کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: غزوہ احد کے موقع پر کن لوگوں کو کمسن قرار دیا گیا تھا
حدیث نمبر: 10060
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّهُ وَاسْتَصْغَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ عَمِّي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ رَامٍ فَأَخْرِجْهُ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فِي صَدْرِهِ أَوْ نَحْرِهِ فَأَتَى عَمُّهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ أَخِي أُصِيبَ بِسَهْمٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ تَدَعْهُ فِيهِ فَيَمُوتُ مَاتَ شَهِيدًا " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ : وَحَدَّثَتْنِي امْرَأَتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَرَاهُ يَغْتَسِلُ فَيَتَحَرَّكُ فِي صَدْرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَتَمُّ مِنْ هَذِهِ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ غزوہ اُحد کے موقع پر نکلے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس کرنے کا ارادہ کیا اور انہیں کمسن قرار دیا ، راوی کہتے ہیں : تو میرے چچا نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تیر انداز ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت دیدی ، تو ان کے سینے میں یا گردن پر ایک تیر لگا ، اُن کے چچا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : میرے بھتیجے کو تیر لگا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اُسے ایسی حالت میں چھوڑ دو اور یہ مر جائے ، تو یہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ۔ عبداللہ بن حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں : ان کی اہلیہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ خاتون اس تیر کو دیکھا کرتی تھیں کہ جب وہ صاحب غسل کر رہے ہوتے تھے ، تو ان کے سینے میں وہ تیر حرکت کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ اس صحابی کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کا ایک اور طریق بھی ہے ، جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور وہ اس صحابی کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گا ۔
حدیث نمبر: 10061
وَعَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ قَالَ : اسْتَصْغَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ لَهُ عَمُّهُ أُسَيْدُ بْنُ ظُهَيْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ رَامٍ ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فِي لَبَّتِهِ ، فَجَاءَ بِهِ عَمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ ابْنَ أَخِي أَصَابَهُ سَهْمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تُخْرِجَهُ أَخْرَجْنَاهُ ، وَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَدَعَهُ فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ وَهُوَ فِيهِ مَاتَ شَهِيدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اُسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کمسن قرار دیا ، تو ان کے چچا سیدنا اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص تیر انداز ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، ایک تیر ان کے گلے پر لگا ان کے چچا انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی : میرے بھتیجے کو تیر لگ گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم یہ پسند کرو کہ اس کو نکلوا دو ، تو ہم اسے نکال دیتے ہیں اور اگر تم پسند کرو تو اسے ایسے ہی رہنے دو ، کیونکہ ایسی صورت میں یہ جب بھی مرے گا ، اور اُس وقت یہ تیر اس کے اندر ہو گا ، تو یہ شہید ہونے کے طور پر مرے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10062
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ : اسْتَصْغَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ جَارِيةَ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، وَسَعْدُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عُمَرَ ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعُثْمَانِيُّ ، ولَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افراد کو کمسن قرار دیا ، ان میں ایک سیدنا زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ یعنی راوی خود تھے ، سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ، اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن یعقوب عثمانی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن یعقوب عثمانی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10063
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جَارِيةَ قَالَ : اسْتَصْغَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افراد کو محسن قرار دیا تھا ، ان میں سے ایک سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10064
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : عُرِضْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَصْغَرَنَا ، وَشَهِدْنَا أُحُدًا ، قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَشَهِدْنَا أُحُدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ، مجھے اور عبداللہ بن عمر کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ، تو آپ نے ہمیں کمسن قرار دیا ، پھر ہم غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر ہم غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” پھر ہم غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔