مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا انْجَلَى النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ نَظَرْتُ فِي الْقَتْلَى فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا كَانَ لِيَفِرَّ ، وَلَا أَرَاهُ فِي الْقَتْلَى ، وَلَكِنْ أَرَى اللَّهَ غَضِبَ عَلَيْنَا بِمَا صَنَعْنَا فَرَفَعَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا لِي خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى أُقْتَلَ ، فَكَسَرْتُ جَفْنَ سَيْفِي ثُمَّ حَمَلْتُ عَلَى الْقَوْمِ فَرَجَوْا لِي ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن ، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکھر گئے ، تو میں نے مقتولین کو دیکھا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے ، میں نے سوچا ، اللہ کی قسم ! نہ تو آپ فرار ہوئے ہوں گے ، اور نہ ہی آپ مجھے مقتولین میں نظر آ رہے ہیں ، لیکن ہم نے جو کچھ کیا ہے ، مجھے لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے حوالے سے ہم پر غضب نازل کرے گا ، مجھے لگتا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر غضب نازل کیا ہے اور اپنے نبی کو اٹھا لیا ہے ، تو میرے لئے اس سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہے کہ میں لڑائی کرتا رہوں ، یہاں تک کہ قتل ہو جاؤں ، میں نے اپنی تلوار کی میان کو توڑ دیا ، پھر میں لوگوں پر حملہ آور ہوا ، وہ لوگ ادھر ادھر بکھرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان موجود تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان عقیلی ہے ، جسے ابوداؤد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔