حدیث نمبر: 10086
وَعَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا خَرَجَ إِلَى الْخَنْدَقِ جَعَلَ نِسَاءَهُ فِي أُطُمٍ يُقَالُ لَهُ : فَارِعٌ ، وَجَعَلَ مَعَهُنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَكَانَ حَسَّانُ يَطَّلِعُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا شَدَّ عَلَى الْمُشْرِكِينَ اشْتَدَّ مَعَهُ فِي الْحِصْنِ ، وَإِذَا رَجَعَ رَجَعَ وَرَاءَهُ ، قَالَتْ : فَجَاءَ أُنَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَبَقِيَ أَحَدُهُمْ فِي الْحِصْنِ حَتَّى أَطَلَّ عَلَيْنَا فَقُلْتُ لِحَسَّانَ : قُمْ إِلَيْهِ فَاقْتُلْهُ ، فَقَالَ : مَا ذَاكَ فِيَّ ، وَلَوْ كَانَ فِيَّ لَكُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَتْ صَفِيَّةُ رَأْسَهُ حَتَّى قَطَعَتْهُ ، فَلَمَّا قَطَعَتْهُ قَالَتْ : يَا حَسَّانُ ، قُمْ إِلَى رَأْسِهِ فَارْمِ بِهِ إِلَيْهِمْ وَهُمْ مِنْ أَسْفَلِ الْحِصْنِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ فِيَّ ، قَالَتْ : فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ فَرَمَيْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : قَدْ وَاللَّهِ عَلِمْنَا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ أَهْلَهُ خُلُوفًا لَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ ، وَتَفَرَّقُوا فَذَهَبُوا ، قَالَتْ : وَمَرَّ قِبَلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، كَأَنَّهُ كَانَ مُقْرِنًا قَبْلَ ذَلِكَ ، وَهُوَ يَقُولُ : ¤ مَهْلًا قَلِيلًا تُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ لَا بَأْسَ بِالْمَوْتِ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أُمِّ عُرْوَةَ بِنْتِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهَا ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کی طرف نکلے ، تو آپ نے خواتین کو ایک بلند عمارت میں ٹھہرا دیا ، جس کا نام ” فارغ “ تھا ، ان خواتین کے ساتھ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیتے رہتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کی طرف بڑھتے تو وہ بھی قلعے میں آگے ہو جاتے ، اور جب آپ پیچھے آتے تو وہ بھی پیچھے ہو جاتے ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ آئے اور ان میں سے ایک شخص چڑھ کر قلعے کی طرف آ گیا ، یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس پہنچ گیا ، میں نے حسان سے کہا: تم اُٹھ کر اس کے پاس جاؤ ، اور اسے قتل کر دو ، انہوں نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا اگر میں کچھ کر سکتا ہوتا ، تو میں اللہ کے رسول کے ساتھ چلا جاتا ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اس ( یہودی ) کے سر پر ضرب لگا کر اس کا سر کاٹ دیا ، جب انہوں نے اس کا سر کاٹ دیا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم اس کا سر اٹھاؤ اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دو ، وہ لوگ جو قلعے کے نیچے موجود ہیں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں یہ بھی نہیں کر سکتا ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اُس شخص کا سر پکڑا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہمیں یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے اہل خانہ کو ایسے حال میں نہیں چھوڑا کہ ان کے ساتھ کوئی نہ ہو ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ، اور چلے گئے ۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا ، یوں لگتا تھا جیسے ان کی کچھ عرصہ پہلے شادی ہوئی ہے اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” تھوڑی سی دیر میں اونٹ ، جنگ تک پہنچ جائے گا ، جب وقت آ جائے تو موت میں کوئی حرج نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے اسے اُم جعفر بنت زبیر کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (683)»