حدیث نمبر: 10078
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : لَمَّا جَالَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَوْلَةَ يَوْمَ أُحُدٍ قُلْتُ : أَدُومُ فَإِمَّا أَنْ أَسْتَشْهِدَ ، وَإِمَّا أَنْ أَنْجُوَ حَتَّى أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ مُخَمَّرٍ وَجْهُهُ مَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، فَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ يَجِيئُونَ نَحْوَهُ ، إِذْ قُلْتُ : قَدْ رَكِبُوهُ ، فَمَلَأَ يَدَهُ مِنَ الْحَصَى ثُمَّ رَمَى بِهِ فِي وُجُوهِهِمْ ، فَمَضَوْا عَلَى أَعْقَابِهِمُ الْقَهْقَرَى حَتَّى حَارُوا وَصَارُوا بِإِزَاءِ الْجَبَلِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَمَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمِقْدَادُ ، فَبَيْنَا أَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ الْمِقْدَادَ عَنْهُ إِذْ قَالَ لِي الْمِقْدَادُ : يَا سَعْدُ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكَ ، فَقُلْتُ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ فَأَشَارَ لِي الْمِقْدَادُ إِلَيْهِ ، فَقُمْتُ وَلَكَأَنَّمَا لَمْ يُصِبْنِي شَيْءٌ مِنَ الْأَذَى ، فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ يَا سَعْدُ ؟ " وَأَجْلَسَنِي أَمَامَهُ فَجَلَسْتُ أَرْمِي وَأَقُولُ : اللَّهُمَّ سَهْمًا أَرْمِي بِهِ عَدُوَّكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ ، اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ ، إِيهًا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " ، فَمَا مِنْ سَهْمٍ أَرْمِي بِهِ إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ سَدِّدْ رَمْيَتَهُ ، وَأَجِبْ دَعْوَتَهُ ، إِيهًا سَعْدُ " ، حَتَّى إِذَا فَرَغْتُ مِنْ كِنَانَتِي نَثَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِنَانَتَهُ ، فَنَاوَلَنِي سَهْمًا لَيْسَ فِيهِ رِيشٌ ، فَكَانَ أَشَدَّ مِنْ غَيْرِهِ . ¤ قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ الْأَسْهُمَ الَّتِي رَمَى بِهَا سَعْدٌ يَوْمَئِذٍ أَلْفُ سَهْمٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ادھر ادھر ہو گئے ، تو میں نے کہا: میں ایسے ہی رہوں گا ، یا تو میں جام شہادت نوش کر لوں گا ، یا نجات پا جاؤں گا ، یہاں تک کہ اللہ کے رسول سے جا ملوں ، ابھی میں اسی صورت حال میں تھا کہ ایک صاحب نظر آئے ، جن کا چہرہ ڈھانپا ہوا تھا ، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون تھے ؟ مشرکین آئے اور ان کی طرف بڑھے ، جب میرا یہ اندازہ تھا کہ مشرکین اُن پر حملہ آور ہو جائیں گے ، تو انہوں نے ہاتھ میں کنکریاں پکڑیں اور مشرکین کی طرف پھینکیں ، تو وہ الٹے قدم واپس چلے گئے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے مد مقابل آ گئے ، ایسا چند مرتبہ ہوا ، مجھے نہیں معلوم وہ صاحب کون تھے ؟ میرے اور اُن کے درمیان ، مقداد موجود تھے ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں مقداد سے ان کے بارے میں دریافت کروں کہ اسی دوران سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے خود ہی مجھ سے کہا: اے سعد ! اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، میں نے دریافت کیا : اب وہ کہاں ہیں ؟ تو مقداد نے مجھے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ ہیں ، میں اُٹھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا ، جیسے مجھے کوئی اذیت لاحق نہیں ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! آج سارا دن تم کہاں رہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا ، میں نے تیراندازی شروع کی اور میں یہ کہہ رہا تھا : اے اللہ ! یہ وہ تیر ہے ، جو میں تیرے دشمن پر پھینک رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ رہے تھے : اے اللہ ! تو سعد کی دعا کو قبول فرما ! اے اللہ ! تو سعد کے نشانے کو ٹھیک رکھنا ، اے سعد ! تم تیر اندازی جاری رکھو ! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے جو بھی تیر پھینکا ، اُس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کہا: اے اللہ ! تو اس کے نشانے کو ٹھیک رکھنا اور اس کی دعا کو قبول کرنا ، اے سعد ! جاری رکھو ! یہاں تک کہ میرا ترکش خالی ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ترکش میرے آگے کر دیا آپ نے مجھے ایک تیر پکڑایا ، جس میں پر نہیں تھا ، تو اس کو چلانا ، دوسروں کی بہ نسبت زیادہ دشوار تھا ۔ زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس دن جتنے تیر پھینکے تھے ، ان کی تعداد ایک ہزار تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10078
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1789)»