حدیث نمبر: 10072
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ كُنَّ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ يُجْهِزْنَ عَلَى قَتْلَى الْمُشْرِكِينَ فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ : إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ : مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَصَوْا مَا أَمَرَ بِهِ ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي تِسْعَةٍ : سَبْعَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَرَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَهُوَ عَاشِرُهُمْ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ ، فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا " ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَاحِبَيْهِ : " مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا " ، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ : اعْلُ هُبَلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ " فَقَالُوا : اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ ، فَـقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَنَا عُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولُوا : " اللَّهُ مَوْلَانَا وَالْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ ، يَوْمٌ لَنَا وَيَوْمٌ عَلَيْنَا ، وَيَوْمٌ نُسَاءُ ، وَيَوْمٌ نُسَرُّ ، حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَوَاءً ، أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ ، وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ " ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ ; فَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَأٍ مِنَّا ، مَا أَمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ ، وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ ، وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي ، قَالَ : فَنَظَرُوا ، فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ ، وَأَخَذَتْ هِنْدٌ كَبِدَهُ ، فَلَاكَتْهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكَلَتْ مِنْهَا شَيْئًا ؟ " ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : " مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ " ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ وَتُرِكَ حَمْزَةُ ثُمَّ جِيءَ بِآخَرٍ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَفَعَ وَتَرَكَ حَمْزَةَ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ؛ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں ، وہ مشرکین کے مقتولین کا سامان اکٹھا کرتی تھیں ، اگر میں اس دن کے بارے میں یہ حلف اٹھاؤں ، تو مجھے یہ امید ہے کہ میں سچا ہوؤں گا کہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی دنیا کی طلب نہیں تھی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” تم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں ، جو دنیا کا ارادہ رکھتے ہیں اور تم میں سے کچھ وہ ہیں ، جو آخرت کا ارادہ رکھتے ہیں ، پھر اس نے تم کو ان لوگوں سے پھیر دیا ، تاکہ وہ تمہیں آزمائش کا شکار کرے “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے آپ کے حکم برخلاف کیا اور جو حکم انہیں دیا گیا تھا ، اس کی نافرمانی کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نو افراد کے درمیان تنہا رہ گئے ، جن میں سے سات کا تعلق انصار سے تھا ، اور دو کا تعلق قریش سے تھا ، اور دسویں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، جب دشمن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو دشمن کو ہم سے پرے تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اُٹھا ، اس نے گھڑی بھر کے لئے لڑائی کی اور شہید ہو گیا ، پھر جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا ڈال دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو انہیں ہم سے پرے کرے ، آپ یہ مسلسل ارشاد فرماتے رہے ، یہاں تک کہ سات افراد شہید ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ساتھیوں سے فرمایا : ہمارے ساتھیوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا ہے ، پھر ابوسفیان آیا اور بولاہبل برتر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ بلند و برتر اور جلیل القدر ہے ، ابوسفیان ( جو کفار کا سردار تھا ) اس نے کہا: ہمارے پاس عزی ہے ، تمہارے پاس عزیٰ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہ کہو : اللہ تعالیٰ ہمارا مولی ہے اور کافروں کا کوئی مولی ( مددگار ) نہیں ہے پھر ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے ، ایک دن ہمارے حق میں ہوا ، اور ایک دن ہمارے خلاف ہوا ، ایک دن ہمیں اچھا نہیں لگا تھا ، اور ایک دن ہم خوش ہوئے ہیں ، حنظلہ کا بدلہ حنظلہ ہے ، فلاں کا بدلہ فلاں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دونوں برابر نہیں ہیں ، ہمارے مقتولین زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے ، اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں اور انہیں عذاب دیا جاتا ہے ابوسفیان نے کہا: کچھ لوگوں نے ( آپ کے افراد ) کا مثلہ کیا ہے ، اگرچہ یہ ہمارے بڑوں کے مشورے سے نہیں ہوا ، میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا ، اور اس سے منع بھی نہیں کیا ، میں اس کو پسند بھی نہیں کرتا اور مجھے یہ ناگوار بھی نہیں گزرا ، اور مجھے یہ برا بھی نہیں لگا ، اور اس نے مجھے خوش بھی نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بات کا جائزہ لیا ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ چیر دیا گیا تھا ، اور ہند نے ان کا کلیجہ نکال کر اسے چبایا تھا ، وہ اسے کھا نہیں سکی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا ، لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حمزہ کے کسی حصے کو ، آگ میں داخل نہیں کرنا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رکھا اور ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو لایا گیا اور انہیں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر انصاری کی میت کو اٹھا لیا گیا ، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رہنے دیا گیا ، پھر ایک اور شخص کو لایا گیا اور اسے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی نماز جنازہ ادا کی ، پھر اس ( دوسرے ) شخص کی میت کو اٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت کو رہنے دیا گیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس دن ستر مرتبہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10072
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4414)»