مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : اجْتَمَعْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي بِالْمَدِينَةِ - حَتَّى كَثُرَتِ الْقَتْلَى فَصَرَخَ صَارِخٌ : قَدْ قُتِلَ مُحَمَّدٌ ، فَبَكَيْنَ نِسْوَةٌ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ : لَا تُعَجِّلْنَ بِالْبُكَاءِ حَتَّى أَنْظُرَ ، فَخَرَجَتْ تَمْشِي لَيْسَ لَهَا هَمٌّ سِوَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُؤَالٍ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صَفْوَانَ وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ، مدینہ منورہ میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی بھی مدینہ میں باقی نہیں رہا تھا ، مقتولین کی تعداد زیادہ ہو گئی ، تو کسی نے چیخ کر کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل ہو گئے ہیں ، خواتین رونے لگیں ، ایک عورت نے کہا: تم رونے میں جلدی نہ کرو ! جب تک میں پہلے جائزہ نہیں لے لیتی ، وہ خاتون چلتی ہوئی نکلیں ، اُسے اللہ کے رسول اور آپ کے بارے میں دریافت کرنے کے علاوہ اور کوئی پریشانی نہیں تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صفوان ہے اور وہ مجہول ہے ۔