حدیث نمبر: 10096
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَمَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَمِئَةَ بِحَجَرٍ يَوْمَ أُحُدٍ فَشَجَّهُ فِي وَجْهِهِ ، وَكَسَرَ رُبَاعِيَّتَهُ ، وَقَالَ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ قَمِئَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ : " مَا لَكَ أَقْمَأَكَ اللَّهُ ؟ " فَسَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ تَيْسَ جَبَلٍ فَلَمْ يَزَلْ يَنْطَحُهُ حَتَّى قَطَّعَهُ قِطْعَةً قِطْعَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن ، عبداللہ بن قمئہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا ، جس سے آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے ، اس نے کہا: اسے سنبھالو ! میں ابن قمئہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے اس سے فرمایا : تمہارا کیا بنے گا ؟ اللہ تعالیٰ تمہارے ٹکڑے ، ٹکڑے کر دے گا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ نے اُس پر پہاڑی بکرے کو مسلط کیا ، جو مسلسل اُسے سینگ مارتا رہا ، یہاں تک کہ اس ( بکرے ) نے اس کے ٹکڑے ، ٹکڑے کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7596)»