مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
حدیث نمبر: 10085
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا قَتَلَ عَلِيٌّ أَصْحَابَ الْأَلْوِيَةِ ، قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ لَهِيَ الْمُوَاسَاةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " قَالَ جِبْرِيلُ : وَأَنَا مِنْكُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے علم برداروں کو قتل کر دیا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! یہ بھائی چارہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، سیدنا جبرائیل نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ دونوں سے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، محمد بن عبیداللہ بن ابورافع ، جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔