مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
حدیث نمبر: 10071
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سِمَاكِ بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَا دُجَانَةَ يَوْمَ أُحُدٍ أَعْلَمَ بِعِصَابَةٍ حَمْرَاءَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُخْتَالٌ فِي مِشْيَتِهِ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ فَقَالَ : " إِنَّهَا مِشْيَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ إِلَّا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
خالد بن سلیمان بن عبدالله بن خالد بن سماک بن خرشہ ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ اُحد کے دن سرخ پٹی کا نشان بنایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا ، وہ دو صفوں کے درمیان اترا کر چل رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس قسم کی چال کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے ، لیکن اس طرح کی صورت حال کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔