مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : فَلَمَّا كَانَ عَامُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ ، فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ ، وَفَرَّ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكُسِرَتْ رُبَاعِيَّتُهُ ، وَهُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ ، وَسَالَ الدَّمُ عَلِي ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) بِأَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثِ عُمَرَ الَّذِي فِي الصَّحِيحِ فِي مَسْنَدِهِ الْكَبِيرِ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اگلے سال غزوہ اُحد کا موقع آیا ، تو انہوں نے غزوہ بدر میں فدیہ وصول کرنے کے حوالے سے جو کچھ کیا تھا ، اس کی انہیں سزا دی گئی ، ان میں سے ستر افراد قتل ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کو چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک زخمی ہو گئے ، آپ کا خود سر میں کھب گیا آپ کا خون بہتا ہوا منہ پر آ گیا ، اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا جب تمہیں ایک مصیبت لاحق ہوئی ، جبکہ تم ( اس سے پہلے دشمن کو ) دُگنا نقصان پہنچا چکے تھے ، تو تم نے کہا: یہ کہاں سے آ گئی ؟ ( اے رسول ! ) تم فرما دو ! یہ تمہاری اپنی طرف ( یعنی تمہاری اپنی وجہ ) سے ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “ یعنی تم لوگوں نے جو فدیہ وصول کیا تھا ، یہ اُس کی وجہ سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول آخری حدیث کے طور پر نقل کی ہے ، جو ان کی بڑی ” مسند “ میں ” صحیح “ میں ہے ۔