حدیث نمبر: 10077
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَصِرْنَا إِلَى الشِّعْبِ ، كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ عَرَفْتُهُ ، فَقُلْتُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ أَنِ اسْكُتْ ، ثُمَّ أَلْبَسَنِي لَأْمَتَهُ وَلَبِسَ لَأْمَتِي ، فَلَقَدْ ضُرِبْتُ حَتَّى جُرِحْتُ عِشْرِينَ جِرَاحَةً - أَوْ قَالَ : بِضْعَةً وَعِشْرِينَ جُرْحًا - كُلُّ مَنْ يَضْرِبَنِي يَحْسَبُنِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ہم گھاٹی کی طرف آئے ، میں آپ کو پہچاننے والا پہلا فرد تھا ، میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا کہ تم خاموش رہو ، پھر آپ نے اپنے ہتھیار مجھے پہنا دیے اور میرے ہتھیار خود پہن لئے ، میں نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ مجھے بیس زخم راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) بیس سے کچھ زیادہ زخم لگے اور وہ سب زخم اسی وجہ سے لگے تھے کہ لوگ مجھے اللہ کا رسول سمجھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1108) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (100/19)»