں کو گراں گزری انہوں نے کہا: ہم میں سے پھر اہل جنت کون ہو گا کہ اگر فلاں شخص جہنمی ہے ؟ حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : اے لوگو ! تم مجھے موقع دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ شخص اس حالت میں نہیں مرے گا ، جس پر یہ ہے ، اور تم لوگوں میں سے ، اب اُس کے ساتھ میں رہوں گا ، پھر وہ شخص دشمن کی طرف چل پڑا اور دوسرا شخص اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ، جب وہ شخص چلتا تھا ، تو یہ بھی چلتا تھا ، اور جب وہ شخص پلٹتا تھا ، تو یہ بھی پلٹتا تھا ، دوسرا شخص اس بات کا جائزہ لینا چاہتا تھا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ پہلے شخص کو زخم لاحق ہوئے ان زخموں نے اسے کمزور کر دیا اس نے مرنے میں جلدی کی ، اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور پھر اس کی نوک پر اپنا سینہ رکھ کر اس پر اپنا وزن ڈالا اور وہ تلوار اس کی پشت کے پار ہو گئی ، تو دوسرا شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر ٹھہر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ شخص جس کا ذکر آپ کے سامنے کیا گیا ، تو آپ نے یہ فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے ، تو یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری تھی ، تو انہوں نے کہا: تھا کہ ہم میں سے کون جنتی ہو گا کہ اگر فلاں شخص جہنمی ہے ، تو میں نے کہا: اے لوگو ! تم مجھے موقع دو ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اس حالت میں نہیں مرے گا ، جس پر پہلے تھا ، میں تم میں سے اس کے ساتھ رہوں گا ، تو میں اس کے ساتھ چلتا رہا ، جب وہ چلتا تھا ، اور میں اس کے ساتھ پلٹ جاتا تھا ، جب وہ پلٹ جاتا تھا ، میں اس بات کا جائزہ لینا چاہتا تھا ، کہ اس کے معاملے کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہاں تک کہ اسے زخم لاحق ہوا ، جس نے اسے کمزور کر دیا ، اس نے مرنے میں جلدی کی ، اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھا اور پھر اس کا سرا اپنے سینے پر رکھا اور پھر اپنی تلوار پر وزن ڈالا ، یہاں تک کہ وہ تلوار اس کی پشت کے پار ہو گئی ، تو یا رسول اللہ ! وہ شخص اب جہنم میں لوٹتا پھر رہا ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص ، اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے ، جب وہ بظاہر لوگوں کے سامنے ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے ، اور ( کوئی ) ایک شخص لوگوں کے سامنے بظاہر اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10091
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح