مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ خَاضَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ خَيْضَةً ، وَقَالُوا : قُتِلَ مُحَمَّدٌ حَتَّى كَثُرَتِ الصَّوَارِخُ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ، فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مُحْرِمَةً ، فَاسْتُقْبِلَتْ بِأَبِيهَا وَابْنِهَا وَزَوْجِهَا وَأَخِيهَا لَا أَدْرِي أَيَّهُمُ اسْتُقْبِلَتْ بِهِ أَوَّلًا ، فَلَمَّا مَرَّتْ عَلَى أَحَدِهِمْ ، قَالَتْ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : أَبُوكِ أَخُوكِ زَوْجُكِ ابْنُكِ ، تَقُولُ : مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ يَقُولُونَ : أَمَامَكَ حَتَّى دُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَتْ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ ، ثُمَّ قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا أُبَالِي إِذْ سَلِمْتَ مِنْ عَطَبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر اہل مدینہ پریشانی کا شکار ہو گئے انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے ایک کنارے میں چیخنے والوں کی آوازیں زیادہ ہو گئیں ، انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نکلی ، اس نے اپنے والد کو دیکھا ، اپنے بیٹے کو دیکھا ، اپنے شوہر کو دیکھا ، اپنے بھائی کو دیکھا ، یہ مجھے یاد نہیں ہے کہ ان میں سے کون اُس کے سامنے پہلے آیا تھا ؟ لیکن وہ خاتون جب بھی ان میں سے کسی ایک کے پاس سے گزری ، تو اس نے یہی دریافت کیا : یہ کون ہے ، تو لوگوں نے بتایا : یہ تمہارا والد ہے ، یہ تمہارا بھائی ہے ، یہ تمہارا شوہر ہے ، یہ تمہارا بیٹا ہے ، لیکن وہ عورت یہی دریافت کرتی رہی کہ اللہ کے رسول کا کیا حال ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : وہ آ رہے ہیں ، یہاں تک کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کا کنارہ پکڑا اور پھر عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ قربان ہوں ، جب آپ سلامت ہیں تو پھر مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔