مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
حدیث نمبر: 10089
وَعَنْ عُقْبَةَ مَوْلَى جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : شَهِدْتُ أُحُدًا مَعَ مَوَالِي ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَمَّا قَتَلْتُهُ ، قُلْتُ : خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْفَارِسِيُّ ، فَلَمَّا بَلَغَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا قُلْتَ خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ ؟ فَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ کے غلام عقبہ بیان کرتے ہیں : میں ، کچھ غلاموں کے ہمراہ غزوہ احد میں شریک ہوا ، میں نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر ضرب لگائی ، جب میں نے اسے قتل کر دیا ، تو میں نے کہا: لو میری طرف سے اسے سنبھالو ! میں ایک فارسی شخص ہوں ، جب اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم نے یہ کیوں نہیں کہا ؟ لو اسے سنبھالو ! میں ایک انصاری نوجوان ہوں ، کیونکہ قوم کا غلام اُن کا حصہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔