حدیث نمبر: 10076
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ : لَمَّا انْصَرَفَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقُلْتُ : كُنْ طَلْحَةَ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِإِنْسَانٍ خَلْفِي كَأَنَّهُ طَائِرٌ ، فَلَمْ أَشْعُرْ أَنْ أَدْرَكَنِي ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَإِذَا طَلْحَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ صَرِيعًا ، قَالَ : " دُونَكُمْ أَخُوكُمْ فَقَدْ أَوْجَبَ " ، فَتَرَكْنَاهُ وَأَقْبَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا قَدْ أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ سَهْمَانِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْزِعَهُمَا فَمَا زَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَسْأَلُنِي وَيَطْلُبُ إِلَيَّ حَتَّى تَرَكْتُهُ يَنْزِعُ أَحَدَ السَّهْمَيْنِ ، وَأَزَّمَ عَلَيْهِ بِأَسْنَانِهِ فَقَلَعَهُ ، وَابْتَدَرَتْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُسَكِّنِّي وَيَطْلُبُ إِلَيَّ أَنْ أَدَعَهُ يَنْزِعُ الْآخَرَ ، فَوَضَعَ ثَنِيَّتَهُ عَلَى السَّهْمِ وَأَزَّمَ عَلَيْهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ تَحَوَّلَ فَنَزَعَهُ ، وَابْتَدَرَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ، قَالَ : فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَهْتَمَ الثَّنَايَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے میرے والد نے یہ بات بیان کی ہے : ” جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ادھر ادھر ہو گئے ، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آنے والا سب سے پہلا فرد تھا ، میں نے ایک شخص کو دیکھا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لڑائی کر رہا تھا ، میں نے سوچا ، اللہ کرے یہ طلحہ ہو ، جب میں نے دیکھا تو ایک انسان میرے پیچھے بھی تھا ، وہ پرندے کی مانند تھا ، مجھے اندازہ نہیں ہوا اور وہ مجھ تک پہنچ گیا ، تو وہ ابوعبیدہ بن جراح تھے ، طلحہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے زخمی ہو چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے بھائی کو سنبھالو ! کیونکہ اس نے ( جنت ) واجب کر لی ہے ، ہم نے انہیں چھوڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر دو تیر لگے تھے ، میں نے انہیں الگ کرنے کا ارادہ کیا ، تو ابوعبیدہ نے مجھ سے یہی کہا: اور یہی مطالبہ کیا ( کہ میں انہیں یہ موقع دوں ) یہاں تک کہ میں نے انہیں موقع دیا کہ وہ دو میں سے ایک تیر نکال دیں ، انہوں نے اپنے دانتوں کے ذریعے اسے پکڑا اور اسے نکالا ، جس کے نتیجے میں ان کے سامنے کے دو دانتوں میں سے ایک ٹوٹ گیا ، پھر انہوں نے مجھ سے یہی درخواست کی اور یہی مطالبہ کیا کہ میں انہیں دوسرا تیر بھی نکالنے کا موقع دوں ، پھر انہوں نے اپنے سامنے کے دانت تیر پر رکھے اور انہیں دبایا ، اس بات کو ناگوار سمجھتے ہوئے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائیں اور پھر اسے بھی نکال لیا ، تو ان کے سامنے کے دونوں دانت ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو میں سے ایک دانت گر گیا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کے دانت نہیں تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن یحییٰ بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10076
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1791)»