کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 10099
عَنِ الزُّبَيْرِ - يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ - أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تَسْعَى حَتَّى كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى ، قَالَ : فَكَرِهَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَرَاهُمْ ، فَقَالَ : " الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ " ، قَالَ الزُّبَيْرُ : فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ قَالَ : فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا ، قَالَ : فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى ، قَالَ : فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي ، وَكَانَتِ امْرَأَةً جَلْدَةً ، قَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي لَا أَرْضَ لَكَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَزَمَ عَلَيْكِ ، قَالَ : فَوَقَفَتْ وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا ، فَقَالَتْ : هَذَانِ ثَوْبَانِ جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا ، قَالَ : فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ ، فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ ، فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ قَالَ : فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ يُكَفَّنَ حَمْزَةُ فِي ثَوْبَيْنِ وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ ، فَقُلْنَا : لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ ، وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ ، فَقَدَّرْنَاهُمَا فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنَ الْآخَرِ ، فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا ، فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ، ایک خاتون دوڑتی ہوئی آئی ، قریب تھا کہ وہ مقتولین کے پاس پہنچ جاتی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری کہ وہ خاتون مقتولین کو دیکھے ، آپ نے فرمایا : اس عورت کو پکڑو ! اس عورت کو پکڑو ! سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پہچان لیا کہ وہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، میں دوڑتا ہوا ، ان کے پاس گیا اور مقتولین تک پہنچنے سے پہلے میں اُن تک گیا ، انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا ، وہ مضبوط جسم کی مالک خاتون تھیں ، انہوں نے فرمایا : تم مجھ سے دور ہو جاؤ ! میں تم سے راضی نہیں ہوؤں گی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول نے آپ کو تاکید کی ہے ( کہ آپ آگے نہ جائیں ) راوی کہتے ہیں : تو وہ ٹھہر گئیں ، پھر انہوں نے اپنے پاس موجود ، دو کپڑے نکالے اور کہا: یہ دو کپڑے میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لے کر آئی ہوں ، مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ شہید ہو گئے ہیں ، انہیں ان دونوں میں کفن دینا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم وہ دو کپڑے لے کر آئے ، تاکہ ان میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیں ، تو ان کے پہلو میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شہید موجود تھا ، اُس کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا گیا تھا ، جس طرح کا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا ، تو ہمیں اس بات سے شرم اور حیاء آئی کہ ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیدیں اور انصاری کا کفن نہ ہو ، تو ہم نے یہ طے کیا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے ایک کپڑا ہو گا ، اور انصاری کے لئے ایک کپڑا ہو گا ، ہم نے ان دونوں کی پیمائش کی ، تو ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا ، تو ہم نے دونوں کے لئے اس کی قرعہ اندازی کر لی اور جس کے حصے میں جو کپڑ آیا تھا ، اُس کو اسی کپڑے میں کفن دیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10099
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (686) اخرجه احمد فى المسند (1418)»
حدیث نمبر: 10100
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَسْأَلُ مَا صَنَعَ ، فَلَقِيَتْ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَتْ : يَا عَلِيُّ ، وَيَا زُبَيْرُ ، مَا فَعَلَ حَمْزَةُ ؟ فَأَوْهَمَاهَا أَنَّهُمَا لَا يَدْرِيَانِ ، قَالَ : فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " إِنِّي أَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا " ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ ، ثُمَّ قَامَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " لَوْلَا جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ ، وَحَوَاصِلِ الطَّيْرِ " ، ثُمَّ أَتَى بِالْقَتْلَى فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ ، فَيُوضَعُ سَبْعَةٌ وَحَمْزَةُ فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، ثُمَّ يُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ مَكَانَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِتِسْعَةٍ فَكَبَّرَ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ رَوَى مُسْلِمٌ فِي مُقَدِّمَةِ كِتَابِهِ ، وَابْنُ مَاجَهْ قِصَّةَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ فَقَطْ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آئیں ، انہوں نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صورت حال کے بارے میں دریافت کیا ، اُن کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے علی ! اور اے زبیر ! حمزہ کا کیا حال ہے ؟ تو ان دونوں نے ان کے سامنے یہ ظاہر کیا کہ ان دونوں کو پتہ نہیں ہے راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اس عورت کی عقل کے حوالے سے اندیشہ ہے ( کہ کہیں یہ غم کی شدت کی وجہ سے ذہنی توازن نہ کھو بیٹھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے سینے پر رکھا ، تو اس خاتون نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور رونے لگیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور فرمایا : اگر خواتین کی گریہ وزاری کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں یوں ہی رہنے دیتا ، یہاں تک کہ درندوں کے پیٹوں سے ، اور پرندوں کے پیٹوں سے ، حشر کے دن انہیں اٹھا لیا جاتا ، پھر مقتولین کو لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کرنا شروع کی ، سات افراد کی میتیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رکھی جاتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سات تکبیریں کہتے تھے ، پھر دوسرے لوگوں کو اٹھا لیا جاتا تھا ، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت وہیں رہتی تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو افراد کو منگوایا اور ان پر سات تکبیریں کہیں ، یہاں تک کہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کی نماز جنازہ پڑھ کے فارغ ہوئے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام مسلم نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں ، اور امام ابن ماجہ نے صرف ان حضرات کی نماز جنازہ والا حصہ نقل کیا ہے ، اور امام بزار اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1796) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2934)»
حدیث نمبر: 10101
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتْلُ حَمْزَةَ بَكَى فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ شَهِقَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی ، تو آپ رو پڑے ، جب آپ نے اُن ( کی میت ) کو دیکھا ، تو آپ نے گہری سانس لی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد عقیل ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود ” حسن الحدیث “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1794)»
حدیث نمبر: 10102
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا جَرَّدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَمْزَةَ بَكَى ، فَلَمَّا رَأَى مِثَالَهُ شَهِقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَدَقَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے کپڑا ہٹایا ، تو آپ رو پڑے ، جب آپ نے ان کا مثلہ دیکھا تو آپ نے گہری سانس لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صدقہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10102
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1714) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2932)»
حدیث نمبر: 10103
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَعَزَّكَ اللَّهُ ، أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ ، فَانْطَلَقَ فَوَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ فَرَآهُ قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ وَوَقَفَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى ، وَقَالَ : " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ لُفُّوهُمْ بِدِمَائِهِمْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مَجْرُوحٌ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدْمِي لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ ، قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا ، وَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس نے حمزہ کی شہادت کی جگہ دیکھی ہے ؟ ایک صاحب نے عرض کی : اللہ تعالیٰ آپ کو عزت عطا کرے ! میں نے ان کی شہادت کی جگہ دیکھی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی ( میت ) کے پاس آ کر ٹھہر گئے ، جب آپ نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ، اور ان کے جسم کی بے حرمتی کی گئی تھی ، تو اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی بے حرمتی کی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھنے کو ناپسند کیا ، آپ مقتولین کے درمیان کھڑے ہوئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں کا گواہ ہوں ، تم انہیں ان کے خون میں ( یعنی خون آلود کپڑوں میں ) لپیٹ دو ! کیونکہ جس بھی زخمی کو ، اللہ کی راہ میں جو زخم لگتا ہے ، وہ شخص جب قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا ، جس کا رنگ خون کے رنگ جیسا ہو گا ، اور اس کی خوشبو ، مشک کی خوشبو جیسی ہو گی اور جس شخص کو زیادہ قرآن آتا ہو اسے ( قبلہ کی سمت میں ) آگے رکھنا اور ان کے لئے لحد تیار کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (82/19)»
حدیث نمبر: 10104
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حِينَ اسْتُشْهِدَ فَنَظَرَ إِلَى مَنْظَرٍ لَمْ يَنْظُرْ إِلَى مَنْظَرٍ أَوْجَعَ لِلْقَلْبِ مِنْهُ ، أَوْ أَوْجَعَ لِقَلْبِهِ مِنْهُ ، وَنَظَرَ إِلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ مَا عَلِمْتُ لَوَصُولًا لِلرَّحِمِ ، فَعُولًا لِلْخَيْرَاتِ ، وَاللَّهِ لَوْلَا حُزْنٌ مِنْ بَعْدِكَ عَلَيْكَ ، لَسَرَّنِي أَنْ أَتْرُكَكَ حَتَّى يَحْشُرَكَ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - أَمَا وَاللَّهِ ، عَلَى ذَلِكَ لَأُمَثِّلَنَّ بِسَبْعِينَ كَمِثْلَتِكَ " ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذِهِ السُّورَةِ ، وَقَرَأَ : ( وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَكَفَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمْسَكَ عَنْ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی لاش کے پاس آ کر ٹھہرے ، آپ نے جب یہ منظر ملاحظہ کیا ، تو آپ نے کوئی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا جو آپ کے دل کے لئے اس سے زیادہ تکلیف دہ ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کی بے حرمتی کی گئی ہے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو ! میرے علم کے مطابق آپ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے تھے ، بھلائی کے کام کرنے والے تھے ، اللہ کی قسم ! اگر مجھے آپ کے بعد لوگوں کے آپ کے حوالے سے غم کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں آپ کو یوں ہی چھوڑ دیتا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں کے پیٹوں میں سے ، آپ کو حشر کے دن اُٹھاتا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! اس کے بدلے میں ، میں ستر افراد کا مثلہ کروں گا ، جو آپ کے مثلہ کی مانند ہو گا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ سورت لے کر نازل ہوئے ، انہوں نے یہ آیت پڑھی : ” اور اگر تم سزا دیتے ہو تو اتنی ہی دو ، جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر اپنی قسم کا ) کفارہ دیا اور اس سے رک گئے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1795)»
حدیث نمبر: 10105
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعَدِيِّ قَالَ : أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَجَعَلُوا يَجُرُّونَ النَّمِرَةَ عَلَى وَجْهِهِ فَتَنْكَشِفُ قَدَمَاهُ ، وَيَجُرُّونَهَا عَلَى قَدَمَيْهِ فَيَنْكَشِفُ وَجْهُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوهَا عَلَى وَجْهِهِ ، وَاجْعَلُوا عَلَى قَدَمَيْهِ مِنْ هَذَا الشَّجَرِ " ، قَالَ : فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ ، فَإِذَا أَصْحَابُهُ يَبْكُونَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَخْرُجُونَ إِلَى الْأَرْيَافِ فَيُصِيبُونَ بِهَا مَطْعَمًا وَمَسْكَنًا وَمَرْكَبًا - أَوْ قَالَ : مَرَاكِبَ - فَيَكْتُبُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ، فَإِنَّكُمْ بِأَرْضِ حِجَازٍ جَدْوَبَةٍ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس موجود تھا لوگ چادر ان کے چہرے پر ڈالتے تھے ، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ، لوگ چادر کو کھینچ کر ان کے پاؤں پر ڈالتے تھے ، تو چہرہ ظاہر ہو جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس چادر کو ان کے چہرے پر ڈال دو اور ان کے پاؤں پر اس درخت کے ( پتے ) ڈال دو ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا ، تو آپ کے اصحاب رو رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ جب وہ خوشحال علاقوں کی طرف چلے جائیں گے ، وہاں انہیں کھانے کے لئے رہائش کے لئے سواری کے لئے چیزیں ملیں گی ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں ، راوی کو شک ہے ) وہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھیں گے ، تم بھی ہماری طرف آ جاؤ ! کیونکہ حجاز کی سرزمین تو خشک سالی والی ہے ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر انہیں علم ہو ، یہاں کی سختی اور شدت پر جو شخص صبر کرے گا ، میں قیامت کے دن اس کا شفاعت کرنے والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا گواہ ہوؤں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2939)»
حدیث نمبر: 10106
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ يَدْفِنُهُ ، فَلُفَّ فِي نَمِرَةٍ فَبَدَتْ قَدَمَاهُ ، حِينَ خَمَّرُوا رَأْسَهُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَرْمَلِ فَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ ، وَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ يَحْزَنَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ، لَتَرَكْنَا حَمْزَةَ بِالْعَرَاءِ لِعَافِيَةِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ، آپ انہیں دفن کروانے لگے تھے ، انہیں چادر میں لپیٹا گیا ، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو گئے ، اس وقت جب لوگوں نے ان کے سر کو ڈھانپا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمل ( یعنی گھاس یا پتوں ) کے بارے میں حکم دیا وہ ان کے قدموں پر ڈال دی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر خواتین کے اس حوالے سے غمگین ہونے کا اندیشہ ہوتا ، تو ہم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے یوں ہی چھوڑ دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10106
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 10107
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى حَمْزَةَ نَظَرَ إِلَى مَا بِهِ ، فَقَالَ : " لَوْلَا أَنْ يَحْزَنَ نِسَاؤُنَا مَا غَيَّبْتُهُ ، وَلَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَكُونَ فِي بُطُونِ السِّبَاعِ وَحَوَاصِلِ الطَّيْرِ ، يَبْعَثُهُ اللَّهُ مِمَّا هُنَالِكَ " ، قَالَ : وَأَحْزَنَهُ مَا رَأَى بِهِ ، فَقَالَ : " لَئِنْ ظَفِرْتُ بِهِمْ لَأُمَثِّلَنَّ بِثَلَاثِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ذَلِكَ : ( وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( يَمْكُرُونَ ) ¤ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَهُيِّئَ إِلَى الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ كَبَّرَ عَلَيْهِ تِسْعًا ، ثُمَّ جَمَعَ إِلَيْهِ الشُّهَدَاءَ ، كُلَّمَا أُتِيَ بِشَهِيدٍ وُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَعَلَى الشُّهَدَاءِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ صَلَاةً ، ثُمَّ قَامَ عَلَى أَصْحَابِهِ حَتَّى وَارَوْهُمْ ، وَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ عَفَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَجَاوَزَ وَتَرَكَ الْمِثْلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور آپ نے ان کی صورت حال ملاحظہ فرمائی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اگر ہماری خواتین کے غمگین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں نے انہیں دفن نہیں کرنا تھا ، میں نے انہیں یوں ہی چھوڑ دینا تھا ، یہاں تک کہ انہوں نے درندوں کے پیٹوں میں اور پرندوں کے پیٹوں میں چلے جانا تھا ، اور وہاں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کرنا تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صورت حال ملاحظہ فرمائی تھی ، اس نے آپ کو نمگین کر دیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے ان لوگوں کے خلاف کامیابی حاصل کر لی ، تو میں اُن کے تیس افراد کا مثلہ کروں گا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی ہے : ” اور اگر تم سزا دیتے ہو تو اتنی ہی دو ، جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ، اور اگر تم صبر کرو تو وہ ( یعنی صبر کرنا ) صبر کرنے والوں کے لیے زیادہ بہتر ہے “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” یمکرون “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا ، انہیں قبلہ کی سمت میں رکھا گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نو مرتبہ تکبیر کہی پھر دیگر شہداء کو لا کر اُن کے ساتھ رکھا جاتا تھا ، جب بھی کسی شہید کو لایا جاتا تھا ، تو اسے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی دیگر شہداء سمیت بہتر مرتبہ نماز جنازہ ادا کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور آپ نے ان سب حضرات کو دفن کروایا ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ( جب قرآن کا حکم نازل ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر سے کام لیا اور مثلہ کرنے کے فیصلے کو ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ایوب بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11051)»
حدیث نمبر: 10108
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقُتِلَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَجَاءَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِثَوْبَيْنِ لِيُكَفَّنَ فِيهِمَا حَمْزَةُ ، فَلَمْ يَكُنْ لِلْأَنْصَارِيِّ كَفَنٌ فَأَسْهَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ ، ثُمَّ كُفِّنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ثَوْبٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی شہید ہو گیا ۔ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ دو کپڑے لے کر آئیں ، تاکہ ان میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیا جائے ، لیکن انصاری کے لئے کوئی کفن نہیں تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کپڑے دو حصوں میں تقسیم کیے اور ان دونوں حضرات میں سے ہر ایک کو ایک ، ایک کپڑے میں کفن دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12152)»
حدیث نمبر: 10109
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أُحُدٍ سَمِعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ ، فَقَالَ : " لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بِوَاكِيَ لَهُ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَبَكَيْنَ حَمْزَةَ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُنَّ يَبْكِينَ فَقَالَ : " يَا وَيْحَهُنَّ ، مَا زِلْنَ يَبْكِينَ مُنْذُ الْيَوْمِ فَلْيَبْكِينَ ، وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد سے واپس تشریف لائے ، تو آپ نے انصار کی خواتین کو روتے ہوئے سنا ، تو ارشاد فرمایا : لیکن حمزہ کے لئے رونے والی خواتین کہاں ہیں ؟ جب انصار کی خواتین کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو وہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے بھی روئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے تھے ، جب آپ بیدار ہوئے ، تو خواتین اس وقت بھی رو رہیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا ستیاناس ہو ! یہ مسلسل روئے جا رہی ہیں یہ روتی رہیں ، لیکن آج کے بعد یہ کسی کے مرنے پر نہ روئیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10109
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3610 و 3576) اخرجه احمد فى المسند (40/2)»
حدیث نمبر: 10110
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أُحُدٍ بَكَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ عَلَى شُهَدَائِهِمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بِوَاكِيَ لَهُ " ، فَرَجَعَتِ الْأَنْصَارُ ، فَقَالُوا لِنِسَائِهِمْ : لَا تَبْكِينَ أَحَدًا حَتَّى تَنْدِبْنَ حَمْزَةَ ، قَالَ : فَذَاكَ فِيهِمْ إِلَى الْيَوْمِ لَا يَبْكِينَ مَيِّتًا إِلَّا بَدَأْنَ بِحَمْزَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مُطِيعٍ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد سے واپس تشریف لائے ، تو انصار کی خواتین اپنے شہداء پر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : لیکن حمزہ کے لئے رونے والیاں نہیں ہیں ، تو انصار واپس گئے انہوں نے اپنی خواتین سے کہا: تم نے کسی پر بھی اُس وقت تک نہیں رونا ، جب تک پہلے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پر نہیں روتیں ۔ راوی کہتے ہیں : اُس وقت سے لے کر آج تک یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ وہ خواتین جب بھی کسی میت پر روتی ہیں ، تو آغاز سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن مطیع شیبانی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6)»
حدیث نمبر: 10111
وَعَنْ وَحْشِيٍّ قَالَ : لَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ قَتْلِ حَمْزَةَ تَفَلَ فِي وَجْهِي ثَلَاثَ تَفَلَاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " لَا تُرِينِي وَجْهَكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَالنَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینے کے بعد ، جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ نے میرے چہرے پر تین مرتبہ تھوک دیا ، پھر فرمایا : ( آئندہ کبھی ) تم اپنی شکل مجھے نہ دکھانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی ( اسے ثقہ قرار دیا ہے ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (139/22)»
حدیث نمبر: 10112
وَعَنْ وَحْشِيٍّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " وَحْشِيٌّ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَتَلَتْ حَمْزَةَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَهُ بِيَدِي وَلَمْ يُهِنِّي بِيَدِهِ ، قَالَتْ لَهُ قُرَيْشٌ : أَتُحِبُّهُ وَهُوَ قَاتِلُ حَمْزَةَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاسْتَغْفِرْ لِي ، فَتَفَلَ فِي الْأَرْضِ ثَلَاثَةً ، وَدَفَعَ فِي صَدْرِي ثَلَاثَةً ، وَقَالَ : " وَحْشِيٌّ ، اخْرُجْ فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا قَاتَلْتَ لِتَصُدَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِ وَحْشِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم وحشی ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے دریافت کیا : تم نے حمزہ کو قتل کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! ہر طرح کی حمد ، اُس اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میرے ذریعے انہیں ( شہادت کی موت کی شکل میں ) عزت عطا کی ، اور اُن کے ذریعے مجھے ( کفر کے عالم میں مارے جانے کی ) رسوائی کا شکار نہیں کیا ۔ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ اسے پسند کریں گے ؟ جبکہ یہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر تین مرتبہ تھوکا اور پھر میرے سینے پر ہاتھ مار کر تین مرتبہ پرے کیا اور ارشاد فرمایا : اے وحشی جاؤ ! اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ! جس طرح تم نے پہلے اس لئے لڑائی کی تھی ، تاکہ اللہ کی راہ سے روک دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کا ایک اور طریق ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے ، وہ سیدنا وحشی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1821) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (139/22)»